... loading ...

حکومت سندھ نے ان دنوں ایسے فیصلے کیے ہیں جو آگے چل کر اس کے گلے پڑیں گے لیکن فی الحال وفاقی سطح پر آنے والے بحران کا حکومت سندھ نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اس لیے پچھلے نو سالوں سے حکومت سندھ کو نیب اور دیگر قوانین اچھے لگ رہے تھے اور اب نو سال کے بعد حکومت سندھ کو محسوس ہوا کہ نیب کے قوانین ختم کر دیئے جائیں تو ایک منٹ بھی دیر نہ کی گئی اور فوری طور پر نیب کے قوانین ختم کرکے سندھ میں اینٹی کرپشن ایجنسی قائم کرنے کے لیے سندھ اسمبلی سے قانون سازی کرلی گئی۔ اس بل پر گورنر سندھ محمد زبیر نے اعتراض بھی اٹھائے مگر حکومت سندھ نے اس اعتراض کو پس پشت ڈال کر فوری طور پر دوبارہ بل سندھ اسمبلی سے منظور کرالیا۔ سندھ اسمبلی سے دوبارہ بل منظور ہونے کے بعد اب یہ بل قانون بن چکا ہے۔ اور یہ صوبے میں فوری طور پر نافذ بھی کر دیا گیا ہے۔
یہ نیا ادارہ کیسا ہوگا؟ اس کا ڈھانچہ کیا ہوگا؟ اس میں کتنے افسران کو ڈائریکٹر بنایا جائے گا؟ فیلڈ اور آفس میں کتنے اور کون سے افسران کام کریں گے؟ جس پر کوئی بھی افسر کچھ بھی بتانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ محکمہ اینٹی کرپشن میں حال ہی میں غلام قادر تھیبو کو چیئرمین کے عہدے سے ہٹاکر کراچی پولیس چیف بنایا گیا ہے اور علم الدین بلو کو نیا چیئرمین بنا دیا گیا ہے۔ اورخالد چاچڑ کو اسپیشل سیکریٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے لیکن اب وہ شاید دو تین ماہ بھی کام نہ کرسکیں کیونکہ سندھ اسمبلی سے قانون سازی کے بعد نئی اینٹی کرپشن ایجنسی پر کام شروع کر دیا گیا ہے مگر دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کے کسی بھی افسر کو اس نئے ادارے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ چیئرمین تو دور کی بات ہے کسی ڈائریکٹر کو بھی کچھ پتہ نہیں ہے کہ نیا ادارہ کیسا ہوگا؟ کو نئے عہدے رکھے جائیں گے؟ موجودہ افسران کو کون سے عہدے دیئے جائیں گے؟ نئے ادارے میں چیئرمین کے ماتحت کتنے افسران ہوں گے؟ بتایا جاتا ہے کہ نئے چیئرمین کے لیے جسٹس (ر) زاہد قربان علوی کا نام لیا جا رہا ہے کیونکہ وہ پچھلے دس برسوں سے صوبائی زکوٰۃ کونسل کے چیئرمین کے طو رپر کام کر رہے ہیں۔ 2013 کے عام انتخابات میں انہیں فرماں برداری کے باعث نگراں وزیراعلیٰ بنایا گیا اور جب عام انتخابات ہوئے تو پھر انہیں دوبارہ صوبائی زکوٰۃ کونسل کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ اب ان کا نام اینٹی کرپشن ایجنسی کے چیئرمین کے طور پر لیا جا رہا ہے چیئرمین کے ماتحت ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ ہوگا اور پانچ ڈائریکٹرز کے عہدے ختم کرکے اس کی جگہ صرف دو ڈائریکٹرز تعینات کیے جائیں گے۔ ڈی جی کے لیے موجودہ ڈائریکٹر عثمان غنی صدیقی کا نام لیا جا رہا ہے جو آصف زرداری کے کاروباری شراکت دار انور مجید کے قریبی رشتے دار بنائے جاتے ہیں۔ عثمان صدیقی گریڈ 19 میں پولیس سروس آف پاکستان کے ایس ایس پی ہیں ڈی جی کے لیے گریڈ 20 کا افسر ہونا لازم ہے لیکن عثمان غنی صدیقی کے لیے ڈی جی کا عہدہ گریڈ 19 میں رکھا گیا ہے یوں اینٹی کرپشن ایجنسی میں اصل طاقت عثمان غنی صدیقی کے پاس ہوگی جو انور مجید کے ذریعہ اس نئے ادارے کو چلائیں گے پس پردہ انور مجید ہی اینٹی کرپشن ایجنسی کے امور کے نگراں ہوں گے اور عثمان غنی صدیقی اس وقت افسران کے ساتھ مل کر نئے ادارے کا ڈھانچہ تیار کررہے ہیں جس کے ساتھ محکمہ قانون کے افسران بیٹھ کر کاغذی کارروائی کر رہے ہیں۔ اور وہ مکمل ڈھانچہ بنا کر وزیراعلیٰ سندھ سے منظور کرالیں گے اس کے بعد اس نئے ادارے کے قیام عمل میں آجائے گا۔ ایک بات کا شک پیدا ہوگیا ہے کہ جب ادارے کا قیام نیک نیتی پر مبنی ہے تو پھر اس عمل کو کیوں خفیہ رکھا جا رہا ہے ہونا تو چاہیے تھا کہ نئے ادارے کے قیام سے قبل محکمہ اینٹی کرپشن کے موجودہ افسران کو ذمہ داری دی جاتی کہ وہ اس کا ڈھانچہ تیار کریں اور اس کے لیے محکمہ قانون سے بھی مدد لیں لیکن ایسا نہ کرکے شکوک و شبہات پیدا کیے گئے ہیں۔ خود محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران بھی غیریقینی کی صورتحال سے دو چار ہیں ان کو بھی اپنا مستقبل خطرات میں گھرا ہوا نظر آرہا ہے۔ مگر صرف اطمینان انور مجید اور ان کے چہیتے رشتے دار عثمان غنی صدیقی کو ہے۔ جب غلام قادر تھیبو چیئرمین محکمہ اینٹی کرپشن تھے تو اس وقت عثمان غنی صدیقی مکمل طور پر با اختیار تھے پھر چیئرمین اینٹی کرپشن بھی ان کے ہاتھوں مجبور تھے جیسے عثمان غنی صدیقی کہتے تھے ایسے ہی چیئرمین کرتے تھے پھر وہ وقت بھی آیا جب حکومت سندھ نے محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا تو چیئرمین اینٹی کرپشن نے 50 لاکھ روپے کی رقم عثمان غنی صدیقی کے حوالے کی اور باقی 50 لاکھ روپے کی رقم باقی چار ڈائریکٹرز اور 29 اضلاع کے ڈپٹی ڈائریکٹرز میں تقسیم کرائی۔ وزیراعلیٰ سندھ بھی عثمان غنی کی بات پر کوئی اعتراض نہیں اٹھاتے اب نئے ادارے میں بھی عثمان غنی صدیقی سیاہ و سفید کے مالک ہوں گے اور وہ ڈی جی بن کر ادارے کو چلائیں گے کیونکہ چیئرمین تو ریٹائرڈجسٹس یا ریٹائرڈ گریڈ 21 کا افسر ہوگا جو عملی طو رپر بے اختیار ہوگا۔ پھر مخالفین کے خلاف اس ادارے کو استعمال کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بھی اس نئے ادارے کے ابتدائی ڈھانچے سے بے خبر رکھا گیا ہے۔ اور انہیں بھی اس وقت بتایا جائے گا جب کاغذی کارروائی مکمل کرلی جائے گی اور اس کی رسمی منظوری وزیراعلیٰ سے لے کر ادارہ قائم کر دیا جائے گا۔ نئے ادارے کا قیام نیب کے متبادل قرار دیا جا رہا ہے لیکن تاحال اس کے خدو خال کے بارے میں صرف دو تین افسران کو ہی پتہ ہے۔ حتیٰ کہ چیف سیکریٹری سندھ کو بھی تاحال بریفنگ نہیں دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کو بھی بے خبر رکھا گیا ہے۔ ایسے ادارے کا عوام کو کیا فائدہ ہوگا۔ جس کے ابتدا کے بارے میں کسی کو بھی کوئی علم ہی نہ ہو۔ نیا ادارہ احتساب کرے یہ اچھی بات ہے لیکن چند مخالفین کو پھنسانا خود حکومت کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔
ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...
کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...
شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...
قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...
مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...
ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...