وجود

... loading ...

وجود

سابق وزیراعظم کا دورہ ناکام، سعودی شاہ نے نوازشریف کو ہری جھنڈی دکھادی

پیر 30 اکتوبر 2017 سابق وزیراعظم کا دورہ ناکام، سعودی شاہ نے نوازشریف کو ہری جھنڈی دکھادی

حکمران مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نوازشریف حسب توقع سعودی عرب کا قریباً ایک ہفتہ طویل ناکام دورہ کرکے واپس برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔حیرت اس بات پر نہیں کہ سعودیوں نے ہری جھنڈی دکھا دی ہے، بلکہ حیرت اس بات پر ہے کہ نوازشریف نے سعودیوں کو کب سے اتنا بے وقوف سمجھ لیا کہ وہ اب بھی ان کی محبت میں گرفتار ہیں اور اس بار بھی نوازشریف کو بچانے کے لیے کوئی کردار ادا کریں گے۔ عین ممکن ہے کہ ان کو امریکیوں نے کوئی روشنی کی کرن دکھائی ہو کہ ہم سعودیوں سے تمہارا ایک بار پھر معاملہ کرا دیں گے، مگر یمن اور ایران کے معاملہ پر نوازشریف کے لگائے زخم ابھی تازہ ہیں کہ جس طریقہ سے ذلت آمیز طریقہ سے نوازشریف نے سعودیوں کی فوجی امداد کی درخواست رد کی تھی وہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، کیونکہ پاکستان نے اپنے ایک مخلص اور دیرینہ و قابل اعتماد دوست و برادر ملک کے ساتھ ذلت آمیز رویہ اختیار کیا۔ اسی طرح جنرل راحیل شریف کے سعودیہ جانے کی راہ میں جو رکاوٹیں ڈالی گئیں وہ تو ابھی چند ماہ قبل کی بات ہے۔اب یہ کہنے میں کوئی باق نہیں ہے کہ سابق تین بار کے وزیراعظم نے بارہا ملکی مفاد کے خلاف محض اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے اور کئی بار امریکیوں و بھارت کو خوش کرنے کے لیے ملکی خارجہ پالیسی کے چیتھڑے اڑا دیے اور دفتر خارجہ کے مخلص سفارتکار دانتوں میں انگلیاں دبائے حیران و پشیمان ہوتے رہے۔ سعودیوں نے مدد کرنی تھی نہ کی۔ چنانچہ واپسی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا، ہاں یہ ضرور ہے کہ نوازشریف کو جیل کی سلاخیں سامنے نظر آرہی ہیں، جو ان کے لیے سوہان روح ہے، اس لیے وہ پاکستان آکر احتساب عدالت میں پیش ہونے کے بجائے واپس لندن روانہ ہوگئے اور وہاں مشاورت کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے ایک نئی مشاورت کے لیے مل بیٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ واپس آکر عدالت کا سامنا کریں یا لندن بیٹھ کر مفرور ہوجائیں، جہاں ایک جانب احتساب عدالت کا رویہ شریف خاندان کے ساتھ تاحال نرم ہے اور انہیں اس نرم رویہ پر پیپلزپاٹی سمیت دیگر سیاسی قوتوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔ وہیں پارٹی کے اندر سے نوازشریف پر بھی شدید دباؤ ہے کہ وہ واپس آئیں چاہے جیل ہی کیوں نہ جانا پڑے، پارٹی رہنماؤں کے نزدیک نوازشریف کا واپس نہ آنا ان کی سیاست کے اختتام کا ہوگا۔ مگر نوازشریف کیا کریں جیل جانا ان کے لیے ممکن نہیں اور عدالتوں کو دباؤ میں لانے، بلیک میل کرنے یا حسب روایت خریدنے کی تمام کوششیں بھی ناکام ہوچکی ہیں۔ وطن واپسی کے فیصلہ کے علاوہ انہیں کئی اور بنیادی نوعیت کے فیصلے فوری کرنے ہیں۔دوسرا اہم فیصلہ پارٹی کی صدارت کا ہے، جو وہ ہر صورت اپنے پاس رکھنے یا زیادہ سے زیادہ مریم نواز کو دینے کے خواہش مند ہیں۔ اس راہ میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ خود خاندان کے اندر سے بھی سخت مزاحمت درپیش ہے۔ تیسرا فیصلہ اپنے حلقہ این اے 120 سے متعلق ہے جہاں کلثوم نواز کی بیماری کے باعث مستعفی ہونے اور دوبارہ ضمنی انتخاب کرانے کا معاملہ درپیش ہے اس معاملہ میں بھی پارٹی واضح طور پر تقسیم ہے کہ طفیلی قسم کے وہ لیڈر جن کی سیاست حلقہ کی نہیں بلکہ شریف خاندان کی مرہون منت ہے، وہ سب مریم کو لڑاکر اسے وزیراعظم بنانے کے حق میں ہیں، جبکہ ووٹوں اور حلقوں سے جیت کر آنے والے بیشتر اراکین اسمبلی اس حق میں نہیں جن میں اکثریت وزراء بھی شامل تھیں۔ چوتھا فیصلہ انتخابی مہم شروع کرنے اور انتخابات کو اپنے مقررہ وقت پر کرانے کا ہے ،کیونکہ بگڑتے ہوئے پارٹی معاملات کے باعث یہ امکانات نظر آرہے ہیں کہ مارچ میں سینیٹ انتخابات سے قبل پارٹی کی ٹوٹ پھوٹ کے باعث اسمبلیوں کا مدت مکمل کرنا ممکن نظر نہیں آرہا۔ ہاں آخری فیصلہ انہوں نے یہ کرنا ہے کہ آیا وہ فوج اور عدلیہ کے خلاف اپنی مہم کو جاری رکھتے ہوئے اسے مزید جارحانہ بنائیں یا مفاہمت کی کوئی راہ تلاش کریں، کیونکہ جتنی شدت سے وہ فوج اور عدلیہ کے خلاف توپیں کھولتے ہیں دوسری جانب سے مکمل صبر اورخاموشی کے باعث نوازشریف کو ہی نقصان ہورہا ہے۔ ہاں جو مسئلہ ان کے نزدیک اہم نہیں وہ ملک کی گرتی ہوئی معیشت ہے جسے سنبھالنا اب ممکن نہیں ہورہا، کیونکہ وزیر خزانہ بھی کرپشن کے کھلے مقدمات میں پھنس گئے ہیں، وہ نہ کام کرپارہے ہیں اور نہ ہی اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں۔ نوازشریف کے نزدیک مشاورت میں معیشت سنبھالنا نہیں وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو سنبھالنا یا متبادل تلاش کرنا۔ پانچواں فیصلہ ہے جو اس مشاورت میں انہیں کرنا ہے، کیونکہ یہ خبریں بھی ہیں کہ اسحاق ڈار سے استعفیٰ پیشگی لیا جاچکا ہے، اب صرف فیصلہ کرنا باقی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نوازشریف 28 جولائی کے پاناما مقدمہ میں نااہلی سے بھی زیادہ سخت اور مشکل صورتحال کا شکار ہیں۔ حالیہ چند ماہ کی صورتحال یہ بتارہی ہے کہ وہ سیاسی طور پر کوئی بھی درست فیصلہ نہیں کرپارہے ہیں اور ہر فیصلہ ان کے لیے مزید مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ پاکستان کی مستقبل کی سیاست کا انحصار آئندہ 48 گھنٹوں میں لندن میں کیے جانے والے فیصلوں پر ہے۔ نوازشریف کے سیاسی حریف بھی خود مشکلات کا شکار ہیں۔ ایم کیو ایم میں الطاف حسین کے علاوہ کوئی ان کا حامی نہیں اور ایم کیو ایم الطاف حسین کے ہاتھ سے مکمل طور پر نکل چکی ہے۔ اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں جیتیں یا ہاریں مسلم لیگ (ن) اور نوازشریف کی حمایت کا بوجھ ان کی سیاست کے لیے قاتل ہوگا۔ اس کا تجربہ وہ این اے 4 میں کرچکے ہیں کہ عمران اور نواز دونوں کے خلاف بیک وقت لڑکر بھی انہیں سیاسی طور پر فائدہ ہوا، جو ان کو اس حوالہ سے یکسو کر چکا ہے کہ نوازشریف کی ڈوبتی کشتی میں سواری نہیں کرنی۔مولانا فضل الرحمان خود مشکلات کا شکار ہیں اور نوازشریف سے گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں مفادات حاصل کرنے اور اقتدار میں شراکت کے باوجود ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں۔ آہستہ آہستہ مکمل تنہائی کی جانب بڑھتے ہوئے نوازشریف اور ٹوٹتی بکھرتی ہوئی پارٹی نوازشریف کے سنگین مسائل ہیں، جن سے باہر نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ہاں ایک بات اور بتانا بہت ضروری ہے کہ نوازشریف کو یہ بھی پتہ ہے کہ آئندہ تین سے چار ہفتوں میں احتساب عدالت کے فیصلوں کے ساتھ ہی نوازشریف کی جائیدادوں کی ضبطی اور ملک میں واپسی کا عمل بھی شروع ہونے والا ہے۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر