وجود

... loading ...

وجود

نوازشریف محاذ آرائی کے راستے پر

هفته 12 اگست 2017 نوازشریف محاذ آرائی کے راستے پر

سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے بعد اسلام آباد سے لاہور کی جانب گامزن ہیں ، جمہوریت ریلی کی قیادت کرتے ہوئے وہ آج گوجرانوالہ سے لاہور روانہ ہوں گے ۔سابق وزیر اعظم نواز شریف گزشتہ روز مقررہ وقت 10بجے سے حسب معمول ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے جہلم کے ایک نجی ہوٹل سے روانہ ہوئے تو جہلم سے گجرات اور گجرات سے گوجرانوالہ تک ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا ۔ نون لیگ جس کو اقتدار کی پارٹی سمجھا جارہا تھا سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ نے اس کو ’’سیاسی قوت‘‘ میں بدل دیا ہے۔ نواز شریف 80کی دہائی میں اس وقت کے ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے قریبی ساتھی جنرل فضل حق کی اُنگلی پکڑ کر سیاسی میدان میں آئے ، صوبائی وزیر خزانہ سے شروع کیے گئے سفر کی پہلی منزل پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزارت اعلیٰ قرار پائی وہ پنجاب کی تاریخ کے پہلے وزیر اعلیٰ ہیں جو ایک سے زائد بار اس منصب پر فائز ہوئے ۔وقت کے ساتھ ساتھ نواز شریف نے پنجاب سے بھٹو کی سیاست کا جنازہ نکال دیا ، پیپلز پارٹی جس کی بنیاد اسی شہر لاہور میں رکھی گئی تھی آج ایک ایک ووٹ کو ترس رہی ہے ، نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم بنے تو انہیں اس وقت کے صدر اسحاق خان نے 1973کے آئین میں ڈکٹیٹر کی ڈالی گئی ترمیم 58ٹو۔ بی کے تحت اقتدار سے نکال دیا یعنی جس ڈکٹیٹر کی وجہ سے نواز شریف نے سیاسی میدان میں قدم رکھا اسی کی آئینی ترمیم کے ’’سانپ‘‘ نے انہیں پہلی بار ڈسا۔ دوسری بار انہیں اپنے ہی مقرر کیے گئے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف جسے وہ ’’لاوارث‘‘ سمجھ کر اور کئی سینئر جرنیلوں کو بائی پاس کرکے آرمی چیف لگایا تھا کے ہاتھوں نہ صرف وزارت عظمیٰ سے گئے بلکہ 10ماہ جیل اور پھر سعودی عرب کی مداخلت پر خاندان سمیت ملک بدر بھی کردیے گئے پہلی بار میاں نواز شریف اپنے سیاسی باپ جنرل ضیاء الحق کی ترمیم سے ڈسے تو دوسری بار اسی جرنیل کے ادارے نے ہاتھ دکھا دیا ، اپنی جلاوطنی کی مدت پوری کیے بغیر وطن واپس آنے پر ’’طاقتور‘‘ ادارہ نواز شریف سے ناراض تھا جس کا اظہار وقتاََ فوقتاََ کسی نہ کسی صورت میں کرتا رہتا ، 2013کے الیکشن میں نواز شریف کی پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تو ان کے سیاسی حریف عمران خان نے پہلے4حلقوں میں دھاندلی کا شور مچایا اور بعد میں یہ تعداد 35حلقوں تک پہنچ گئی اور 35پنکچر کا نیا نام پاکستان کی سیاست میں متعارف ہوا ، عمران خان نے دھاندلی کے خلاف 2014میں دھرنا دیا جو 126دنوں پر محیط تھا ، سپریم کورٹ کے بنائے کمشن نے دھاندلی کا الزام مسترد کرتے ہوئے الیکشن کو صاف و شفاف قرار دیا تو حکومت کو کچھ ہوش آیا اور وہ ترقیاتی کاموں میں مصروف ہوگئی ملک بھر میں بجلی کے بحران سے جان چھڑانے کے لیے توانائی کے منصوبے شروع کیے گئے ، تباہ حال اداروں اور معیشت کو پٹڑی پر لانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ، اقتصادی راہداری کا تاریخی منصوبہ شروع کیا گیا وہ ملک جو 2013تک ڈیفالٹر ہونے کے قریب تھا ایک بار پھر پائوں پر کھڑا ہونے لگا ، اچانک پاناماا سکینڈل نے حکمرانوں کے ہوش اڑا دیے۔ آخر کار وزیر اعظم میاں نواز شریف ایک عدالتی فیصلے پر نا اہل ہوئے تو وزارت عظمیٰ سے بھی گئے ، نواز شریف نے عدالت کا فیصلہ مان لیا اور وزیر اعظم ہائوس خالی کردیا جہاں ان کی پارٹی کا ایم این اے شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم کے منصب پر منتخب ہوچکا ہے ۔
نواز شریف نے 9اگست کو اسلام آباد سے جمہوریت ریلی شروع کی اس کا بظاہر مقصد اپنے گھر لاہور واپس آنا ہے لیکن اس کو جس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے وہ ایک خالصتاََ سیاسی ایونٹ بن گیا ہے ، گزشتہ تین روز میں سابق وزیر اعظم اپنے ووٹر اور کارکنوں کو یہ باور کرانے کی کوشش میں ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ، آج پنجاب کے ہر شہر ، گلی ، محلے ، چوک و چوراہے میں نواز شریف کے مظلوم ہونے کا تاثر اُبھارا جارہا ہے ، نواز شریف ایک قانونی فیصلے کو سیاسی فیصلے میں بدلنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔وہ جیسے جیسے لاہور کی جانب بڑھ رہے ہیں ان کا لہجہ تلخ ہوتا جارہا ہے وہ عدالت عظمیٰ کے معزز ججز پر کھل کر تنقید کررہے ہیں ۔وہ اپنے خلاف آنے والے فیصلے کو پہلے سے لکھا ہوا فیصلہ کہہ رہے ہیں ۔ ان کے اس بیانیہ کو پنجاب کے عوام نے قبول کرلیا ہے ۔ ن لیگ کے کئی اہم رہنما خود حیران ہیں کہ جو پارٹی سیاسی سے زیادہ اقتدار کی پارٹی رہی ہے وہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجہ میں عوامی پارٹی میں بدل گئی ہے ، نواز شریف آج لاہور پہنچ کر کئی اہم اعلان کرسکتے ہیں جس کا اظہار وہ پورا راستہ کرتے رہے وہ کئی بار اپنے کارکنوں سے وعدہ لے چکے ہیں کہ وہ میری کال پر میرا ساتھ دیں گے ۔ ان کے اس اعلان کو سیاسی پنڈت سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ کیا وہ ایک بار پھر محاذ آرائی کی سیاست کرنے جارہے ہیں یا کوئی اور راستہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ آج کل میں پتہ چل جائے گا۔ نواز شریف کے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ہر ہتھکنڈہ استعمال کریں گے ، ماضی میں ان کی سیاسی حریف بے نظیر بھٹو شہید ہوا کرتی تھیں جن کے خلاف وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر سیاسی انتقام لیا کرتے تھے ، آج وقت بدل گیا ہے کل نواز شریف خود کو تاریخ کے رائٹ سائڈ پرسمجھتے تھے (حالانکہ تب وہ تاریخ کی رانگ سائڈ پر تھے)آج وقت بدل گیا ہے لوگ سمجھ رہے ہیں بے نظیر بھٹو شہید کے خاوند اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کسی حد تک اسٹیبلشمنٹ کی ’’گڈ بک‘‘ میں ہیں ۔دوسری جانب عمران خان نے خود کو اسٹیبلشمنٹ کا ’’مہرہ‘‘ ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے ،وہ ’’ایمپائر‘‘ کی انگلی کے منتظر رہتے ہیں ، دھرنے میں ان کی خواہش پوری نہ ہوئی تو پاناما فیصلے سے ان کی منشا پوری ہوگئی ۔ نواز شریف اس فیصلے کو عمران خان کی خواہش کی تکمیل سمجھ کر آئندہ ایسے فیصلوں سے بچنے کے لئے آج باہر نکلے ہیں ، آج جب وہ لاہور پہنچیں گے اور اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے تو پاکستان کے مستقبل کی سیاست کا تعین ہوگا یا پھر خود نوازشریف کے مستقبل کا تعین ہوجائے گا۔

 


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر