وجود

... loading ...

وجود

نوازشریف کی مہم جوئی، دباؤ کے ذریعے این آراو کی کوشش

اتوار 13 اگست 2017 نوازشریف کی مہم جوئی، دباؤ کے ذریعے این آراو کی کوشش

پاکستان میں سیاسی چالوں کا موسم عروج پر ہے۔ سابق وزیر اعظم میا ں نواز شریف وزارت عظمیٰ سے نکالے جانے پر سراپا احتجاج ہیں ۔ وہ گزشتہ چار روز سے جی ٹی روڈ پر جلسے ، جلوسوں سے خطاب اور ریلی کی قیادت کرتے ہوئے لاہور پہنچے ۔ ان کے لاہور پہنچنے سے ایک گھنٹہ قبل اچانک ایک خبر چلی جس میں کہا گیا کہ نواز شریف نے حلقہ این اے 120سے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں ۔ یہ خبر اس قدر حیران کن تھی کہ نواز شریف کے چاہنے والے خوشیوں کے شادیانے بجانے لگے اور اپنی طرف سے تعبیریں ڈھونڈنے لگے کچھ تو اسے جسٹس (ر) افتخار چیمہ کیس سے ملانے لگے اور بعض نے اسے جہلم کے ہوٹل میں ہونے والی ’’ڈیل‘‘ قرار دیا ۔ دوسری جانب نواز شریف کے مخالفین پر یہ خبر بجلی بن کر گری اور وہ بھی اسے ’’ڈیل‘‘ سمجھ کر سخت غصے میں دکھائی دیے ، جب اس شخص کی تفصیلات معلوم کی گئی تو پتہ چلا کاغذات نامزدگی جمع کرانے والا شخص قصور کا رہائشی نواز شریف ہے ۔
یہ ایک سیاسی چال ہی ہے جو ممکنہ طور پر تحریک انصاف نے چلی ماضی میں بھی اس طرح کی مثالیں موجود ہیں جب کسی پاپولر لیڈر کے ہم نام کواستعمال کیا گیا۔ اس کا مقصد اس شخصیت یا پارٹی کے ووٹ بنک کو نقصان پہنچانا اور مخالف امیدوار کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے ۔سیاسی چالوں پر نظر دوڑائیں تو اس ملک کو بنے 70سال ہوچکے ہیں ۔ ان میں سے نصف سے زائد عرصہ غیر سیاسی حکمران رہے ہیں ، وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ غیر سیاسی لوگ ہی سب سے خطرناک ’’سیاسی چال‘‘ چلتے رہے ہیں ۔ ان چالوں سے ملک کو کو ئی فائدہ تو نہیں پہنچا البتہ بے پناہ نقصان ضرور ہوا ہے۔ ان میں ایک مشرقی پاکستان کا ہم سے جدا ہونا بھی شامل ہے ، پاکستان میں اب تک کسی بھی وزیر اعظم کو اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ کبھی مارشل لاء نے سول حکومت کو نکالا تو کبھی صدر پاکستان نے۔ اس بار عدالت عظمیٰ نے یہ ’’روایت‘‘ آگے بڑھائی ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس ایک منتخب وزیر اعظم کو گھر بھجوانے کے یقیناََ ناقابل تردید ثبوت ہوں گے، اگر اس ملک میں ہونے والے ماضی کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو عدلیہ کا کردار قابل فخر معلوم نہیں ہوگا ۔
حال میں جب ایک منتخب وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ایک عدالتی فیصلے کے نتیجہ میں رخصت کیا گیا تو انہوں نے اس فیصلے پر عمل توکیا البتہ اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ، وہ گزشتہ چار روز سے اپنی سب سے مضبوط حمایت والے علاقوں جی ٹی روڈ سے گزر کر لاہور پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ایک اندازے کے مطابق اس جلسہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد موجود تھے ، مسلم لیگ ن کا کارکن ہمیشہ سے ہی سہل پسند سمجھا جاتا رہا ہے لیکن چار روز میں ان کارکنوں نے اپنے اوپر لگی سہل پسندی کی چھاپ اتارنے کی بھر پور کوشش کی ہے، وہ اس میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں یہ وقت ہی بتائے گا البتہ اب تک میاں نواز شریف کی آواز پر گھروں سے باہر نکلنے والے عوام کی تعداد کو قابل ذکر کہا جاسکتا ہے ، وہ جب گزشتہ روز گوجرانوالہ سے لاہور کی جانب روانہ ہوئے تو جی ٹی روڈ پر ان کا جگہ جگہ پرتپاک استقبال کیا گیا۔ انہوں نے کا نوکی ، مرید کے ، کالاشاکاکو ، شاہدرہ اور لاہور میں اپنے کارکنوں سے خطاب میں ایک ہی سوال کیا کہ وہ انہیں جب بھی بلائیں گے تو کیا آپ لوگ میرا ساتھ دو گے، میاں نواز شریف جو ایک آمر جنرل ضیاء الحق کی سیاسی پیدائش اور پاکستان کی سیاست میں تاجروں ، صنعت کاروں اور مڈل کلاس کے نمائندہ سمجھے جاتے رہے ہیں ،اب
انقلاب کی بات کررہے ہیں ، پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ نواز شریف نے کرپشن کی ہوتی تو کان سے پکڑکر باہر نکال دیتے، آنکھ شرم سے نہ اٹھتی،آپ وزیراعظم بناتے ہیں ، وہ پرچی کو پھاڑکرہاتھوں میں تھمادیتے ہیں ۔ انشاء اللہ مسلم لیگ ن ووٹ کااحترام کروائے گی،یہ فیصلہ دنیامیں پاکستان کی رسوائی کا فیصلہ ہے، پاکستان کے عوام نے فیصلہ کو مستردکردیا ہے، جلد میراپیغام آپ تک پہنچے گا، انقلاب کے لیے تیار رہنا، پریشان مت ہونا، یہ آپ کی جیت ہورہی ہے،آپ لوگ مجھے سوچ کر بتائیں کہ پاکستان کے اصلی مالک کون ہیں ؟ یہ 20 کروڑ عوام ہیں ۔ پاکستان کو بنے70 سال ہوگئے، اب ہم عوام کومالک بنائیں گے نوازشریف آج آپ کے پاس آیاہے، آپ نے نوازشریف کو وزیراعظم بنا کراسلام آباد بھیجا تھا۔انہوں نے واپس بھیج دیا سابق وزیر اعظم نے کہاکہ آپ کوعدالت کافیصلہ منظورہے؟نوازشریف نے ایک پائی کی بھی کرپشن کی ہوتی تومجھے کان سے پکڑکرباہرنکال دیتے، میری شرم سے آنکھ نہ اٹھتی میرے ساتھ زیادتی کی گئی ہے،کوئی کرپشن نہیں کی نہ ہی ہیراپھیراہوئی ہے،مجھے کہہ رہے ہیں کہ آپ نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ لی ہے،کوئی باپ بھی تنخواہ لیتاہے؟کیا آپ لوگوں کویہ فیصلہ منظورہے؟نوازشریف نے کہا کہ آپ کے ووٹ کی پرچی کی کیاحیثیت ہے؟وہ پھاڑکرہاتھوں میں تھمادیتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ آپ نے وزیراعظم بنایامیں خدمت کررہاتھا،بجلی پیداکی سڑکیں بن رہی تھیں موٹرویز بن رہے تھے،کراچی سے لاہور موٹروے بن رہے تھے سی پیک بن رہا تھا
نوجوانوں کو روزگار ملنا شروع ہوگیا تھا اگر ترقی کی یہی اسپیڈ جاری رہتی تو اگلے دو تین سالوں میں پاکستان سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو جاتا، ٹیوب ویل، پنکھا، کارخانہ 2013میں نہیں چلتا تھا، سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے سوا دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں جہاں یہ کھیل تماشا ہورہا ہو،یہ گھناؤنا مذاق صرف پاکستان میں ہورہاہے،انشاء اللہ آپ کے ووٹ کااحترام مسلم لیگ ن کروائے گی،آپ نے ایک وزیراعظم کی تذلیل کرکے باہرنکال دیا،کیا یہ ووٹ کااحترام ہے؟انہوں نے کہاکہ اس ملک میں پھر کیا ہونا چاہیے؟انقلاب آناچاہیے یانہیں ؟یہ فیصلہ دنیامیں پاکستان کی رسوائی کافیصلہ ہے،پاکستان کے عوام اس فیصلے کومستردکررہے ہیں ،پاکستان کی دنیامیں توقیراور عزت پرآنچ آرہی ہے جومجھے منظورنہیں ،انہوں نے کہاکہ اگرآپ کاجذبہ سلامت ہے توپھرآپ عزت دارشہری بنیں گے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ترقی کی بلندیوں پرجائے گا۔ہم نے ملک کے اندرانقلاب لے کرآناہے،کیاآپ نوازشریف کاساتھ دوگے؟ نوازشریف بھی آپ کوکبھی دھوکا نہیں دے گابلکہ نوازشریف آپ کیساتھ ہمیشہ وفاکرے گا،انہوں نے کارکنوں سے وعدہ لیاکہ نوازشریف کاجلد آپ تک پیغام پہنچ جائے گاپھرمیرے قدم سے قدم ملاکرچلنا،سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قافلے کے ہمراہ لاہور کی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہیلی کاپٹر کے ذریعے تمام راستوں کی فضائی نگرانی کی جاتی رہی جبکہ شاہدرہ اور داتا دربار میں جلسوں کے مقامات کے اطراف بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی کی جاتی رہی،سابق وزیر اعظم نواز شریف کی لاہور آمد کے پیش نظر میٹرو بس سروس کا روٹ محدود کردیا گیا جبکہ داتا دربار اور کچہری روڈ سے ملحقہ سڑکیں بھی بند کر دی گئی تھیں ،گجومتہ سے شاہدرہ تک چلنے والی میٹرو بس گجومتہ سے ایم اے او کالج تک چلتی رہی ، جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ، دوسری جانب نواز شریف کی لاہور آمد کے باعث داتا دربار، کچہری روڈ اور شاہدرہ سے ملحقہ سٹرکیں عام ٹریفک کے لیے بند کردی گئیں ، پورے شہر کو بینرز ، پینا فلیکس،ا سٹیمرز اور دیگر اشتہاری مواد سے بھر دیا گیا ، نواز شریف کی قد آدم تصاویر نصب کی گئیں ، ہزاروں من پھولوں کی پتیاں نواز شریف کے قافلے پر نچھاور کی گئیں ،لاہور جلسے میں ن لیگ کے اہم رہنما خواجہ آصف، رانا تنویر، ماروی میمن، طلال چودھری، عابد شیر علی سمیت متعدد رہنما ریلیوں کی صورت میں شامل ہوئے ۔نواز شریف کے جلسہ کے مقام کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے ناقدین داتا دربار کے سامنے جلسہ کرنے اور نواز شریف کی داتا دربار پر حاضری کے کئی مطلب نکال رہے ہیں ، نواز شریف خاندان بنیادی طور پر بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے اسی لیے ڈاکٹر طاہر القادری شریف فیملی کی بنائی اتفاق مسجد کے امام رہے ہیں ۔ میاں نواز شریف ، شہباز شریف داتا دربار پر حاضری دیا کرتے تھے بعد میں ان کا رجحان دیو بندی مکتبہ فکر کی جانب بھی ہوا اور میاں نواز شریف ،عباس شریف اور ان کے دیگر عزیز و اقارب رائیونڈ کے تبلیغی اجتماع میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے ،سابق گورنر سلمان تاثیر پر شان رسالت میں گستاخی کا الزام عائد کرکے اسے قتل کرنے والے ممتاز قادری کو پھانسی دینے پر بریلوی مکتبہ فکر کے لوگ میاں نواز شریف کے ساتھ سخت ناراض تھے۔ اب جلسہ کے لیے اس مقام کو منتخب کرنے کو بریلوی مکتبہ فکر کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔ نواز شریف ایک جانب انقلاب کی بات کررہے ہیں اور دوسری جانب وہ وسیع تر ڈائیلاگ کی بات بھی کرتے ہیں ، تجزیہ کار اسے بھی نواز شریف کی ایک سیاسی چال قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقدین اسے نئے این آر او کے حصول کی کوشش سمجھتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر