... loading ...
ڈالر نے پھر پاکستانی روپے کودھوبی پٹکا دے مارا۔یہ خبر ہر چینل پرتڑکے لگاکر چلائی جا رہی ہے۔اخبارات چیخ رہے ہیں ڈالر بے لگام ہوگیا ، سٹہ باز میدان میں آگئے، منی چینجرز راتوں رات لکھ پتی سے کروڑ پتی بن گئے۔ ڈالر کی قدر مارکیٹ میں بڑھتے دیکھ کر ڈالر مافیا سرگرم ہوگیا۔۔ملک میں اتنا شور شرابا مچا کہ خداکی پناہ لیکن آفرین ہے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور حکومت پاکستان پر کہ چپ سادھ رکھی ہے۔ کسی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہورہی۔ ملک میں ڈالر کی بڑھتی قیمت کی وجہ برآمدات میں اضافے کی کوششیں بتائی جا رہی ہے۔
جب ملک میں ڈالر ساٹھ روپے ہوا تو حکومت کی طرف سے کہا گیا برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ جب ڈالر سو روپے کا کیا گیا تو بھی کہا گیا کہ ملک کی ایکسپورٹ بڑھے گی اور ڈالر ملک میں آئیں گے۔ اب ڈالر ایک سو دس روپے سے بھی تجاوز کرگیا ملک کی ایکسپورٹ تو نہ بڑھی ہاں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ بے قدر ہوگیا اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی اسٹیٹ بنک خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ سوال اٹھایا گیاکہ روپے کو اس کی اصل قیمت پرواپس لانے کیلیے عدلیہ یا فوج کو میدان میں آنا پڑے گا؟۔مسئلے کاایک ہی حل نظر آرہاہے کہ یا تو عدلیہ سوموٹو ایکشن لے اسٹیٹ بنک سمیت منی چینجرز کے نمائندوں کو عدالت میں طلب کرے یا پھر فوج کمانڈو ایکشن کرے تاکہ راتوں رات ڈالرکو نایاب کرنے والے بے نقاب ہوسکیں۔
کرنسی مافیا نے خاموشی سے ڈالر کے ریٹ بڑھا دیئے برسراقتدار پارٹی کے سربراہ اور ان کی ٹیم کے ارکان سیاسی الجھنوں میں الجھے ہوئے کرنسی پر نظر رکھنے والا کوئی والی وارث نہیں ہے کرنسی مافیاکیخلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا ایسے میں سابق صدر پرویز مشرف کا دور یاد آتاہے جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو کرنسی مافیا نے ساٹھ روپے کا ڈالر سو روپے میں پہنچا دیا تھا ایسے میں پرویز مشروف نے کرنسی مارکیٹ بند کردی اس کے بعد کرنسی ڈیلرز نے یقین دہانی کرائی کے ڈالر کو اس کے اصل ریٹ پر لایا جائے اور ڈالر ساٹھ روپے پر آگیا۔۔ جب تک پرویز مشرف برسراقتدار رہے ڈالر اپنی جگہ منجمد رہا۔۔۔ کیا وجہ ہے کہ اوپن مارکیٹ میں اسٹیٹ بنک ڈالر کو بڑھنے سے نہیں روک سکتا منی چینجرز نے خاموشی سے ڈالر ایک سو سات روپے سے بھی اوپر پہنچا دیا۔
ادھر روپے کی قدر میں 5 فیصد سے زائد کمی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ، ادائیگیوں کا توازن بگڑنے سے درآمدات میں مسلسل اضافے اور برآمدات میں کمی دیکھی گئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جولائی میں اچانک ایک دن میں روپے کی قدر میں 3 روپے 50 پیسے کی گراوٹ دیکھی گئی، جولائی میں انٹربینک میں ایک امریکی ڈالر 108 روپے 50 پیسے تک جا پہنچا تاہم وزیر خزانہ کے نوٹس لینے پر 2 سے 3 روز میں نیچے آگیا تھا اس کے بعد نومبر تک روپے کی قدر میں استحکام رہا۔ دوسری جانب ادائیگیوں کا توازن بگڑنے سے درآمدات میں مسلسل اضافے اور برآمدات میں کمی دیکھی گئی۔دسمبر میں ایک بار پھر کرنٹ اکانٹ خسارے کے دبا نے اپنا اثر دکھایا، اس بار انٹربینک میں روپے کی قدر میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور ڈالر 5 روپے مہنگا ہوکر بلند ترین سطح 110 روپے 50 پیسے پر جاپہنچا۔درآمدکنندگان نے کہا ہے کہ اس سے درآمدی اشیا مہنگی ہوں گی اور بوجھ عوام کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ صنعتکاروں نے کہا ہے کہ اگر ڈالر مہنگا کرنا ہی ہے تو حکومت ایک مربوط پالیسی مرتب کریتاکہ روپے کی قدر میں گراوٹ کا اثر کو کم کیا جاسکے ۔
اوپن مارکیٹ جہاں سے اربوں ڈالرز ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے غیرقانونی طور پر پاکستان سے باہر بھیجے گئے کئی منی چینجرز اس غیرقانونی کام میں پیش پیش رہے اور ماضی میں کئی منی چینجرز حوالہ کیس میں گرفتار بھی ہوئے۔ آئے دن ملک کے کسی نہ کسی ائیر پورٹ پر کرنسی اسمگلنگ کے الزام میں کوئی نا کوئی مسافر پکڑا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسافر کے پاس اتنی کرنسی آتی کہاں سے ہے ، اسمگلرز نے بھاری مقدار میں غیر ملکی کرنسی کہاں سے خریدی اور یہ کس کی ملکیت ہے۔ کیا اسمگلرز نے یہ کرنسی بینکوں سے جمع کی یا اس ساری کارستانی کے پیچھے منی چینجرز مافیا ہے۔ کرنسی مافیا بڑے فخر سے کہتی ہے ہم حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں سب کو پتہ ہے کہ حکومت کو کرنسی ایکسچینج سے ٹیکس اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ملتا ہے اور حکومت اور عوام کو نقصان ملک میں مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ملک میں بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی اشیاء کے دام آسمان پرپہنچ جاتے ہیں ۔ عوام کوشدید مشکلات کاسامنا کرناپڑتاہے۔
ملک سے غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ روکنے کے لیے منی چینجرز پر پابندی لگادی جائے ماضی میں بھی پاکستان میں عوامی سطح پر ڈالر کی خرید و فروخت غیر قانونی تھی منی چینجرز نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔جس کو ڈالرز کی ضرورت ہوتی تھی بینک سے لیتا تھا اگر بینک کے پاس ڈالرز نہیں ہوتے تھے تو ٹریولز چیک ملتے تھے غرض یہ کہ ملک سے باہر جانے والے کو ڈالر مل جاتے تھے۔
اسٹیٹ بینک اور حکومت کو چاہیئے کہ ڈالرز پرکنٹرول کرنے کے لیے منی چینجرز پر فوری پابندی لگائے اور ملک سے باہر جانے والوں کو ویزا دیکھ کر اس کی ضرورت کے مطابق کیش ڈالرز یا ٹریول چیک دے تاکہ
ملک میں ڈالرز کی بلیک میلنگ ختم ہوسکے اگر حکومت اور اسٹیٹ بینک نے ڈالر مافیا پر گرفت مضبوط نہ کی تو کوئی بعید نہیں کہ ڈالر کی بلند پرواز ملک کے لیے سنگین بحران پیدا کر دے۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...