وجود

... loading ...

وجود

ایم کیو ایم کا سابق تنظیمی انچارج حماد صدیقی گرفتار، دہشت گردی کا مرکزی کردار

منگل 31 اکتوبر 2017 ایم کیو ایم کا سابق تنظیمی انچارج حماد صدیقی گرفتار، دہشت گردی کا مرکزی کردار

شعیب مختار
مہاجر قومی موومنٹ ہو یا متحدہ قومی موومنٹ اس کا آغاز مہاجروں سے نسلی تعصب برتنے کے نعرے پر 1978ء میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن(اے پی ایم ایس او) سے ہوا۔ جس کے بعد اے پی ایم ایس اوسے ہی تقویت پاکر ایک علاقائی جماعت کے طور پر مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس جماعت نے اپنی تشکیل ساتھ کراچی سمیت سندھ بھرمیں اردوبولنے والے طبقے متاثرکیااورلوگ اس کی جانب متوجہ ہونے لگے۔اورتنظیم کاسفرشروع ہوگیا۔پھر ایک وقت ایسا آیا جب مہاجر قومی موومنٹ کا نام بدل کر متحدہ قومی موومنٹ رکھ دیا گیا۔اور یہ جماعت کراچی کی سب سے بڑی اورسندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر اُبھری ۔کیونکہ یہ تنظیم مظلومیت کی بنیاد پر تشکیل دی گئی تھی لہذا اس تنظیم کو بعد میں تمام مظلوم قوموں کے نام کرنے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کا نام دے کر نئے زاویے سے مظلوموں کو انصاف دلانے کے کاموں کا آغاز کیا گیا، مگر مہاجر نام سے بننے والی سیاسی جماعت دیگر مظلوم قوموں کو تو کیا انصاف دلاتی خود مہاجروں کو بھی ان کے حقوق دلانے میں ناکام رہی اور اُلٹا مہاجروں کے تاریخی تشخص کو بھی بدل کر رکھ دیا ۔پھر ہوا کچھ اس طرح کہ اس جماعت میں شامل رہنما اور کارکنان اپنے اپنے مفادات کے حصول میں لگ گئے اور ریکارڈ کرپشن کی۔ متحدہ کی باقاعدہ کرپشن کی تفصیلات خوف کی وجہ سے تاحال منظر عام پر اب تک نہیں آسکی ہے ں مگر اب اس کے چرچے عام ہوتے جارہے ہیں ۔ اس حوالے سے خود بانی متحدہ نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اُنہوں نے 22اگست 2016ء کو ایک ایسی تقریر کی کہ جس نے متحدہ قومی موومنٹ کو کئی حصوں میں تقسیم کر ڈالا ۔ اوراپنے خلاف بند زبانوں کو کھولنے کا موقع خود ہی فراہم کردیا۔
آج مہاجر سیاست کی جانب نظر دوڑائی جائے تو کہیں بھی کوئی مہاجر سیاست نہیں کی جا رہی۔ بیچاری مہاجر قوم آج بھی کسی ایسے مسیحا کی منتظر ہے جو انہیں ان کے حقوق دلائے مگر ایسا مسیحا تو دستیاب نہیں ،لیکن نعیم کن کٹے،فہیم لنگڑے اور شمیم کانے جیسے لا تعداد لوگ اب بھی پارٹی میں موجود ہیں جوکہ زیر زمین روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ انہی روپوشی کی زندگی گزارنے والوں میں متحدہ قومی موومنٹ کی تنظیمی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی کا نام سر فہرست ہے جوکہ بلدیہ فیکٹری سے بھتہ نہ ملنے اور 250سے زائد افراد کو زندہ جلانے کے بعد منظر نامے سے غائب رہے ۔عدالت نے ملز م حماد صدیقی کی گرفتاری کے حکم نامے جاری کیے ہوئے تھے جبکہ انٹر پول نے اس کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کیا تھا، با لآخر سخت جدوجہد کے بعد اسے چند روز قبل دبئی سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حماد صدیقی کون ہے حماد صدیقی دہشت گردی کے کن کن واقعات میں ملوث ہے ،یہ ایک طویل کہانی ہے جو۔ اس کی کچھ تفصیلات تو حاضر خدمت ہیں ۔
اپنی دہشت اور اپنے ہاتھ سے کراچی کو لہولہو کرنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق تنظیمی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی نے سیاست کا آغازآل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے کیا ۔2001 میں متحدہ تنظیمی کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2006 میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن سے صدر ٹاؤن میں بلدیاتی امیدواروں کی نامزدگی اور عوامی مسائل کے لیے کام کیا۔ 2008 سے 2013تک پارٹی میں بحیثیت تنظیمی کمیٹی کا انچارج رہا۔ متحدہ قومی موومنٹ کی نوازشات حماد صدیقی پر کچھ اس طرح تھیں کہ انہیں سیاسی بھرتی پر28نومبر1997میں رفیقی شہید اسپتال میں گریڈ 19کے افسر کے تحت اسپتال میں بطور ڈائریکٹر تعینات کر دیا گیا کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے میں حماد صدیقی کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ہڑتالوں کے دوران کاروبار بند کرانا ۔حماد صدیقی کی دیگر ذمے داریوں میں سے ایک ذمے داری ہوا کرتی تھی۔حمادصدیقی کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ بھارت کی ایجنسی ’’را‘‘ تک کارکنان کی رسائی بھی اسی کے سپرد تھی2008 سے 2013تک نائن زیرو اور متحدہ قومی موؤمنٹ کے فلاحی ادارے میں اسلحے کی سپلائی حماد صدیقی کی نگرانی میں کی جاتی رہی 2010میں یوم عاشورہ کے روز بم دھماکے میں 44افراد کی اموات کا ذمہ دار بھی حماد صدیقی کو سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب متحدہ کے گرفتار ملزم عمیر صدیقی نے شیعہ سنی قتل سے متعلق اہم انکشافات کر ڈالے ملزم کا کہنا تھا کہ حماد صدیقی کے حکم پر شیعہ سنی مسلمانوں کا قتل عام کرتا تھا۔ بلدیہ فیکٹری میں زندہ لوگوں کو جلانے کا الزام بھی متحدہ کے سابق تنظیمی کمیٹی کے انچارج پر ہے جس کے نتیجے میں 2012میں ٹیکسٹائل فیکٹری میں آگ لگنے کے واقعے میں 250سے زائد افراد جا ں بحق ہوئے تھے ۔شہر میں ڈاکٹر پروفیسر سبط جعفری کی کلنگ ہو یا کسی سیاسی جماعت کی ریلی پر فائرنگ کا معاملہ متحدہ کے سابق رہنما حماد صدیقی کو تمام تر کارناموں میں ملوث ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ملزم حماد صدیقی کے ڈی اے میں چائنا کٹنگ کی فائلیں بھی حکیم سعیدشہید کے قتل میں ملوث عارف کے ڈی اے والا سے بنواتا تھااور یومیہ لاکھوں روپے کا بھتہ وصول کرتا تھا ۔
بلدیہ کیس میں مفرور ملزم قرار دیے جانے کے بعد حماد صدیقی 22مئی 2013 کوکراچی سے دبئی روانہ ہو گیے تھے، ذرائع کے مطابق سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم حماد صدیقی کو ایک سال قبل پیپلز امن کمیٹی کے چیئرمین عزیر بلوچ کے ساتھ گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا جسے انٹر پول نے مسترد کر دیا تھا۔ عدالت نے دسمبر 2016میں ملزم حماد صدیقی کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا حماد صدیقی سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے علاوہ دیگر کئی سنگین جرائم میں پولیس کو مطلوب تھا ملزم کے ریڈ وارنٹ بھی کئی مرتبہ جاری کیے گئے تھے ۔ملزم حماد صدیقی کی اس مرتبہ گرفتاری کی تصدیق اس کے اہل خانہ کی جانب سے کی جا چکی ہے حماد صدیقی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں 27 اکتوبر کی شب انٹرپول کی جانب سے پاکستانی حکام کو ان کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی تھی جس کی مکمل طور پر تصدیق ہو چکی ہے ضروری کاروائی کے بعد انہیں پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔حماد صدیقی کی گرفتاری متحدہ کے رہنماؤں کے لیے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں تفتیشی بیان سامنے آنے کے بعد مزید رہنماؤں کی گرفتاریوں کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق متحدہ کے سابق رہنما حماد صدیقی کوایک دوروزمیں پاکستان لائے جانے کا امکان ہے۔ ملزم سے تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،جس کے تحت حمادصدیقی کا کیس آئی ایس آئی،ایم آئی ،آئی بی سمیت پولیس انویسٹی گیشن سیل کی ٹیم کو دیے جانے کا امکان ہے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر