... loading ...
عید الاضحی قربانی کا درس دیتی ہے اور فرزندانِ اسلام جانوروں کی قربانی دے کر سنّت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہیں ۔ اس سنّت کی ادائیگی کے بعد جانوروں کی آلائشیں عموماََ کچرا خانوں میں پھینکی جاتی ہیں ۔ ان آلائشوں کو اگر بر وقت شہری علاقوں سے نہ اٹھایا جائے تو علاقوں میں تعفّن اٹھنا لازمی امر ہے ۔ یہ تعفن اس قدر خطرناک ہوتا ہے کہ جو فوری طور پر طبی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ بعض حساس طبیعت کے حامل افراد کو فوری اُلٹیاں لگ جاتی ہیں جبکہ اس کے دور رس نتایج یہ برآمد ہوتے ہیں کہ اس علاقے میں انفیکشن پھیلنے لگتا ہے ۔ اور طرح طرح کی بیماریاں وبائی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں ۔ ان بیماریوں میں پیٹ کے امراض ، آنکھوں کا انفیکشن، جلدی بیماریاں وغیرہ شامل ہیں ۔ اور اگر کوئی مریض اس علاقے میں آپریشن کے بعد گھر پر آرام کر رہا ہوتا ہے تو اس کے زخم میں انفیکشن اور پَس پڑنے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ خصوصاََ معصوم نوزائیدہ بچے ایسے علاقوں میں مختلف مہلک بیماروں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔الغرض آلائشیں اُٹھانا محض صفائی سے جڑا ایک مسئلہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق طب وصحت کے مسئلے سے بھی ہے۔ اس لیے عیدالاضحی کے ایّام میں آلائشوں کے حوالے سے بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری پر ہر سال ایک سوال اُٹھایا جاتا ہے۔
آلائشیں اٹھانے کی ذمہ داری سابقہ ادوار میں شہر ی بلدیہ کی ہوا کرتی تھی۔ اب جبکہ سندھ حکومت نے بلدیاتی قوانین ایس ایل جی او 2013 ایکٹ نافذ کیا ہے اور کچرا اٹھانے کے لیے صوبہ بھر میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم کردیا ہے تو اس وقت سے یہ بلدیاتی اداروں سے زیادہ اب سندھ حکومت کی ذمہ داری ہو گئی ہے۔ تاہم سندھ حکومت نے اب تک دیگر معاملات کی طرح کچرا اٹھانے کے اختیار کو بھی کھٹائی میں ڈال رکھا ہے۔ جب سے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم ہوا ہے ضلعی بلدیات کے فنڈز یہ کہہ کر روکے جاتے ہیں کہ اب کچرا آپ کو نہیں اٹھانا۔ دوسری طرف سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے اپنے قیام سے اب تک یعنی پونے دو سال میں میٹرو پولیٹن شہر کراچی ( جس کی 6ضلعی بلدیات اور ایک ضلع کونسل کراچی بھی ہے )میں سے صرف 2 ضلعی بلدیات بلدیہ شرقی اور بلدیہ جنوبی کے ساتھ معاہدے کر کے کام شروع کیا ہے اوروہ بھی ادھورا بلکہ بڑی حد تک ناقص بھی ہے۔ بلدیہ شرقی اور جنوبی میں بھی صفائی کی مجموعی صورت حال غیر میعاری ہے۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ہوتے ہوئے بھی ان دونوں اضلاع میں کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں ۔ ہر طرف تعفن سے شہری پریشان ہیں ۔ سندھ حکومت نے بظاہر یہ محکمہ پورے صوبے کے لیے بنایا ہے مگر اس کی کارکردگی مجموعی طور پر صفر ہے۔ چینی کمپنی سے معاہدہ کرنے کے باوجود بھی اب تک کارکردگی ظاہر نہیں ہوسکی ہے۔ ایسی صورت حال میں آلائشیں اٹھانے کا کام متاثر ہونا ایک لازمی جز ہے۔
عید الاضحی کے موقع پر شہریوں نے سنّت ابراہیمی تو ادا کردی مگر متعلقہ ادارے اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں ۔ ضلعی بلدیات کے افسران بھی منتخب نمائندوں کو آلائشیں اٹھانے میں چونا لگا کر بھاری کمیشن وصول کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور خمیازہ کراچی کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عید کے تین روز ہونے والی جانوروں کی قربانی میں شہریوں نے تقریباََ 21 لاکھ جانوروں کی قربانیاں کیں جبکہ آلائشیں 16 لاکھ کے لگ بھگ ہی اٹھائی گئیں تقریباََ 5 لاکھ آلائشیں شہر کے مختلف مقامات پر عید کے چوتھے روز بھی پڑی تھیں ۔ ان آلائشوں کے باعث پورے شہر کی مرکزی سڑکوں پر گزرنے والے شہریوں کو شدید تعفن کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اور وبائی امراض پھیلنے کاخدشہ موجود ہے۔
سب سے زیادہ گھٹیا کارکردگی بلدیہ کورنگی کی رہی ہے ۔ لانڈھی ،کورنگی ، ملیر اور شاہ فیصل کالونی کے مختلف علاقوں سے بد انتظامی کے باعث تعفن اٹھ رہا ہے۔ انتظامیہ ضلعی بلدیات کورنگی آلائشیں اٹھانے کی گھٹیا کارکردگی میں پہلے نمبر پر رہی ہے ۔ عید سے قبل ایم کیو ایم نے عشرہ صفائی مہم شروع کروائی تھی ۔ مگر بلدیہ کورنگی نے صرف فوٹو سیشن کروائے اور کچرا پورے ضلع کے ہر علاقے میں ڈھیر کا ڈھیر موجود رہا۔ جبکہ عید کے موقع پر بھی صرف ثابت آلائشیں ہی اٹھائی گئیں اورایسی آلائشیں جو پھٹ گئیں تھیں انکی باقیات وہیں چھوڑدی گئیں جس سے مسلسل تعفن پھیل رہا ہے۔اور کئی مقامات پر آلائشیں اٹھانے کی بھی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی۔ سالڈ ویسٹ کی ذمہ داری سمیت ہر کام کا ٹھیکہ ایک ہی افسر نثار سومرو نے لے رکھا ہے اور چیئرمین نیئر رضا نے اس افسر پر اندھا اعتماد کر رکھا ہے۔ اس ضلع کے عوام بدترین دور سے گزر رہے ہیں ۔ سڑکوں پر کچرا ، کچرا کنڈیاں تعفن دیتی ہیں ، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ اسٹریٹ لائٹیں گزشتہ ایک سال سے بند ہیں ، پارک اجڑے ہوئے ہیں ۔ بلدیہ کورنگی میں منتخب چیئر مین کی موجودگی کا عوام کو احساس بھی نہیں ہوتا۔ سابقہ ایڈ منسٹریٹر کے دور اور آج کے دور میں معمولی فرق بھی نہیں آیا۔ پھر عید الاضحی کے موقع پر عوام کو سکون کیسے مل سکتا تھا۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ چیئرمین کورنگی سے عوام رابطہ بھی نہیں کر سکتے ۔ وہ اپنے دفتر سے اکثر غائب رہتے ہیں ۔ ایم کیوایم کے ایک رکن سندھ اسمبلی سے جب اس کی شکایت کی گئی تو اُن کا جواب یہ تھاکہ وہ تو ہمارا فون بھی نہیں اٹھاتے۔
بدترین کارکردگی میں دوسرے نمبر پر بلدیہ غربی رہی کہ جہاں منتخب نمائندوں کی موجودگی میں ایڈمنسٹریٹر محکمہ بلدیات حکومت سندھ کو بھاری نذرانے ادا کر کے اپنی تعیناتی کرواتے ہیں ۔پھر یہ ایڈ منسٹریٹرز کرپشن کر کے اپنی سرمایہ کاری بمعہ منافع حاصل کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔ بلدیہ غربی میں اورنگی ، سائٹ، کیماڑی،اور بلدیہ ٹاون، کے علاقے شامل ہیں ۔ یہاں بھی آلائشیں اٹھانے میں بھرپور بدعنوانیاں سامنے آئیں اور اس میں میونسپل کمشنر، سالڈ ویسٹ بلدیہ غربی کے افسران ملوث تھے۔
تیسرے نمبر پر بلدیہ جنوبی ہے کہ جہاں صدر اور لیاری کے علاقے شامل ہیں ۔ گنجان آباد اس ضلع میں بھی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈکا عمل دخل ہے۔ یہاں پر بلدیہ جنوبی کے محکمہ سالڈ ویسٹ کے افسران اور میونسپل کمشنر نے طبیعت سے چونا لگایا ہے۔ آلائشیں اٹھانے کے لیے کرائے پر لی گئی گاڑیوں کی کم تعداد اور 3 روز کے لیے خاکروب بھی کم تعداد میں لیے گئے مگر بلدیہ جنوبی کے خزانے سے بھاری تعداد گاڑیوں کی اور خاکروبوں کی ظاہر کر کے وصولی کر لی جائے گی۔
چوتھے نمبر پر بلدیہ وسطی کی کارکردگی منفی رہی ہے۔ بڑا اور گنجان آباد ضلع 4 زونوں نیو کراچی، ناظم آباد، لیاقت آباد اور گلبرگ پر مشتمل ہے۔ اس ضلع کے افسران سالڈ ویسٹ بھی منتخب قیادت کو بے وقوف بنانے میں کامیاب رہے ہیں ۔ کروڑوں کی کرپشن کار کردگی سے نمایا ں ہے ۔ شہر بھر میں کچرا تو آلائشوں پر ڈالا جاتا رہا اور سامنے نظر آنے والی آلائشیں اٹھالی گئیں ۔ جو دب گئیں ان میں سے شدید تعفن اٹھ رہا ہے۔ اسی بد انتظامی کے باعث شہر کا حال بہت بُرا ہے۔
بد انتظامی میں پانچویں نمبر پر بلدیہ شرقی رہا ۔ یہاں ایک افسر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا ڈائریکٹر شفیق الرحمان ملوث ہے کہ جس نے بلدیہ شرقی کا ڈائریکٹر سالڈ ویسٹ اپنے ہم نوا افسر نفیس احمد کو اپنے اثر و رسوخ سے تعینات کروایا ہے ۔ نفیس احمد کو سالڈ ویسٹ کا فوکل پرسن برائے آلائش بھی بنایا گیا تھا۔ شفیق الرحمان بلدیہ شرقی میں اپنے من پسند افسران کو اہم عہدوں پراپنے اثر و رسوخ سے تعینات کرواتا ہے ۔ ذرایع کے مطابق ان افسران نے ڈھائی کروڑ کا ٹھیکہ گرداری لال نامی شخص کو 500 سوزوکی پک اپ کی 3 روز فراہمی کا دیا تھا ۔ فی گاڑی 2 ملازم 3 روز کے لیے رکھے تھے۔ اس سے قبل ہر سال فی گاڑی 3 خاکروب رکھے جاتے تھے ۔ بلدیہ شرقی جو آلائشیں اٹھانے میں اعلیٰ کارکردگی میں 14 سال تک پہلے نمبر پر رہا ہے ۔ تاہم اس سال ناقص کارکردگی کے باعث اپنا مقام کھو چکا ہے ۔
آلائشیں ٹھکانے لگانے میں بلدیہ ملیر اور ضلع کونسل کراچی کی کار کردگی قدرے مناسب نظر آئی ۔ مکمل تو نہیں تاہم ان اداروں نے کافی حد تک بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم اسے اطمنان بخش کسی طور پر قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ البتہ مجموعی کارکردگی بہتر کہی جاسکتی ہے۔
ناقص کارکردگی کی اصل وجہ افرادی قوت کی کمی اور کم گاڑیوں کا استعمال ہے جن ضلعی بلدیات نے گزشتہ برسوں میں آلائشیں اٹھانے کے لیے مجموعی طور پر 1500 گاڑیوں کا استعمال کیا تھا اس سال ذ رائع کے مطابق بلدیہ وسطی نے 1200 گاڑیاں حاصل کیں ۔ بلدیہ غربی نے تو حد ہی کردی۔ ذرائع کے مطابق5 زونوں میں صرف 500 گاڑیاں کرائے پر حاصل کی گئیں ۔ جبکہ ادائیگی کے لیے 1200 گاڑیاں ظاہر کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔آلائشیں اٹھانے کے لیے بلدیہ غربی نے فی گاڑی 2 ملازم 3 روز کے لیے رکھے تھے اس سے قبل ہر سال فی گاڑی 3 خاکروب رکھے جاتے تھے ۔ افرادی قوت اور گاڑیوں کی کمی نے کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ۔بلدیہ کورنگی میں بھی 3 کی جگہ 2 خاکروب ایک گاڑی میں کام کر رہے تھے۔ اور ذرایع کے مطابق صرف 450 گاڑیاں کرائے پر حاصل کی گئیں تاہم ادائیگی کے لیے 800 تا 1200 گاڑیاں ظاہر کی جانے کی اطلاعات ہیں ۔ اس کی سب سے زیادہ ذمہ دار سندھ حکومت ہے۔ اس گھٹیا کار کردگی کی کہ جس نے صوبائی سطح کا ادارہ سندھ سالڈ ویسٹ تو بنا دیا مگر اس کے مثبت اثرات سے عوام کو اب تک کوئی فائدہ تو نہیں ہوا البتہ تکلیف کا سامنا ضرور ہے۔ پھر ذمہ داری ضلعی بلدیات کے منتخب چیئرمینوں کی ہے کہ انہوں نے اپنے افسران کو کیوں کھلی چھوٹ
دے رکھی ہے اور کرپشن کی خبروں پر کیوں آنکھیں بند کر کے چشم پوشی کرتے ہیں ۔ کیوں اخبارات کی خبروں کا نوٹس نہیں لیتے اور اپنے افسران کی ہر بات پر یقین کر لیتے ہیں ۔ اُن کے بعد یہ ذمہ داری ان سیاسی جماعتوں کی ہے کہ وہ اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے چیئرمینوں کی کار کردگی کا جائزہ لیں اور اخبارات کی خبروں پر اپنے چیئرمینوں سے باز پرس بھی کریں ۔ ورنہ عوم اس بات کو سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ کرپشن میں منتخب نمائندے بھی ملوث ہیں اور جن سیاسی جماعتوں سے ان کا تعلق ہے وہ یا ان کے اعلیٰ عہدیداران بھی کرپشن کی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں ۔
عمران علی شاہ
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...