وجود

... loading ...

وجود

امریکی صدر ٹرمپ مقبولیت تیزی سے کھونے لگے!

بدھ 19 جولائی 2017 امریکی صدر ٹرمپ مقبولیت تیزی سے کھونے لگے!


واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کا رائے عامہ کا حالیہ جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسٹرٹرمپ کی مقبولیت اپریل کے 42 فی صد کے مقابلے میں اب 36 فی صد ہے۔واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کے تحت کرائے گئے رائے عامہ کے ایک تازہ ترین جائزے سے ظاہر ہو ا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی سطح میں کمی آئی ہے۔جائزے میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت اپنے عہدے کی پہلی مدت کے دوران کسی بھی صد ر کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کا رائے عامہ کا حالیہ جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسٹرٹرمپ کی مقبولیت اپریل کے 42 فی صد کے مقابلے میں اب 36 فی صد ہے۔ان کی غیر مقبولیت کی شرح نئے جائزے میں 5 فی صد اضافے کے ساتھ 58 فی صد ہو گئی ہے۔جب کہ 48 فی صد رائے دہندگا ن کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے پہلے چھ ماہ کے دوران صدر ٹرمپ کی کارکردگی کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کی مقبولیت کی کم ترین شرح کبھی بھی سابق صدور بل کلنٹن اور براک اوباما کی سطح تک نہیں پہنچی اور سابق صدر ڈبلیو بش کی مقبولیت کا گراف بھی ان کے عہدے کی دوسری مدت کے دوران اتنے نیچے نہیں گیا تھا۔
امریکیوں کی تقریباً نصف تعداد یعنی 48 فی صد کا یہ خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں دنیا میں امریکا کے مقام میں کمی ہوئی ہے۔ جب کہ 27 فی صد کی رائے اس کے برعکس ہے۔رائے عامہ کا یہ جائزہ نیویارک ٹائمز میں اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد کرایا گیا کہ مسٹر ٹرمپ کے بڑے بیٹے اور ان کی انتخابی مہم کے عہدے داروں نے پچھلے سال ایک روسی وکیل اور دوسرے افراد سے ملاقات کی تھی جن کے پاس ان کی انتخابی حریف ہیلری کلنٹن کے متعلق اہم معلومات تھیں۔جائزے میں صدر ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں پر رائے برابری کی سطح پر منقسم ہے۔ جس میں 43 فی صد نے اس کی حمایت اور 41 فی صد نے مخالفت کی ہے۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک نئے سروے میں اپنی مقبولیت میں کمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اتنی بھی بُری نہیں۔امریکی میڈیا میں اپنے اور اپنے اہل خانہ کے حوالے سے میڈیا کی خبروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر یہ بھی الزام عاید کیا ہے کہ امریکی میڈیا جمہوریت کو نقصان پہنچا رہا ہے، لیکن وائٹ ہائوس کے نامہ نگاروں کی انجمن نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس طرح کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک آزاد اور خود مختار پریس جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔امریکا کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہیلری کلنٹن کو صدارتی انتخابی مہم کے دوران ہونے والی بحث کے سوال غیر قانونی طور پر پہنچائے جاسکتے ہیں اور وہ 33 ہزار ای میلز ڈیلیٹ کرسکتی ہیں لیکن “جعلی نیوز میڈیا” برستا میرے بیٹے ڈان پر ہے۔اپنے ایک اور ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ امریکی میڈیا، جسے انہوں نے ٹوئٹ میں ‘فیک نیوز’ قرار دیا، اپنے تمام نامعلوم ذرائع اور متعصب اور فراڈ رپورٹنگ کے ذریعے “ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔”گزشتہ ہفتے امریکی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ گزشتہ سال انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ کے بیٹے ڈونالڈ جونیئر نے ایک روسی وکیل سے ملاقات کی تھی کیوں کہ انہیں پتا چلا تھا کہ اس وکیل کے پاس انتخابات میں صدر ٹرمپ کی ڈیموکریٹ حریف ہیلری کلنٹن کے بارے میں بعض ایسی معلومات ہیں جن سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر اس ملاقات کی تصدیق کرچکے ہیں جسے کئی حلقوں نے صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ذمہ داران اور روسی حکام کے درمیان رابطوں کا ایک اور ثبوت قرار دیا ہے۔خیال رہے کہ امریکی کانگریس کی دو کمیٹیاں اور محکمہ انصاف کی جانب سے نامزد ایک خصوصی وکیل امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت اور صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے روسی حکام کی مبینہ مدد اور رابطوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔وائٹ ہائوس نے جون 2016میں نیویارک میں ہونے والی ٹرمپ جونیئر کی اس ملاقات کا دفاع کیا ہے جب کہ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ انہیں اس ملاقات کا علم نہیں تھا۔امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ اور نشریاتی ادارے ‘اے بی سی نیوز’ کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ سروے کے مطابق امریکا میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت صرف 36 فی صد رہ گئی ہے جو تاریخ میں کسی بھی امریکی صدر کی ابتدائی 6 ماہ کے دوران کم ترین ریٹنگ ہے۔اپنے ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال صدارتی انتخاب سے قبل کیے جانے والے سروے درست ثابت نہ ہونے پر واشنگٹن پوسٹ اور ‘اے بی سی’ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
ڈونلڈ ٹرمپ جب صدرمنتخب ہوئے تو ان کی مقبولیت کی شرح 40 فی صد تھی جو 2009 میں، جب بارک اوباما صدر بنے تھے، کے مقابلے میں نصف تھی۔ اور جب بارک اوباما نے اپنا عہدہ چھوڑا توان کی مقبولیت 61 فی صد تھی۔امریکا میں کرائے گئے ایک اہم سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا تھا کہ وہائٹ ہاؤس میں اپنے عہدے کی چار سالہ مدت گزارنے کے لیے 20 جنوری کو داخل ہونے والے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ کئی عشروں کے سب سے غیر مقبول سربراہ مملکت تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سروے کو فوری طور پر مسترد کر دیا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ ،اے بی سی نیوز کے تحت کرائے گئے رائے عامہ کے اس جائزے میں ، جو مسٹر ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب سے صرف تین روز پہلے جاری ہوا تھا، بتایا گیا تھا کہ وہ گزشتہ قریب ترین مدت کے دوران نئے منتخب ہونے والے کم از کم 7 امریکی صدور کے مقابلے میں سب سے زیادہ غیر مقبول ہیں۔
رائے عامہ کے جائزے اور نیوز چینل سی این این پر چند روز پہلے دکھائی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وہ نومبر میں صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد اقتدار کی منتقلی کے امور جس انداز میں طے کر رہے ہیں ، اس سے ان کی غیر مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ کچھ عرصے کے صدورکے مقابلے میں وہ مقبولیت کی بہت نچلی سطح پر چلے گئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سروے کے رد عمل میں اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں کہا تھا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے انتخابات کے بارے میں ٹیلی فون پر سروے کیا تھا اور وہ بہت غلط ثابت ہوئے تھے۔ اب وہ پہلے کی طرح نتائج کو اپنی منشا کے مطابق پیش کر رہے ہیں۔
1976 سے اب تک سات صدور نے جب اپنے عہدے کا حلف لیا تو ان کی مقبولیت کی سطح 56 سے 79 فی صد کے درمیان تھی۔ اور اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اپنی صدارت کے آغاز کے وقت مسٹر ٹرمپ کی غیر مقبولیت 54 فی صد تھی جس میں اضافہ ہونے کے بجائے مسلسل کمی ہورہی ہے جس کااندازہ ان کی مقبولیت کے حوالے سے تازہ ترین سروے رپورٹ سے لگایاجاسکتاہے۔
ایچ اے نقوی


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر