... loading ...
ملک پربڑھتے ہوئے گردشی یاسرکلر قرضوں، درآمدات میں بے انتہا اضافے اور برآمدات میں کمی کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں ملازم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم میں کمی کی وجہ سے ملک کی معیشت سنگین صورت حال کاشکار ہوکر رہ گئی ہے اور ملکی حالات اس قدر گھمبیر ہو چکے ہیں کہ ہماری معیشت بری طرح گرداب میں پھنسی نظر آرہی ہے ، اس وقت حقیقی صورت حال یہ ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کے زرمبادلے کے ذخائر غیر ضروری طورپر بڑھا چڑھا کر دکھانے کے لیے قومی ادارے گروی رکھ کر دنیا کے کم وبیش تمام مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرلیا ہے اور اب ان قرضوں پر سود اور منافع کی ادائیگی کے لیے مزید قرض حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور یہاںتک اطلاعات ملی ہیں کہ عالمی بینک نے پاکستان کو مزید قرض دینے سے انکار کردیاہے،اور اب صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف عوام کاایک بڑا طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہے اور دوسری طرف حکمراں ہرطرف سے آنکھیں بندکرکے ، شاہانہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیںلیکن اس کے باوجود ان کی لالچ اور اقتدار کی بھوک اپنے انجام تک نہیں پہنچ رہی ، حقیقی معنوں میں اس وقت ملک کے اندرونی و بیرونی حالات اپنی سمت تبدیل کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ ہمارے ملک میںہر طرف افراتفری کاسماں نظر آرہا ہے۔
بیرونی سطح پر پاکستان کو گوناگوںچیلنجوں کاسامنا ہے ،سابق وزیر اعظم کی انا کی وجہ سے ملک میں 4سال تک کوئی کل وقتی وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی سطح پر بھارت امریکا کے ساتھ مل کر پاکستان کیخلاف ایک محاذ کھڑا کرنے کی کوشش کررہاہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ موجودہ حکومت نے اپنی پوری مشینری سپریم کورٹ سے نااہل قرار دئے جانے والے عالیٰ جاہ کی امیج بلڈنگ اور ان کو نااہل قرار دینے والی پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے جج صاحبان کی کردار کشی کی مہم پر لگادیا ہے۔نااہل قرار دئے گئے عالی جاہ کے نورتنوں اور ان کے سیاسی جانشین اب عوام کو یہ باور کرانے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان کے 20کروڑ عوام نے ان کو ووٹ دیکر اسمبلی میں بھیجا تھا ، اوراعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے انھیں فارغ کردیا ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ن کو پاکستان کے20کروڑ نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ عوام نے ووٹ دیکر اقتدار کے ایوان میں بھیجا تھااور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ انھیں ووٹ دینے والے ان ڈیڑھ کروڑ عوام کی آشائیں پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہے اور اقتدار کے نشے میں خود کو شہنشاہ اعظم تصور کرنے لگے، اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت وہ کسر شان سمجھتے تھے یہاں تک کہ شبانہ روز محنت کے بعد منتخب ہوکراسمبلی میں اکثریت بنا کر انھیں اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچانے والے اپنی ہی پارٹی کے ارکان اسمبلی کے لیے بھی ان کے پاس وقت نہیں تھا ۔ کرپشن اور اقرباپروری کی سیاست میں لت پت حکمران ہمیشہ سے ہی اپنے “جاہ و جلال “اور بڑے محلات میں بادشاہت کی طرز پررہنا پسند کرتے ہیں آج ملک میں جس سیاسی لیڈرشپ کے فقدان کی باتیں ہو رہی ہیں اللہ جانتا ہے کہ پاکستان میں “کرپشن “اور “معیشت “ کی تباہی کو پروان چڑھانے میں ان سیاستدانوںکا اول دن سے ہاتھ رہا ہے ، اگرماضی کی تلخ حقیقتوں کو کھنگال کر دیکھاجائے تو ایسے ایسے تماشے اور کرپشن کی کہانیاں سننے کو ملیں گی جو رونگٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی ہوں گی۔ملک کے اربوں روپے لوٹنے والوں کو چند ٹکوں کے عوض چھوڑ دیاجاتا ہے ۔ پاکستان میں کرپشن کو ختم کرنے ، اداروں کو مضبوط اور “کشکول “ توڑنے کے حوالے سے جس طرح کے دعوے کیے گئے تھے۔ آج سے چار سال قبل اگر ان پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا جاتا توشاید ان کو آج دربدر نہ ہونا پڑتا ، مگر یہاں کرپشن کی گنگا آج تک بہہ رہی ہے پاکستان کا غریب طبقہ مصائب اور مشکلات کے لاتعداد مسائل میں جکڑاہوا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہی “کرپشن “کا ناسور ہے جو ملک کی بنیادوں کومضبوط نہیں ہونے دے رہا۔
پاکستان اس وقت جن حالات سے دوچار ہے اس کی ذمہ داری کسی ایک حکمران یا فرد پر نہیں ڈالی جاسکتی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں ایڈمنسٹریٹر سے لیکر چپڑاسی تک کرپشن کرنا اپنا قانونی اور جائز حق سمجھتا ہے اور اپنے جائز کام کرانے کے لیے بھی رشوت دینا ایک ضرورت بن چکا ہے۔ کرپشن کی لعنت نے جس قدر پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے اس سے بڑھ کر دوسرا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس وقت “دہشت گردی سے بڑا مسئلہ پاکستان میںکرپشن کاخاتمہ ہے “ مگر ایسا کون اورکیسے کرے گا یہ ایک تلخ سوال ہے جس کاجواب حاصل کر نااگرچہ پاکستان کے ہر فرد کا حق ہے ، لیکن اس کا کوئی جواب کسی کے پاس نظر نہیں آتا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک کا پورا نظام اس وقت سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں ہے جن کا مقصد پاکستان میں حکومت کرنا اور یہاں سے مال و دولت اکٹھا کرکے بیرون ملک محلات کھڑے کرناہے،تاکہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد پوری زندگی عیش وآرام سے گزار سکیں اور چین کی بانسری بجائیں ۔ آپ پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کر دیکھیں اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے جو قربانیاں دی گئیں ،اسے فلاحی ریاست بنانے کے لیے قائد محمد علی جناح جیسی نابغہ روزگار شخصیت نے جو افکار و نظریات ہمیں دئیے آج اس کا عشر عشیر بھی اگر پاکستان کو مکمل فلاحی ریاست بنانے کے لیے وقف کر دیاجاتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔سابقہ ادوار سے لیکر موجودہ حکومت تک سب نے کرپشن کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ اگر یہ نہیں مانتے تو یہ پاکستان کے عوام کو خود سمجھنا ہوگا ، پاناما اسیکنڈل اس کی ایک کڑی تھا۔اسی کیس کے حوالہ سے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں سابق حکمرانوں کی مزید ایسی کمپنیوں کا انکشاف ہوا جس نے پاکستان کے 20کروڑ عوام کے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ جبکہ اس کیس کے بعد سے آج تک موجودہ حکومت کے نورتن اور سابق حکمران ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں کہ “مجھے کیوں نکالا“ہمیں“کرپشن “کی وجہ سے نااہل نہیں کیا گیا بلکہ اپنے ننھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی صورت میں نااہل کر دیا گیا ، یہ وہ شرمناک فعل ہے جو پاکستان کے عوام کو ایک مرتبہ پھر لالی پاپ دینے کی کوشش ہے ، اب آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان میںگزشتہ چار سال کے دوران کیا گل چھرے اڑاے گئے۔کہتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو رہی ہے مگر انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومت اندرونی و بیرونی قرضوں تلے دبی ہوئی ہے اربوں ڈالر قرض لیکر ملک کا نظام چلانے کی کوششیں کی گئیں جو شاید ماضی کی کرپٹ ترین حکومت نے نہ کی ہوں۔ ابھی حال ہی میں ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس کے مطابق پاکستان کا ہر فرد 95ہزار روپے کا مقروض ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس رپورٹ میں بھی حقائق چھپائے گئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے ہر پاکستانی ایک لاکھ 16ہزار روپے کا مقروض ہے۔پاکستان پرواجب الادا قرضوں کے بارے میں جو حقائق قومی اسمبلی میںپیش کیے گئے اس سے قطع نظر اگر باریک بینی سے ان قرضوں کابغور جائزہ لیاجائے اور دیکھاجائے تو پاکستان کی اس حکومت نے جو خود کو پاکستان کی کامیاب ترین حکومت کہتے ہوئے نہیں تھکتی قرضوں کا ایک طوفان برپا کر رکھا ہے اور انتہائی ظالمانہ شرائط پر ملکی وغیر ملکی اوربھاری سود پر قرضے لے کر پوری قوم کو مقروض بنا دیا ہے۔موجودہ حکومت نے ملک کے بچے بچے کوقرضوںمیں توجکڑ دیاہے لیکن صحت اور تعلیم جیسے اہم ترین شعبوں پر رتی برابر کام نہیں کیا گیا بجٹ میں تعلیم اور صحت کے لیے مختص کیے گئے فنڈز کو اگر ایماندار ی سے خرچ کیاجاتا تو پاکستان میں تعلیم اورصحت جیسے شعبوں کوخاطر خواہ ترقی دی جاسکتی تھی اور پاکستان میںعام شہریوں کوبھی علاج معالجہ کی سہولتیں فراہم کی جاسکتی تھیں۔
آج پاکستان کے 20کروڑ عوام گزشتہ 4سال تک حکمرانی کرنے والوںسے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ “ہمارے مسائل ختم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتے ہی کیوں جارہے ہیںاور بھاری شرح سود پر حاصل کئے جانے والے قرضوں کی بھاری رقم کہاں غائب ہو جاتی ہے کس کے اکائونٹس میں منتقل ہورہی ہے “ پاکستان کا ہر شہری لاکھوں روپے کا مقروض ہے مگر ان کی حالت بہتر کرنے کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا گیا۔
ملکی معیشت کو دیکھاجائے تو آج ہماری برآمد اور درآمدات میں زمین آسمان کا فرق حائل ہے 20سال قبل پاکستان کی برآمدات کا حجم آج کی درآمدات سے زیادہ تھا مگر آج ہماری برآمدات تشویش ناک حد تک نیچے آچکی ہیں جبکہ موجودہ حکومت کے قرضوں کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ اس حکومت نے اپنے چار سال کے دوران تقریبا36ارب ڈالر قرضہ لیا ان بے تحاشہ قرضوں میں انٹر نیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر مالیاتی اداروں سے لی گئی 18ارب ڈالر کی رقم پہلے لیے گئے قرضوں کی ادائیگیوںکے لیے تھی جبکہ اس میں 18ارب ڈالرکا وہ نیا قرضہ شامل ہے جو کہاں خرچ کیا گیا آج تک اس کا کسی کو علم نہیں ۔ موجودہ حکومت نے9ماہ کے دوران 819ارب روپے مزید مقامی قرضے لیے ، 31دسمبر 2016تک مجموعی قومی قرضوں کی مالیت 12ہزار 310ارب روپے تھی جو آج 20ہزار ارب روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ یکم جولائی 2016سے لیکر 31مارچ 2017کے دوران موجودہ حکومت نے 819ارب روپے اندرونی قرضے لیے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تجارتی بینکوں سے حاصل کیے گئے حکومت نے اسٹیٹ بینک سے 735ارب روپے جبکہ تجارتی بینکوں سے 84ارب روپے قرضے لیے ان قرضوں کابھی کچھ اتاپتہ نہیں اس حکومت نے یہ رقم کہاں خرچ کی ، ان تمام تر حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا قطعاً غلط نہ ہوگا کہ ہمارے حکمران پروٹوکول اور شاہانہ زندگیاں گزارنے کے لیے ہی حکومت میں آتے ہیںا ور اقتداربے دخل ہوتے ہی وہ موسمی پنچھی کی طرح اڑکر لندن ،امریکا یا دبئی میں آشیانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ،اس صورتحال کاتقاضہ ہے ہمیںاب یہ سوچنا ہوگا کہ اگر آج ہم نے اپنے مستقبل کا نہ سوچا تو کبھی بھی ہم ان مسائل سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔
ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...
آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...
بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...
نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...
پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...
55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...
ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...
سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...
100انڈیکس میں 11015 پوائنٹس کی کمی سے 146480 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا خطے کی کشیدہ صورتحال پر انویسٹرز سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں،ماہرین کی گفتگو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی ریکارڈ کی گئی جس میں ہنڈریڈ انڈیکس 9453 پوائنٹس کی کمی سے 14804...
اپنی سرزمین، شہریوں، قومی سلامتی کے دفاع کیلئے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں خطے میں امن اور استحکام کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے،وزارت خارجہ سعودی عرب نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید ب...
جنگ کے نویں روز امریکی اور اسرائیلی کی جانب سے تہران کے نیلوفر اسکوائر پر بمباریم آئل ریفائنر اور آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،اصفہان کے 8 شہروں پر فضائی حملے، نجف آباد پر بمباری،ایرانی میڈیا ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل داغے،21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے،امریکی تی...
795زخمی ، 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ،وفاقی وزیر اطلاعاتعطا تارڑ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 583افغان طالبان ہلاک جبکہ 795زخمی ہو گئے ہیں ۔وفاقی وزیر ا...