وجود

... loading ...

وجود

نواز شریف کے4سالہ دورکے اربوں ڈالر قرض کی رقم کہاں گئی؟

هفته 16 ستمبر 2017 نواز شریف کے4سالہ دورکے اربوں ڈالر قرض کی رقم کہاں گئی؟

ملک پربڑھتے ہوئے گردشی یاسرکلر قرضوں، درآمدات میں بے انتہا اضافے اور برآمدات میں کمی کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں ملازم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم میں کمی کی وجہ سے ملک کی معیشت سنگین صورت حال کاشکار ہوکر رہ گئی ہے اور ملکی حالات اس قدر گھمبیر ہو چکے ہیں کہ ہماری معیشت بری طرح گرداب میں پھنسی نظر آرہی ہے ، اس وقت حقیقی صورت حال یہ ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کے زرمبادلے کے ذخائر غیر ضروری طورپر بڑھا چڑھا کر دکھانے کے لیے قومی ادارے گروی رکھ کر دنیا کے کم وبیش تمام مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرلیا ہے اور اب ان قرضوں پر سود اور منافع کی ادائیگی کے لیے مزید قرض حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور یہاںتک اطلاعات ملی ہیں کہ عالمی بینک نے پاکستان کو مزید قرض دینے سے انکار کردیاہے،اور اب صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف عوام کاایک بڑا طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہے اور دوسری طرف حکمراں ہرطرف سے آنکھیں بندکرکے ، شاہانہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیںلیکن اس کے باوجود ان کی لالچ اور اقتدار کی بھوک اپنے انجام تک نہیں پہنچ رہی ، حقیقی معنوں میں اس وقت ملک کے اندرونی و بیرونی حالات اپنی سمت تبدیل کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ ہمارے ملک میںہر طرف افراتفری کاسماں نظر آرہا ہے۔
بیرونی سطح پر پاکستان کو گوناگوںچیلنجوں کاسامنا ہے ،سابق وزیر اعظم کی انا کی وجہ سے ملک میں 4سال تک کوئی کل وقتی وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی سطح پر بھارت امریکا کے ساتھ مل کر پاکستان کیخلاف ایک محاذ کھڑا کرنے کی کوشش کررہاہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ موجودہ حکومت نے اپنی پوری مشینری سپریم کورٹ سے نااہل قرار دئے جانے والے عالیٰ جاہ کی امیج بلڈنگ اور ان کو نااہل قرار دینے والی پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے جج صاحبان کی کردار کشی کی مہم پر لگادیا ہے۔نااہل قرار دئے گئے عالی جاہ کے نورتنوں اور ان کے سیاسی جانشین اب عوام کو یہ باور کرانے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان کے 20کروڑ عوام نے ان کو ووٹ دیکر اسمبلی میں بھیجا تھا ، اوراعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے انھیں فارغ کردیا ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ن کو پاکستان کے20کروڑ نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ عوام نے ووٹ دیکر اقتدار کے ایوان میں بھیجا تھااور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ انھیں ووٹ دینے والے ان ڈیڑھ کروڑ عوام کی آشائیں پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہے اور اقتدار کے نشے میں خود کو شہنشاہ اعظم تصور کرنے لگے، اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت وہ کسر شان سمجھتے تھے یہاں تک کہ شبانہ روز محنت کے بعد منتخب ہوکراسمبلی میں اکثریت بنا کر انھیں اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچانے والے اپنی ہی پارٹی کے ارکان اسمبلی کے لیے بھی ان کے پاس وقت نہیں تھا ۔ کرپشن اور اقرباپروری کی سیاست میں لت پت حکمران ہمیشہ سے ہی اپنے “جاہ و جلال “اور بڑے محلات میں بادشاہت کی طرز پررہنا پسند کرتے ہیں آج ملک میں جس سیاسی لیڈرشپ کے فقدان کی باتیں ہو رہی ہیں اللہ جانتا ہے کہ پاکستان میں “کرپشن “اور “معیشت “ کی تباہی کو پروان چڑھانے میں ان سیاستدانوںکا اول دن سے ہاتھ رہا ہے ، اگرماضی کی تلخ حقیقتوں کو کھنگال کر دیکھاجائے تو ایسے ایسے تماشے اور کرپشن کی کہانیاں سننے کو ملیں گی جو رونگٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی ہوں گی۔ملک کے اربوں روپے لوٹنے والوں کو چند ٹکوں کے عوض چھوڑ دیاجاتا ہے ۔ پاکستان میں کرپشن کو ختم کرنے ، اداروں کو مضبوط اور “کشکول “ توڑنے کے حوالے سے جس طرح کے دعوے کیے گئے تھے۔ آج سے چار سال قبل اگر ان پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا جاتا توشاید ان کو آج دربدر نہ ہونا پڑتا ، مگر یہاں کرپشن کی گنگا آج تک بہہ رہی ہے پاکستان کا غریب طبقہ مصائب اور مشکلات کے لاتعداد مسائل میں جکڑاہوا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہی “کرپشن “کا ناسور ہے جو ملک کی بنیادوں کومضبوط نہیں ہونے دے رہا۔
پاکستان اس وقت جن حالات سے دوچار ہے اس کی ذمہ داری کسی ایک حکمران یا فرد پر نہیں ڈالی جاسکتی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں ایڈمنسٹریٹر سے لیکر چپڑاسی تک کرپشن کرنا اپنا قانونی اور جائز حق سمجھتا ہے اور اپنے جائز کام کرانے کے لیے بھی رشوت دینا ایک ضرورت بن چکا ہے۔ کرپشن کی لعنت نے جس قدر پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے اس سے بڑھ کر دوسرا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس وقت “دہشت گردی سے بڑا مسئلہ پاکستان میںکرپشن کاخاتمہ ہے “ مگر ایسا کون اورکیسے کرے گا یہ ایک تلخ سوال ہے جس کاجواب حاصل کر نااگرچہ پاکستان کے ہر فرد کا حق ہے ، لیکن اس کا کوئی جواب کسی کے پاس نظر نہیں آتا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک کا پورا نظام اس وقت سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں ہے جن کا مقصد پاکستان میں حکومت کرنا اور یہاں سے مال و دولت اکٹھا کرکے بیرون ملک محلات کھڑے کرناہے،تاکہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد پوری زندگی عیش وآرام سے گزار سکیں اور چین کی بانسری بجائیں ۔ آپ پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کر دیکھیں اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے جو قربانیاں دی گئیں ،اسے فلاحی ریاست بنانے کے لیے قائد محمد علی جناح جیسی نابغہ روزگار شخصیت نے جو افکار و نظریات ہمیں دئیے آج اس کا عشر عشیر بھی اگر پاکستان کو مکمل فلاحی ریاست بنانے کے لیے وقف کر دیاجاتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔سابقہ ادوار سے لیکر موجودہ حکومت تک سب نے کرپشن کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ اگر یہ نہیں مانتے تو یہ پاکستان کے عوام کو خود سمجھنا ہوگا ، پاناما اسیکنڈل اس کی ایک کڑی تھا۔اسی کیس کے حوالہ سے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں سابق حکمرانوں کی مزید ایسی کمپنیوں کا انکشاف ہوا جس نے پاکستان کے 20کروڑ عوام کے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ جبکہ اس کیس کے بعد سے آج تک موجودہ حکومت کے نورتن اور سابق حکمران ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں کہ “مجھے کیوں نکالا“ہمیں“کرپشن “کی وجہ سے نااہل نہیں کیا گیا بلکہ اپنے ننھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی صورت میں نااہل کر دیا گیا ، یہ وہ شرمناک فعل ہے جو پاکستان کے عوام کو ایک مرتبہ پھر لالی پاپ دینے کی کوشش ہے ، اب آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان میںگزشتہ چار سال کے دوران کیا گل چھرے اڑاے گئے۔کہتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو رہی ہے مگر انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومت اندرونی و بیرونی قرضوں تلے دبی ہوئی ہے اربوں ڈالر قرض لیکر ملک کا نظام چلانے کی کوششیں کی گئیں جو شاید ماضی کی کرپٹ ترین حکومت نے نہ کی ہوں۔ ابھی حال ہی میں ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس کے مطابق پاکستان کا ہر فرد 95ہزار روپے کا مقروض ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس رپورٹ میں بھی حقائق چھپائے گئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے ہر پاکستانی ایک لاکھ 16ہزار روپے کا مقروض ہے۔پاکستان پرواجب الادا قرضوں کے بارے میں جو حقائق قومی اسمبلی میںپیش کیے گئے اس سے قطع نظر اگر باریک بینی سے ان قرضوں کابغور جائزہ لیاجائے اور دیکھاجائے تو پاکستان کی اس حکومت نے جو خود کو پاکستان کی کامیاب ترین حکومت کہتے ہوئے نہیں تھکتی قرضوں کا ایک طوفان برپا کر رکھا ہے اور انتہائی ظالمانہ شرائط پر ملکی وغیر ملکی اوربھاری سود پر قرضے لے کر پوری قوم کو مقروض بنا دیا ہے۔موجودہ حکومت نے ملک کے بچے بچے کوقرضوںمیں توجکڑ دیاہے لیکن صحت اور تعلیم جیسے اہم ترین شعبوں پر رتی برابر کام نہیں کیا گیا بجٹ میں تعلیم اور صحت کے لیے مختص کیے گئے فنڈز کو اگر ایماندار ی سے خرچ کیاجاتا تو پاکستان میں تعلیم اورصحت جیسے شعبوں کوخاطر خواہ ترقی دی جاسکتی تھی اور پاکستان میںعام شہریوں کوبھی علاج معالجہ کی سہولتیں فراہم کی جاسکتی تھیں۔
آج پاکستان کے 20کروڑ عوام گزشتہ 4سال تک حکمرانی کرنے والوںسے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ “ہمارے مسائل ختم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتے ہی کیوں جارہے ہیںاور بھاری شرح سود پر حاصل کئے جانے والے قرضوں کی بھاری رقم کہاں غائب ہو جاتی ہے کس کے اکائونٹس میں منتقل ہورہی ہے “ پاکستان کا ہر شہری لاکھوں روپے کا مقروض ہے مگر ان کی حالت بہتر کرنے کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا گیا۔
ملکی معیشت کو دیکھاجائے تو آج ہماری برآمد اور درآمدات میں زمین آسمان کا فرق حائل ہے 20سال قبل پاکستان کی برآمدات کا حجم آج کی درآمدات سے زیادہ تھا مگر آج ہماری برآمدات تشویش ناک حد تک نیچے آچکی ہیں جبکہ موجودہ حکومت کے قرضوں کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ اس حکومت نے اپنے چار سال کے دوران تقریبا36ارب ڈالر قرضہ لیا ان بے تحاشہ قرضوں میں انٹر نیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر مالیاتی اداروں سے لی گئی 18ارب ڈالر کی رقم پہلے لیے گئے قرضوں کی ادائیگیوںکے لیے تھی جبکہ اس میں 18ارب ڈالرکا وہ نیا قرضہ شامل ہے جو کہاں خرچ کیا گیا آج تک اس کا کسی کو علم نہیں ۔ موجودہ حکومت نے9ماہ کے دوران 819ارب روپے مزید مقامی قرضے لیے ، 31دسمبر 2016تک مجموعی قومی قرضوں کی مالیت 12ہزار 310ارب روپے تھی جو آج 20ہزار ارب روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ یکم جولائی 2016سے لیکر 31مارچ 2017کے دوران موجودہ حکومت نے 819ارب روپے اندرونی قرضے لیے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تجارتی بینکوں سے حاصل کیے گئے حکومت نے اسٹیٹ بینک سے 735ارب روپے جبکہ تجارتی بینکوں سے 84ارب روپے قرضے لیے ان قرضوں کابھی کچھ اتاپتہ نہیں اس حکومت نے یہ رقم کہاں خرچ کی ، ان تمام تر حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا قطعاً غلط نہ ہوگا کہ ہمارے حکمران پروٹوکول اور شاہانہ زندگیاں گزارنے کے لیے ہی حکومت میں آتے ہیںا ور اقتداربے دخل ہوتے ہی وہ موسمی پنچھی کی طرح اڑکر لندن ،امریکا یا دبئی میں آشیانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ،اس صورتحال کاتقاضہ ہے ہمیںاب یہ سوچنا ہوگا کہ اگر آج ہم نے اپنے مستقبل کا نہ سوچا تو کبھی بھی ہم ان مسائل سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔


متعلقہ خبریں


ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید وجود - جمعه 24 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

مضامین
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔ وجود هفته 25 اپریل 2026
امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔

علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح وجود هفته 25 اپریل 2026
علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح

پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر