... loading ...

پاناما مقدمے میں عدالتی حکم پر قائم جے آئی ٹی کی تحقیقات کے رخ نے سرکاری حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔اب آزاد تجزیہ کاروں سمیت حکومت سے قربت رکھنے والے مبصرین بھی یہ تسلیم کررہے ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف اور اُن کی ٹیم نے عدالتی فیصلے کی تفہیم اور جے آئی ٹی کے قیام پر درست تجزیہ نہیں کیا تھا۔ جو ں جوں جے آئی ٹی کی تحقیقات حتمی مرحلے میں داخل ہورہی ہے ، سرکاری حلقوں کی پریشانیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ اب تک جے آئی ٹی کی تحقیقات اور اس کے نتائج سے یہ امر واضح ہو چکا ہے کہ اس کے ارکان لندن میں شریف خاندان کی جائیدادوںکے حوالے سے جس ’’منی ٹریل‘‘ کو تلاش کررہے اُس کے ڈانڈے دراصل حدیبیہ پیپرز ملز سے جاملتے ہیں۔ جبکہ وزیراعظم نوازشریف کی ٹیم یہ چاہتی ہے کہ جے آئی ٹی اس ضمن میں قطری شہزادے حماد بن جاسم کے خط پر اپنا انحصار بڑھائے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی آصف کرمانی نے گزشتہ روز اس ضمن میں جے آئی ٹی کو واضح طور پر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ لندن کی جائیدادوں کے لیے قطر کارخ کرے، حدیبیہ پیپرز ملز کا نہیں۔ وہاں سے اُسے کچھ نہیں ملے گا۔ آزاد تجزیہ کار یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جب حدیبیہ پیپرز سے جے آئی ٹی کو کچھ نہیں ملنے والا ہی نہیں ہے تو پھر اس پر سرکاری حلقے اتنے ناراض کیوں ہیں؟ظاہر ہے کہ یہ پہلو حکومت کی کمزور پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔ جس پر سرکاری ردِعمل اس کمزوری کو مزید عیاں کردیتا ہے۔
اس ضمن میں یہ پہلو بھی نہایت اہم ہے کہ حکومت جے آئی ٹی کو ہر صورت قطر بھیجنے کی خواہش مند ہے۔ سوال یہ ہے کہ قطری شہزادے کے بیان سے ایسا کیا نکلنے والا ہے کہ حکومت بہرصورت اُن کے بیان پر مُصر ہیَ اس کا ایک ضمنی سوال یہ بھی ہے کہ قطری شہزادے حماد بن جاسم سے کیا حکومت یا شریف خاندان کی ایسی کوئی تال میل ہو چکی ہے کہ وہ اس حد تک پرامید ہے کہ قطری شہزادے کا بیان اُنہیں لازمی طور پر اس صورتِ حال سے نجات دلا دے گا ، جس میں وہ ابھی گرفتار ہے؟وجوہات کچھ بھی ہوں ، اس معاملے میں قطری شہزادے کی دلچسپی بھی کچھ کم نہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ اب تک جے آئی ٹی کو کل تین خطوط بھیج چکے ہیں۔ اُنہوں نے چند روز قبل اپنے تیسرے خط میں جے آئی ٹی سے یہ پوچھا ہے کہ وہ اُن کا بیان لینے کے لیے کب قطر تشریف لارہی ہے؟ قطری شہزادے کا کسی بھی معاملے میں اس قدر دلچسپی کا اظہار عمومی طور پر عرب شہزادوں کی اُس نفسیات کے خلاف ہے جو وہ کسی بھی معاملے میں روا رکھتے ہیں۔بہرحال حکومت کا ردِ عمل اس حوالے سے خوامخواہ ایک منفی ذہن پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔
اس کی سب سے بڑی مثال وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد اُن کا ردِ عمل تھا۔ گزشتہ روزاسحاق ڈار سے قبل وزیراعظم کے چھوٹے صاحبزادے حسن نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے، مگر اُن کاپیشی کے بعد ردِ عمل اُن حلقوں میں بھی مناسب اور موزوں سمجھا گیا جو اس پورے معاملے میں شریف خاندان اور حکومت کے مخالف سمجھے جاتے ہیں۔مگر اس کے برعکس سیاست میں دہائیاں گزارنے والے اسحاق ڈار نے اپنا ردِ عمل انتہائی غیر سیاسی اور معقول سے معقول الفاظ میں نامعقول دیا۔وہ اس سے پہلے کبھی اس طرح نہ گرجے برسے تھے۔ اُن کا یہ ردِ عمل دلچسپی سے خالی نہیں تھا۔ اس دوران یہ اقدام بھی سیاسی افق پر توجہ سے دیکھا گیا کہ جے آئی ٹی میں اسحاق ڈار کے پیش ہو نے کے بعد وزیر داخلہ چودھری نثار نے فوراً وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات کی۔ چودھری نثار ، وزیر خزانہ کی جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران اُس گاڑی کو ڈرائیو کررہے تھے۔ جس میں وزیرخزانہ جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے لیے سوار ہو کر آئے تھے۔اس سے قبل وہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی جے آئی ٹی میںپیشی کے دوران بھی اُن کی گاڑی کو ڈرائیوکرچکے تھے۔وزیرداخلہ چودھری نثار خان کی اسحاق ڈار کی پیشی کے فوراً بعد وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات بھی نہایت معنی خیز ہے۔ آزاد تجزیہ کاروں کے مطابق جے آئی ٹی کی اگلے دو دنوں میں کارروائی کے دوران میں حکومت اپنے دباؤ میں مزید شدت لانے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے۔ واضح رہے کہ اسحاق ڈار اپنے سخت ردِ عمل سے پہلے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے اور جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے پہلے وزیراعظم نوازشریف سے ملے تھے۔
قطری شہزادے سے کیا حکومت یا شریف خاندان کی ایسی کوئی تال میل ہو چکی ہے کہ وہ اس حد تک پرامید ہے کہ قطری شہزادے کا بیان اُنہیں لازمی طور پر اس صورتِ حال سے نجات دلا دے گا ، جس میں وہ ابھی گرفتار ہے؟وجوہات کچھ بھی ہوں ، اس معاملے میں قطری شہزادے کی دلچسپی بھی کچھ کم نہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ اب تک جے آئی ٹی کو کل تین خطوط بھیج چکے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...