وجود

... loading ...

وجود

ایم کیو ایم کا سابق تنظیمی انچارج حماد صدیقی گرفتار، دہشت گردی کا مرکزی کردار

منگل 31 اکتوبر 2017 ایم کیو ایم کا سابق تنظیمی انچارج حماد صدیقی گرفتار، دہشت گردی کا مرکزی کردار

شعیب مختار
مہاجر قومی موومنٹ ہو یا متحدہ قومی موومنٹ اس کا آغاز مہاجروں سے نسلی تعصب برتنے کے نعرے پر 1978ء میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن(اے پی ایم ایس او) سے ہوا۔ جس کے بعد اے پی ایم ایس اوسے ہی تقویت پاکر ایک علاقائی جماعت کے طور پر مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس جماعت نے اپنی تشکیل ساتھ کراچی سمیت سندھ بھرمیں اردوبولنے والے طبقے متاثرکیااورلوگ اس کی جانب متوجہ ہونے لگے۔اورتنظیم کاسفرشروع ہوگیا۔پھر ایک وقت ایسا آیا جب مہاجر قومی موومنٹ کا نام بدل کر متحدہ قومی موومنٹ رکھ دیا گیا۔اور یہ جماعت کراچی کی سب سے بڑی اورسندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر اُبھری ۔کیونکہ یہ تنظیم مظلومیت کی بنیاد پر تشکیل دی گئی تھی لہذا اس تنظیم کو بعد میں تمام مظلوم قوموں کے نام کرنے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کا نام دے کر نئے زاویے سے مظلوموں کو انصاف دلانے کے کاموں کا آغاز کیا گیا، مگر مہاجر نام سے بننے والی سیاسی جماعت دیگر مظلوم قوموں کو تو کیا انصاف دلاتی خود مہاجروں کو بھی ان کے حقوق دلانے میں ناکام رہی اور اُلٹا مہاجروں کے تاریخی تشخص کو بھی بدل کر رکھ دیا ۔پھر ہوا کچھ اس طرح کہ اس جماعت میں شامل رہنما اور کارکنان اپنے اپنے مفادات کے حصول میں لگ گئے اور ریکارڈ کرپشن کی۔ متحدہ کی باقاعدہ کرپشن کی تفصیلات خوف کی وجہ سے تاحال منظر عام پر اب تک نہیں آسکی ہے ں مگر اب اس کے چرچے عام ہوتے جارہے ہیں ۔ اس حوالے سے خود بانی متحدہ نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اُنہوں نے 22اگست 2016ء کو ایک ایسی تقریر کی کہ جس نے متحدہ قومی موومنٹ کو کئی حصوں میں تقسیم کر ڈالا ۔ اوراپنے خلاف بند زبانوں کو کھولنے کا موقع خود ہی فراہم کردیا۔
آج مہاجر سیاست کی جانب نظر دوڑائی جائے تو کہیں بھی کوئی مہاجر سیاست نہیں کی جا رہی۔ بیچاری مہاجر قوم آج بھی کسی ایسے مسیحا کی منتظر ہے جو انہیں ان کے حقوق دلائے مگر ایسا مسیحا تو دستیاب نہیں ،لیکن نعیم کن کٹے،فہیم لنگڑے اور شمیم کانے جیسے لا تعداد لوگ اب بھی پارٹی میں موجود ہیں جوکہ زیر زمین روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ انہی روپوشی کی زندگی گزارنے والوں میں متحدہ قومی موومنٹ کی تنظیمی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی کا نام سر فہرست ہے جوکہ بلدیہ فیکٹری سے بھتہ نہ ملنے اور 250سے زائد افراد کو زندہ جلانے کے بعد منظر نامے سے غائب رہے ۔عدالت نے ملز م حماد صدیقی کی گرفتاری کے حکم نامے جاری کیے ہوئے تھے جبکہ انٹر پول نے اس کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کیا تھا، با لآخر سخت جدوجہد کے بعد اسے چند روز قبل دبئی سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حماد صدیقی کون ہے حماد صدیقی دہشت گردی کے کن کن واقعات میں ملوث ہے ،یہ ایک طویل کہانی ہے جو۔ اس کی کچھ تفصیلات تو حاضر خدمت ہیں ۔
