وجود

... loading ...

وجود

خلیج تنازع پاک سعودی تعلقات میں نوازشریف بوجھ بننے لگے!

بدھ 26 جولائی 2017 خلیج تنازع پاک سعودی تعلقات میں نوازشریف بوجھ بننے لگے!

سعودی عرب اورخلیج کی بعض دیگر ریاستوں کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کے بعد پاکستان کیلئے اس خطے میں اپنی حیثیت خاص طورپر خطے میں توازن پیداکرنے والی قوت کے طورپر اپنی حیثیت برقرار رکھنا بہت مشکل ہوگیاہے۔اب سے پہلے شاید کبھی بھی اس طرح کی مشکل صورت حال کاتصور بھی نہ کیاگیاہوگا۔
نواز شریف جب 2013 میں تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے اس وقت یہ خیال کیاجارہاتھا کہ آصف علی زرداری کے دور میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جو دوری نظر آرہی تھی وہ ختم ہوجائے گی اور پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے زیادہ قریب آجائیں گے۔کیونکہ نواز شریف کے سعودی عرب کے ساتھ خصوصی روابط تھے اور نہ صرف نواز شریف کے سعودی عرب کے ساتھ کاروباری روابط تھے بلکہ سعودی عرب نے انتہائی مشکل وقت میں سامنے آکر ان کی جان بھی بچائی تھی ۔سعودی عرب نے 2000 میں پاکستان سے لے جاکر انھیں سعودی عرب میں پناہ دی تھی۔لیکن لوگوں کی یہ توقعات پوری نہیں ہوسکیں اور نواز شریف بوجودہ سعودی عرب اور خلیج کی دوسری ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات معمول پر لانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
2013 کے دوران خلیج کے ممالک مختلف طرح کے پرتشدد واقعات کا محور بنے رہے،اس دوران 2011 میں خلیج کی بعض ریاستوں میں پیدا ہونے والی سیاسی بے چینی جسے عرب اسپرنگ کانام دیا گیا تھا ایران اور سعودی عرب کے درمیان شروع ہونے والی سرد جنگ کی وجہ سے عرب ونٹر میں تبدیل ہوگئی۔
جولائی 2013 میں مصر کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السییسی نے صدر مورسی کاتختہ الٹ کر اس ملک میں لولی لنگڑی جمہوریت کا تجربہ بھی ناکام بنادیا۔ دوسری جانب شام میںحکومت کے خلاف پرامن مظاہروں کی شکل میں شروع ہونے والی سیاسی تحریک عالمی جہاد کا مرکز اور محور بن گئی ،اس جنگ میں سعودی عرب ،قطر ،ترکی ،ایران اور امریکہ کے حمایت یافتہ باغی یاجنگجو گروپ شامل ہوگئے بعد میں ایران کی القدس فورس بھی اس لڑائی میں شریک ہوگئی۔لڑائی کے طول پکڑنے کے بعد داعش بھی اس میں شامل ہوگئی، دوسری جانب یمن میں ایک دفعہ پھر اقتدار کی کشمکش زور پکڑ گئی۔ یمن کے حوثی باغیوں نے 2014 میں صنعا پر قبضہ کرلیا اس طرح سعودی عرب یمن سے ملنے والی اس سرحد کو غیر محفوظ تصور کرنے لگا، اس دوران سعودی عرب نے پاکستان کو اپنے کئی ملکی اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کی ، سعودی عرب نے پہلے پاکستان کو شام کے خلاف جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی اس کے بعدیمن میں حوثی باغیوں کی سرکوبی کیلئے پاکستان کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کے بعد اب دہشت گردی کے خلاف بنائے جانے والے وسیع تر اسلامی اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی،اور اب پاکستان کو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی جانب سے قطر کے خلاف اتحاد میں شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اس صورتحال کی وجہ سے خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پیچیدہ شکل اختیار کرگئے ہیں، پاکستان اور خاص طورپر شریف فیملی کے سعودی عرب کے ساتھ بہت قریبی اور مضبوط تعلقات ہیں اور جیسا کہ میں نے اوپر لکھاہے کہ سعودی عرب دراصل وہ ملک ہے جو نواز شریف کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے نکال کر لے گیاتھا اور اس طرح ان کی جان بچاکر انھیں شہزادوں کی طرح زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیاتھا اگر سعودی عرب اس وقت نواز شریف کی جان بخشی نہ کراتا تو شاید شریف فیملی کانام پا کستان کی سیاست سے خارج ہوچکاہوتا اورکسی کو شریف خاندان کا نام بھی یاد نہ ہوتا۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور سعودی عرب نے ہر آڑے وقت پاکستان کی مدد کی ہے،ا ور شریف خاندان پر اس کی مہربانیوں کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے، دوسری جانب قطر کے ساتھ بھی پاکستان کے قریبی تعلقات قائم ہیں ہزاروں پاکستانی قطر میں ملازمت کررہے ہیں اور پاکستان اور قطر کے درمیان قریبی تجارتی تعلقات بھی موجود ہیں اسی طرح ترکی بھی پاکستان کا آزمودہ ساتھی اور ہمدر د ہے اور انتہائی کڑی آزمائشوں کے دور میں بھی ترکی نے آگے بڑھ کر پاکستان کاساتھ دیا ہے، اس لئے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے کہنے پر پاکستان ترکی جیسے دوست کو کیسے چھوڑ سکتا ہے ۔اس صورت حال میں پاکستان کو ایک مضبوط سفارت کاری اور ایسی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جس کے ذریعے پاکستان اس معاملے میں خود کو غیر جانبدار رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات قائم رکھ سکے۔ بدقسمتی سے یہ ناز ک صورت حال ایک ایسے موقع پر پیداہوئی ہے جب ہمارے ملک میں کوئی مستقل وزیر خارجہ نہیں ہے ، وزارت خارجہ کاقلمدان خود وزیر اعظم کے پاس ہے اور وزیر اعظم کا جانا ٹہر گیاہے صبح گیا یاشام گیا۔
یہاں یہ ذکر کرنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں دراڑ اسی وقت پڑ گئی تھی جب پاکستان نے یمن کے ساتھ لڑائی میں سعودی عرب کاساتھ دینے اور اس لڑائی میں شرکت کیلئے پاک فوج کے دستے بھیجنے سے انکار کردیاتھا ۔ہوسکتاہے کہ نواز شریف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کی وجہ سے یمن کی لڑائی میں سعودی عرب کاساتھ دینے پر تیار ہوجاتے لیکن پاکستان کے معروف سیاستدانوں کے ساتھ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کی ملاقاتوں کے بعد ارکان پارلیمنٹ نے اس کی کھل کر مخالفت کی جس کی وجہ سے نواز شریف سعودی عرب کی خواہش کے مطابق پاک فوج کو یمن کی جنگ میں سعودی عرب کاساتھ دینے کیلئے سعودی عرب روانہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔تاہم نواز شریف نے پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب کی قیادت میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کیلئے تیار کردہ مشترکہ فوج کی کمان سنبھالنے کی اجازت دے کر سعودی عرب کی ناراضگی میں کمی کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اب جنرل راحیل شریف کے بحیثیت مشترکہ فوجی سربراہ کے کردار کو محدود کرنے کے حوالے سے پاکستان میں جاری بحث کی وجہ سے اس ناراضگی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوجانے کے خدشات پیداہوگئے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور وزارت خارجہ کے حکام اس مسئلے پرکس طرح قابو پاتے ہیں اور سعودی عرب کو مزید ناراض کئے بغیر اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کیلئے کیاطریقہ کار اختیار کیاجاتاہے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر