... loading ...
قیام پاکستان سے بہت قبل سے ہی سندھ کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں عام لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے سرکاری ذخیرہ آب سے نلکوں کے ذریعے پانی کی فراہمی کانظام رائج تھا ،اس مقصد کیلئے جہاں لوگوں کو گھروں میں پانی کی فراہمی کی لائنیں فراہم کی جاتی تھیں وہیں عام مقامات پر سرکاری نلکے لگائے جاتے تھے جہاں سے ضرورت مند پانی بھر کر گھروں کو لے جاتے تھے،لیکن گزشتہ کئی برسوں سے کراچی سمیت سندھ کے بیشتر شہروں میں نلکوں کے ذریعے پانی کی فراہمی کانظام ناکارہ بنادیاگیا ہے، اب کراچی سمیت سندھ کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے شہروں میں سرکاری نلکے بھی لگے نظر آتے ہیں اور گھروں میں بھی پانی کی لائنیں تو موجود ہیں لیکن ان میں پانی شاذہی آتاہے،کراچی میں تو واٹر بورڈ کے کرتا دھرتائوں نے ٹینکر مافیا کے ساتھ ملی بھگت کے بعد شہریوں کو سرکاری نلکوں کے ذریعے پانی کی فراہمی کا سلسلہ کم وبیش ختم ہی کردیاہے ا ور محض خانہ پری کیلئے بعض علاقوں میں ہفتہ میں دو دن بعض میں ایک دن اور بعض علاقوں میں ہفتوں بلکہ مہینوں بعد ایک آدھ دن گھنٹے دو گھنٹے کیلئے پانی فراہم کرکے پانی کے بل وصول کرنے کا جواز پیدا کرلیاجاتاہے۔
واٹر بورڈ کے حکام اس حوالے سے یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ شہر کو پانی کی فراہمی کم ہے اور بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے پوری مقدار میں پانی حاصل نہیں ہوتا جس کی وجہ سے شہریوں کو پانی کے حصول میں دشواریوں کاسامنا کرنا پڑرہاہے ، تاہم وہ اس بات کاکوئی مدلل اور تسلی بخش جواب دینے سے قاصر ہیں کہ اگر شہر کو کم مقدار میں پانی فراہم کیاجارہاہے تو سرکاری ہائیڈرنٹس پر صبح سے رات گئے تک اور رات گئے سے صبح تک واٹر ٹینکرز کو پانی کس طرح مل رہاہے اور ان کو پانی کی فراہمی میں کسی طرح کی کوئی کمی کیوں واقع نہیں ہوتی اورعام آدمی ہی اس کاشکار کیوں بنایاجاتاہے اور شہروں میں گھریلو خواتین اور بچے پانی کی تلاش میں پانی کے کین اوربالٹیاں اٹھائے پانی کی تلاش میں سرگرداں رہنے اور واٹر بورڈ کی جانب سے فراہم کی جانے والی ٹینکر سروس کے ٹینکروں کے انتظار میں گھنٹوں میں قطار میں بیٹھ کر انتظار کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟
ایک اطلاع کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں واٹر بورڈ اور دیگر شہروں میں پانی کی فراہمی کے اداروں کے ارباب اختیار کی جانب سے پانی کی زیر زمین لائنوں کی دیکھ بھال نہ کئے جانے کے سبب بیشتر علاقوںمیں پائپ لائنیں ٹوٹ پھوٹ اور رسائو کاشکار ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو فراہم کئے جانے والے پانی کاایک بڑا حصہ رسائو کی وجہ سے شہر یوں تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین میں ہی جذب ہوجاتاہے۔جبکہ اس رسائو کی وجہ سے زیر زمین موجود جراثیم پانی میں داخل ہوکر شہریوں کوہیپاٹائٹس سمیت مختلف مہلک بیماریوں کاشکار بنارہے ہیں۔
سندھ پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا صوبہ ہے اس صوبے کی آبادی کانصف سے زیادہ حصہ کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، نوابشاہ، سکھر میر پور خاص ، ٹنڈو آدم، ٹنڈو الہٰ یار، ہالہ اور عمر کوٹ میں رہتاہے لیکن سندھ کے ان تمام شہروں کے عوام کو یہ شکایت ہے کہ ان کو پائپ لائنوں کے ذریعے پانی مناسب مقدار میں فراہم نہیں کیاجاتا اور بعض اوقات ان پائپ لائنوں سے فراہم کیاجانے والا پانی قطعی ناقابل استعمال ہوتاہے۔
سندھ میں شہریوں کو صاف پانی کی عدم فراہمی کی اسی صورت حال کے پیش نظر گزشتہ سال دسمبر میں سپریم کورٹ نے سندھ میں شہریوں کو فراہم کئے جانے والے پینے کے پانی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کیلئے ایک کمیشن تشکیل دیاتھا ، اطلاعات کے مطابق اس کمیشن کے ارکان نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں شہریوں کو پانی کی فراہمی کی صورت حال کاجائزہ لینے کے بعد اپنی جو رپورٹ عدالت میں جمع کرائی ہے اس میں صوبے کے کم از کم 414 ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں نالیوں اور نالوں کاگندہ پانی دریائے سندھ یا اس سے نکلنے والی نہروںمیں شامل ہوتاہے۔ کمیشن نے اطلاعات کے مطابق اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاہے کہ کراچی سمیت صوبے کے کسی بھی علاقے میں شہریوں کو پینے کاصاف اورعالمی ادارہ صحت کے مقررہ معیار کے مطابق پانی فراہم نہیں کیاجارہاہے۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور گندے پانی کی نکاسی کے حوالے سے کراچی سمیت پورے صوبے میں موجود خوفناک صورت حال کی نشاندہی کرتے ہوئے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور دیگر شہروں کے متعلقہ اداروں کے افسران کی نااہلی اور بد انتظامی اور چشم پوشی کی بھی نشاندہی کی ہے۔
کراچی میں واٹر بورڈ اور دیگر شہروں میں واسا اور بلدیاتی ادارے اس حوالے سے پانی کی کم فراہمی ،پانی صاف کرنے کے ناکافی اور فرسودہ نظام ،شہروںمیں قائم ہوجانے والی غیر منظم کچی آبادیوں اور شہریوں کی جانب سے پانی کے بلوں کی عدم ادائیگی کے سبب وسائل کی شدید قلت کی شکایت کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وسائل کی کمی کارونا رونے والے واٹر بورڈ ،واسا اور دیگر شہروں کے بلدیاتی اداروں کے ارباب اختیار کی عیاشیوں میں کسی طرح کی کمی نظر نہیں آتی اوران اداروں میں وسائل کے ناجائز استعمال بلکہ انھیں ضائع کئے جانے کے مناظر عام نظر آتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے وسائل کی کمی کا رونا رونے والے واٹر بورڈ سمیت ان تما م ہی اداروں میں گھوسٹ ملازمین کی ایک فوج بھی موجود ہے جو کوئی کام کئے بغیر گھر بیٹھے تنخواہوں کے علاوہ بھارتی مراعات حاصل کررہے ہیں، کراچی واٹر بورڈ کی یونین کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واٹر بورڈ کے گھوسٹ ملازمین سے ہرماہ ایک معقول رقم جمع کرکے اعلیٰ افسران تک پہنچائی جاتی ہے جس کی وجہ سے سب نے ہی اس طرح سے آنکھیں بند کررکھی ہیں سال میں ایک آدھ مرتبہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے گھوسٹ ملازمین کے خلاف ایک مہم چلائی جاتی ہے اور اس دوران باقاعدگی سے افسران کو ہر ماہ رقم نہ پہنچانے والے گھوسٹ ملازمین کو فارغ کرکے گھوسٹ ملازمین کو بلاچوں وچرا رقم ادا کرتے رہنے کاپیغام دے دیاجاتاہے۔ یونین کے اس عہدیدار کاکہناہے کہ اگر کراچی اینڈ سیوریج بورڈ سے گھوسٹ ملازمین اوراعلیٰ افسران کی کرپشن کاخاتمہ کردیاجائے تو اس ادارے کو لاحق وسائل کی تمام کمی دور ہوسکتی ہے اور اس ادارے کی کارکردگی کہیں بہتر بنائی جاسکتی ہے،ذرائع کاکہناہے کہ کراچی واٹر بورڈ کے افسران بالا شہر کے بعض بڑے اخبارات کے صحافیوں کو بھی واٹر بورڈ میں جاری کرپشن اور اس ادارے کی بدعملیوں کی جانب سے آنکھیں بندکئے رکھنے اور اس حوالے سے کوئی خبر شائع نہ کرنے کیلئے باقاعدہ ماہانہ رقم فراہم کرتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...