اپنی دہشت اور اپنے ہاتھ سے کراچی کو لہولہو کرنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق تنظیمی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی نے سیاست کا آغازآل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے کیا ۔2001 میں متحدہ تنظیمی کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2006 میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن سے صدر ٹاؤن میں بلدیاتی امیدواروں کی نامزدگی اور عوامی مسائل کے لیے کام کیا۔ 2008 سے 2013تک پارٹی میں بحیثیت تنظیمی کمیٹی کا انچارج رہا۔ متحدہ قومی موومنٹ کی نوازشات حماد صدیقی پر کچھ اس طرح تھیں کہ انہیں سیاسی بھرتی پر28نومبر1997میں رفیقی شہید اسپتال میں گریڈ 19کے افسر کے تحت اسپتال میں بطور ڈائریکٹر تعینات کر دیا گیا کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے میں حماد صدیقی کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ہڑتالوں کے دوران کاروبار بند کرانا ۔حماد صدیقی کی دیگر ذمے داریوں میں سے ایک ذمے داری ہوا کرتی تھی۔حمادصدیقی کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ بھارت کی ایجنسی ’’را‘‘ تک کارکنان کی رسائی بھی اسی کے سپرد تھی2008 سے 2013تک نائن زیرو اور متحدہ قومی موؤمنٹ کے فلاحی ادارے میں اسلحے کی سپلائی حماد صدیقی کی نگرانی میں کی جاتی رہی 2010میں یوم عاشورہ کے روز بم دھماکے میں 44افراد کی اموات کا ذمہ دار بھی حماد صدیقی کو سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب متحدہ کے گرفتار ملزم عمیر صدیقی نے شیعہ سنی قتل سے متعلق اہم انکشافات کر ڈالے ملزم کا کہنا تھا کہ حماد صدیقی کے حکم پر شیعہ سنی مسلمانوں کا قتل عام کرتا تھا۔ بلدیہ فیکٹری میں زندہ لوگوں کو جلانے کا الزام بھی متحدہ کے سابق تنظیمی کمیٹی کے انچارج پر ہے جس کے نتیجے میں 2012میں ٹیکسٹائل فیکٹری میں آگ لگنے کے واقعے میں 250سے زائد افراد جا ں بحق ہوئے تھے ۔شہر میں ڈاکٹر پروفیسر سبط جعفری کی کلنگ ہو یا کسی سیاسی جماعت کی ریلی پر فائرنگ کا معاملہ متحدہ کے سابق رہنما حماد صدیقی کو تمام تر کارناموں میں ملوث ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ملزم حماد صدیقی کے ڈی اے میں چائنا کٹنگ کی فائلیں بھی حکیم سعیدشہید کے قتل میں ملوث عارف کے ڈی اے والا سے بنواتا تھااور یومیہ لاکھوں روپے کا بھتہ وصول کرتا تھا ۔
بلدیہ کیس میں مفرور ملزم قرار دیے جانے کے بعد حماد صدیقی 22مئی 2013 کوکراچی سے دبئی روانہ ہو گیے تھے، ذرائع کے مطابق سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم حماد صدیقی کو ایک سال قبل پیپلز امن کمیٹی کے چیئرمین عزیر بلوچ کے ساتھ گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا جسے انٹر پول نے مسترد کر دیا تھا۔ عدالت نے دسمبر 2016میں ملزم حماد صدیقی کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا حماد صدیقی سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے علاوہ دیگر کئی سنگین جرائم میں پولیس کو مطلوب تھا ملزم کے ریڈ وارنٹ بھی کئی مرتبہ جاری کیے گئے تھے ۔ملزم حماد صدیقی کی اس مرتبہ گرفتاری کی تصدیق اس کے اہل خانہ کی جانب سے کی جا چکی ہے حماد صدیقی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں 27 اکتوبر کی شب انٹرپول کی جانب سے پاکستانی حکام کو ان کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی تھی جس کی مکمل طور پر تصدیق ہو چکی ہے ضروری کاروائی کے بعد انہیں پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔حماد صدیقی کی گرفتاری متحدہ کے رہنماؤں کے لیے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں تفتیشی بیان سامنے آنے کے بعد مزید رہنماؤں کی گرفتاریوں کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق متحدہ کے سابق رہنما حماد صدیقی کوایک دوروزمیں پاکستان لائے جانے کا امکان ہے۔ ملزم سے تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،جس کے تحت حمادصدیقی کا کیس آئی ایس آئی،ایم آئی ،آئی بی سمیت پولیس انویسٹی گیشن سیل کی ٹیم کو دیے جانے کا امکان ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر