وجود

... loading ...

وجود

ایم کیو ایم کا سابق تنظیمی انچارج حماد صدیقی گرفتار، دہشت گردی کا مرکزی کردار

منگل 31 اکتوبر 2017 ایم کیو ایم کا سابق تنظیمی انچارج حماد صدیقی گرفتار، دہشت گردی کا مرکزی کردار

شعیب مختار
مہاجر قومی موومنٹ ہو یا متحدہ قومی موومنٹ اس کا آغاز مہاجروں سے نسلی تعصب برتنے کے نعرے پر 1978ء میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن(اے پی ایم ایس او) سے ہوا۔ جس کے بعد اے پی ایم ایس اوسے ہی تقویت پاکر ایک علاقائی جماعت کے طور پر مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس جماعت نے اپنی تشکیل ساتھ کراچی سمیت سندھ بھرمیں اردوبولنے والے طبقے متاثرکیااورلوگ اس کی جانب متوجہ ہونے لگے۔اورتنظیم کاسفرشروع ہوگیا۔پھر ایک وقت ایسا آیا جب مہاجر قومی موومنٹ کا نام بدل کر متحدہ قومی موومنٹ رکھ دیا گیا۔اور یہ جماعت کراچی کی سب سے بڑی اورسندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر اُبھری ۔کیونکہ یہ تنظیم مظلومیت کی بنیاد پر تشکیل دی گئی تھی لہذا اس تنظیم کو بعد میں تمام مظلوم قوموں کے نام کرنے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کا نام دے کر نئے زاویے سے مظلوموں کو انصاف دلانے کے کاموں کا آغاز کیا گیا، مگر مہاجر نام سے بننے والی سیاسی جماعت دیگر مظلوم قوموں کو تو کیا انصاف دلاتی خود مہاجروں کو بھی ان کے حقوق دلانے میں ناکام رہی اور اُلٹا مہاجروں کے تاریخی تشخص کو بھی بدل کر رکھ دیا ۔پھر ہوا کچھ اس طرح کہ اس جماعت میں شامل رہنما اور کارکنان اپنے اپنے مفادات کے حصول میں لگ گئے اور ریکارڈ کرپشن کی۔ متحدہ کی باقاعدہ کرپشن کی تفصیلات خوف کی وجہ سے تاحال منظر عام پر اب تک نہیں آسکی ہے ں مگر اب اس کے چرچے عام ہوتے جارہے ہیں ۔ اس حوالے سے خود بانی متحدہ نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اُنہوں نے 22اگست 2016ء کو ایک ایسی تقریر کی کہ جس نے متحدہ قومی موومنٹ کو کئی حصوں میں تقسیم کر ڈالا ۔ اوراپنے خلاف بند زبانوں کو کھولنے کا موقع خود ہی فراہم کردیا۔
آج مہاجر سیاست کی جانب نظر دوڑائی جائے تو کہیں بھی کوئی مہاجر سیاست نہیں کی جا رہی۔ بیچاری مہاجر قوم آج بھی کسی ایسے مسیحا کی منتظر ہے جو انہیں ان کے حقوق دلائے مگر ایسا مسیحا تو دستیاب نہیں ،لیکن نعیم کن کٹے،فہیم لنگڑے اور شمیم کانے جیسے لا تعداد لوگ اب بھی پارٹی میں موجود ہیں جوکہ زیر زمین روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ انہی روپوشی کی زندگی گزارنے والوں میں متحدہ قومی موومنٹ کی تنظیمی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی کا نام سر فہرست ہے جوکہ بلدیہ فیکٹری سے بھتہ نہ ملنے اور 250سے زائد افراد کو زندہ جلانے کے بعد منظر نامے سے غائب رہے ۔عدالت نے ملز م حماد صدیقی کی گرفتاری کے حکم نامے جاری کیے ہوئے تھے جبکہ انٹر پول نے اس کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کیا تھا، با لآخر سخت جدوجہد کے بعد اسے چند روز قبل دبئی سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حماد صدیقی کون ہے حماد صدیقی دہشت گردی کے کن کن واقعات میں ملوث ہے ،یہ ایک طویل کہانی ہے جو۔ اس کی کچھ تفصیلات تو حاضر خدمت ہیں ۔
اپنی دہشت اور اپنے ہاتھ سے کراچی کو لہولہو کرنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق تنظیمی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی نے سیاست کا آغازآل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے کیا ۔2001 میں متحدہ تنظیمی کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2006 میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن سے صدر ٹاؤن میں بلدیاتی امیدواروں کی نامزدگی اور عوامی مسائل کے لیے کام کیا۔ 2008 سے 2013تک پارٹی میں بحیثیت تنظیمی کمیٹی کا انچارج رہا۔ متحدہ قومی موومنٹ کی نوازشات حماد صدیقی پر کچھ اس طرح تھیں کہ انہیں سیاسی بھرتی پر28نومبر1997میں رفیقی شہید اسپتال میں گریڈ 19کے افسر کے تحت اسپتال میں بطور ڈائریکٹر تعینات کر دیا گیا کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے میں حماد صدیقی کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ہڑتالوں کے دوران کاروبار بند کرانا ۔حماد صدیقی کی دیگر ذمے داریوں میں سے ایک ذمے داری ہوا کرتی تھی۔حمادصدیقی کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ بھارت کی ایجنسی ’’را‘‘ تک کارکنان کی رسائی بھی اسی کے سپرد تھی2008 سے 2013تک نائن زیرو اور متحدہ قومی موؤمنٹ کے فلاحی ادارے میں اسلحے کی سپلائی حماد صدیقی کی نگرانی میں کی جاتی رہی 2010میں یوم عاشورہ کے روز بم دھماکے میں 44افراد کی اموات کا ذمہ دار بھی حماد صدیقی کو سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب متحدہ کے گرفتار ملزم عمیر صدیقی نے شیعہ سنی قتل سے متعلق اہم انکشافات کر ڈالے ملزم کا کہنا تھا کہ حماد صدیقی کے حکم پر شیعہ سنی مسلمانوں کا قتل عام کرتا تھا۔ بلدیہ فیکٹری میں زندہ لوگوں کو جلانے کا الزام بھی متحدہ کے سابق تنظیمی کمیٹی کے انچارج پر ہے جس کے نتیجے میں 2012میں ٹیکسٹائل فیکٹری میں آگ لگنے کے واقعے میں 250سے زائد افراد جا ں بحق ہوئے تھے ۔شہر میں ڈاکٹر پروفیسر سبط جعفری کی کلنگ ہو یا کسی سیاسی جماعت کی ریلی پر فائرنگ کا معاملہ متحدہ کے سابق رہنما حماد صدیقی کو تمام تر کارناموں میں ملوث ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ملزم حماد صدیقی کے ڈی اے میں چائنا کٹنگ کی فائلیں بھی حکیم سعیدشہید کے قتل میں ملوث عارف کے ڈی اے والا سے بنواتا تھااور یومیہ لاکھوں روپے کا بھتہ وصول کرتا تھا ۔
بلدیہ کیس میں مفرور ملزم قرار دیے جانے کے بعد حماد صدیقی 22مئی 2013 کوکراچی سے دبئی روانہ ہو گیے تھے، ذرائع کے مطابق سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم حماد صدیقی کو ایک سال قبل پیپلز امن کمیٹی کے چیئرمین عزیر بلوچ کے ساتھ گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا جسے انٹر پول نے مسترد کر دیا تھا۔ عدالت نے دسمبر 2016میں ملزم حماد صدیقی کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا حماد صدیقی سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے علاوہ دیگر کئی سنگین جرائم میں پولیس کو مطلوب تھا ملزم کے ریڈ وارنٹ بھی کئی مرتبہ جاری کیے گئے تھے ۔ملزم حماد صدیقی کی اس مرتبہ گرفتاری کی تصدیق اس کے اہل خانہ کی جانب سے کی جا چکی ہے حماد صدیقی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں 27 اکتوبر کی شب انٹرپول کی جانب سے پاکستانی حکام کو ان کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی تھی جس کی مکمل طور پر تصدیق ہو چکی ہے ضروری کاروائی کے بعد انہیں پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔حماد صدیقی کی گرفتاری متحدہ کے رہنماؤں کے لیے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں تفتیشی بیان سامنے آنے کے بعد مزید رہنماؤں کی گرفتاریوں کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق متحدہ کے سابق رہنما حماد صدیقی کوایک دوروزمیں پاکستان لائے جانے کا امکان ہے۔ ملزم سے تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،جس کے تحت حمادصدیقی کا کیس آئی ایس آئی،ایم آئی ،آئی بی سمیت پولیس انویسٹی گیشن سیل کی ٹیم کو دیے جانے کا امکان ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر