وجود

... loading ...

وجود

افغانستان میں قدم جمانے کے لئے امریکا پاکستان کا محتاج‘ طالبان سے مذاکرات کے لئے بے چینی کا مظاہرہ

منگل 31 اکتوبر 2017 افغانستان میں قدم جمانے کے لئے امریکا پاکستان کا محتاج‘ طالبان سے مذاکرات کے لئے بے چینی کا مظاہرہ

امریکیوں کا مسئلہ کیا ہے؟ ایک جانب تو وہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری افغانستان کی جنگ ختم نہیں کرسکے اور سیکڑوں ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود بھی مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کرپائے اور دوسرا وہ اپنے عوام کو مطمئن نہیں کرپائے۔ اس عرصہ میں نہ صرف امریکی یہاں پھنس گئے ہیں، بلکہ خطہ میں نئی تبدیلیوں کو ہوتا دیکھنے کے باوجود اس میں اپنے لیے کوئی جگہ نہیں بناسکے۔ چنانچہ ٹرمپ انتظامیہ کے ہیجان خیز بیانات اپنی جگہ امریکا کو خطہ میں فوری طور پر کوئی کامیابی چاہئے تاکہ توہ اطمینان سے افغانستان میں کم خرچ موجودگی کے ذریعہ مستقبل کی نقشہ گری کرسکیں، اس کام کے لیے انہیں پاکستان کی ضرورت ہے اور انہیں خود بھی علم ہے کہ پاکستان کی سنجیدہ اور فعال کارکردگی کے بغیر وہ کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ اب یہ بات وہ کھل کر نہیں کہتے جس کی مختلف وجوہات ہیں جس میں اولین وہ سپر پاور ہونے کا غرور ہے، جو اسے یہ کہنے سے روکتا ہے۔ اب پاکستان کو فوجی و دیگر امداد روکنے اور دیگر مختلف اقسام کی دھمکیاں بھی کارگر نہیں ہوئیں الٹا پاکستان جیسا کمزور اور تابعدار ملک اپنی دم پر کھڑا ہوگیا ہے۔ چنانچہ اب امریکی تقریباً گھگھیانے پر آگئے ہیں کہ بھائی خدا کے واسطے یہ طالبان کو ہمارے ساتھ کم از کم میز پر بٹھا دو ہم تمہیں یہ دیں گے اور وہ دیں گے۔ قطر میں طالبان کا دفتر کھلواکر پاکستان سے بالا ہی بالا طالبان سے بات چیت اور لودو کا معاملہ بھی بری طرح فلاپ ہوگیا ہے۔گزشتہ ہفتہ امریکی وزیر خارجہ کو نہایت سرد رویے کے ذریعہ پاکستان نے جو مقاصد حاصل کرنے تھے وہ حاصل ہوچکے ہیں۔اب ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ایسے اقدامات شروع ہوچکے ہیں جن کے ذریعہ ایک جانب خطہ میں امن کی صورتحال بہتر کی جائے، بلکہ خود امریکہ کو بھی ریلیف دیا جائے۔ گزشتہ سال کابل سے اغواء ہونے والی امریکن یونیورسٹی کے دوپروفیسرز کی خراب صورتحال کے حوالہ سے حقانی نیٹ ورک طالبان نے پیر کے روز جو بیان جاری کیا ہے وہ اس گروپ کی جانب سے کسی قدر نرمی کا سگنل دے رہا ہے۔ اگرچہ ذبیح اللہ مجاہد ترجمان حقانی نیٹ ورک نے انہیں چھوڑنے کا وعدہ نہیں کیا، لیکن ان کے بیان سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف چھوڑنا چاہتے ہیں، بلکہ اس کے عوض کچھ اور بھی چاہتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے یہ سب کچھ نہ تو یکطرفہ طور پر ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی ثالث کے بغیر ہوگا۔ اب یہ تو کوئی راز نہیں کہ حقانی نیٹ ورک نہ تو پاکستان دشمن ہیں اور نہ ہی اس طرح کے طالبان ہیں جس طرح کے ملا عمر یا ملا داد اللہ تھے۔ اب انسانی ہمدردی کے حوالہ سے بیان آنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اس حوالہ سے اپنے اثرات کو استعمال کرنے میں سنجیدہ بھی ہے، بلکہ شروع بھی کرچکا ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ حقانیوں کے چھوٹے بھائی انس حقانی کی رہائی کا مطالبہ بھی پیش کیا جاسکتا ہے کہ اس کی رہائی بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہوسکتی ہے، یوں دو بندوں کی جوکابل سے اغواء ہوئے اور کابل میں ہی رہا کیے جاسکتے مثبت تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ اس کا کہیں بھی یہ مطلب نہیں کہ طالبان جنگ بندی کردیں گے اور افغانستان میں فوری طور پر امن ہوجائے گا، بلکہ کشیدگی خصوصاً پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کم ہوکر تیزی کی جانب جاسکتے ہیں۔ پاکستنا کو اس حوالہ سے سنگین خدشات ہیں کہ کیا امریکا بھارت اور پپٹ قسم کی افغان حکومت کے ذریعہ پاکستان کو بھی اس جنگ کا ایندھن بنانا چاہتا ہے؟ اور کیا اس منصوبہ کو صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے یا نہیں؟ ان کا حتمی جواب ملنا باقی ہے، تاہم اس حوالہ سے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے گھر میں معاملات کو کنٹرول کرلیا ہے اور ان خدشات کے حوالہ سے ان کے تدارک کی حکمت عملی پر مکمل یکسوئی پائی جاتی ہے، وہ اقدمات جو گزشتہ ساڑھے چار سال میں نوازشریف کی حکومت بار بار توجہ دلانے پر بھی کرنے کو تیار نہیں تھی اب قیادت میں تبدیلی کے ساتھ ہی فوج کے ساتھ مل کر فوری طور پر روبہ عمل ہیں جن کا کریڈٹ بہر حال وزیراعظم شاہد خاقان کو دیا جانا چاہئے۔ امریکیوں کی سی پیک کے حوالہ سے جو مخالفت تھی اسے پاکستان سننے کو بھی تیار نہیں اور یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر افغانستان میں امریکیوں کو سانس لینے کا موقع مل گیا تو اس کا پہلا نشانہ پاکستان، دوسرا سی پیک اور تیسرا چین ہوں گے۔ پاکستان نے امریکا تو کیا ایک نہایت ہی کمزور افغانستان سے بھی نہیں لڑنا چاہتا حتیٰ کہ ڈیورنڈ لائن کے اس پار موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو بھی خود نہیںچھیڑ رہا، حالانکہ وہ ایک آدھ ایسی کامیاب کارروائی کے ذریعہ دونوں کو بتا چکا ہے کہ ایسا کرنا پاکستان کے لیے نہایت آسان ہے، مگر ہم سرحد پار کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی یہ چاہتے ہیں کہ ہماری سرحد کے اندر کوئی اور آکر کارروائی کرے۔ پاکستان کا امریکیوں سے صاف مطالبہ ہے کہ چونکہ وہ خود افغانستان میں موجود ہیں، لہٰذا وہاں دہشت گردوں خصوصاً ملا فضل اللہ وغیرہ جیسے پاکستان اور عوام دشمنوں کو خود ٹھکانے لگائے اور پاکستانی سرحد کے اندر ہم کسی ایک چھوٹے سے چھوٹے دشمن کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔بہر حال کسی بھارت نواز پڑوسی حکومت کی شہ پر کوئی دخل اندازی یا جنگ کی دھمکی وغیرہ جیسی کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں اور امریکیوں کو نہ صرف واضح وارننگ دے چکا ہے، بلکہ اس نے اپنے تمام حلیفوں بشمول چین، روس، سعودی عرب وغیرہ کو بھی پہلے سے ہی اعتماد میں لے کر صورتحال کی سنگینی کا بتادیا ہے۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ اس صورتحال سے یہ ممالک پہلے ہی آگاہ تھے۔ انہوں نے بھی پاکستان کی نئی مفاہمت تعاون اور کشیدگی کم کرنے کی حکمت عملی پر صاد کیا ہے۔ چنانچہ عالمی سطح پر بھی پاکستان ایک بہتر صورتحال میں ہے۔ دہشت گردی پر اندرون ملک بڑی حد تک قابو پانے اور فوج و حکومت کے ایک صفحہ پر آجانے کے بعد پاکستان نہایت عقلمندی ہوش اور مہارت سے آگے بڑھ رہا ہے، پیر کے روز کی ڈیولپمنٹ اس کامیابی کا بین ثبوت ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر