وجود

... loading ...

وجود

کھیل کا آخری راؤنڈ شروع‘پی پی کے کرم فرماؤں کا وزیراعلیٰ سندھ پرعدم اعتماد

جمعرات 25 مئی 2017 کھیل کا آخری راؤنڈ شروع‘پی پی کے کرم فرماؤں کا وزیراعلیٰ سندھ پرعدم اعتماد


پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت 27دسمبر 2007ءکوکیا بدلی سارے اصول، ساری پالیسیاں ،ساری حکمت عملی ،سارے حالات ہی تبدیل ہوگئے۔ جو اصول ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے طے کیے گئے تھے اور محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی ان کو برقراررکھا مگرآصف علی زرداری نے ان سب کوملیا میٹ کردیا اورتمام ضابطے اصول ،اخلاقیات کا طمطراق سے جنازہ نکال دیا اوراب ایک ایسی پارٹی بن کرابھری ہے جس کا کوئی اصول، پالیسی ،اخلاقیات نہیں ہے۔ یہ ایک پبلک لمیٹڈ بن کررہ گئی ہے اورپیسہ اب اس پارٹی کی بنیاد بن گیاہے۔ جب آصف علی زرداری نے میثاق جمہوریت کواپنے پیروں سے روند ڈالا اورازلی دشمن گجرات کے چودھریوں شجاعت حسین اورپرویز الٰہی سے مفاہمت کے نام پرجواتحاد کیا، اس دن پرانی پیپلزپارٹی کودفن کرکے ایک نئی پیپلزپارٹی کو جنم دیاگیا، جس کا یہ اصول تھا کہ سب کچھ پیسہ ہے اوردشمن دوست کا تصور ختم ہوگیا اورسب کواپنی پارٹی میں شامل کرو، وفاداری کا ایک ہی مطلب ہے کہ آصف زرداری اورفریال ٹالپر کا وفادار ہو،انورمجید کومقدس گائے سمجھائے جائے اوررشوت کی پوری رقم اپنی جیب میں ڈالنے کے بجائے مل بانٹ کرکھانی چاہیے اورسب کو راضی رکھا جائے۔
عجیب تیری دوستی عجب تیر ا کام
یزید سے بھی دوستی، حسین کوبھی سلام
اسی لیے توسینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہاتھا کہ آصف علی زرداری کی سیاست کوسمجھنے کے لیے دومرتبہ پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرآج ضیاءالحق ،جسٹس مولوی مشتاق، چودھری ظہور الٰہی ،جام صادق علی جیسے پی پی مخالف زندہ ہوتے توآصف علی زرداری مفاہمت کے نام پران کوپارٹی میں شامل کرلیتے۔ جام مددعلی جیسے لوگوں کوپی پی پی میں شامل کرکے پی پی پی کے اصولوں کا دھوم سے جنازہ نکال دیاگیا۔ لیکن پارٹی میں ایک روایت ڈالی گئی کہ جس نے بھی ملکی سلامتی کے اداروں سے جھگڑا کیا یا پھر وفاقی حکومت سے تنازعہ کھڑا کیا توآصف زرداری نے اس کواتنی بڑی اہمیت دی، جب بطور وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے تندوتیز لہجے میں خط وکتابت کی تواسحاق ڈار نے تنگ ہوکر کہاکہ مراد علی شاہ کوخط وکتابت کا زیادہ شوق ہے اورپارٹی قیادت ان کوفی الحال وزیراعلیٰ نہیں بنائے گی بس اس بات کوآصف علی زرداری نے پکڑلیا اورآناً فاناً قائم علی شاہ سے استعفیٰ لے کرسید مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ سندھ بنادیا پھرگزشتہ سال جب سندھ کے وزیرداخلہ سہیل انورسیال کی ہدایت پران کے بھائی طارق سیال نے رینجرز ،نیب اور حساس اداروں کے اہلکاروں کویرغمال بناکرلاڑکانہ کے ٹھیکیدار اسد کھرل کوتھانہ سے زبردستی چھڑالیا تواس وقت سہیل انورسیال آصف زرداری اورفریال ٹالپر کی آنکھ کا تارابن گیا، طاقت ور اداروں کی شدید مخالفت پرسہیل انور سیال کونئی کابینہ میں وزیرزراعت بنایاگیا لیکن پھر چھ ماہ بھی نہیں گزرے کہ ان کودوبارہ وزیرداخلہ بنادیاگیا ہے ۔اس مرتبہ جس مقصد کے لیے سہیل انور سیال کووزیرداخلہ بنایا گیا ہے وہ واضح ہے، ایک تواہم ترین مقصد یہ ہے کہ موجودہ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے ساتھ لڑائی لڑنا ہے اوردوسرا مقصد عام انتخابات سے قبل سیاسی مخالفین کوپولیس کے ذریعے کچلنا ہے اورتیسرا مقصد پارٹی کے اندرناراض رہنماؤں کے خلاف ثبوت تیار کرنا اوران کوسبق سکھانا ہے کیونکہ جس طرح سہیل انورسیال نے ضلع لاڑکانہ میں90ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پرلیپاپوتی کرکے ساری رقم فریال ٹالپر کے سامنے رکھ دی ہے اور اسدکھرل کوٹھیکے دلواکر ساری حکمت عملی بنائی اوربعدازاں اسدکھرل کوزبردستی چھڑوالیا، اس عمل سے انہوں نے آصف زرداری اورفریال ٹالپر کے دل جیت لیے ہیں اوراب سہیل انور سیال کی اہمیت سید مراد علی شاہ سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ اس لیے سوچ سمجھ کران کودوبارہ وزیرداخلہ بنایاگیاہے تاکہ پہلے راؤنڈ میں وہ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے لڑائی شروع کریں، پہلے مرحلے میں وہ پولیس کے اندر تبادلوں وتقرریوں پرپابندی عائد کریں گے اورپھروہ پورے صوبے میں ڈی ایس پی سے لے کر ایڈیشنل آئی جی سطح تک کے افسران اپنی مرضی سے رکھیں گے، پھرامن وامان کے اجلاس خود منعقد کریں گے سیکورٹی پلان بھی خود منظور کریں گے اورآئی جی سندھ پولیس کا عہدہ صرف رسمی رہ جائے گا۔ تمام اختیارات وزیرداخلہ سہیل انور سیال ہی استعمال کریں گے اورپھرآئی جی سندھ پولیس اگرکچھ کرنا بھی چاہیں گے توکرنہیں سکیں گے۔ خاص طورپر اب باقی رہ جانے والی 13ہزار نئے پولیس اہلکاروں کی بھرتی کی ذمہ داری بھی سہیل انور سیال ادا کریں گے ،کیونکہ پچھلی مرتبہ12ہزار نئے پولیس اہلکاروں کی میرٹ پربھرتی کرنے سے انورمجید کے خواب چکنا چور ہوگئے کیونکہ انورمجید نے فی اہلکار 5لاکھ روپے لینے کے حساب سے 6ارب روپے کمانے کا ٹارگٹ رکھا تھا، لیکن آئی جی سندھ پولیس نے بھرتی کرنے والی کمیٹی میں فوج کا میجرشامل کرکے انورمجید کا خواب پورا نہ ہونے دیا۔ یوں میرٹ پرغریبوں کے بچے بھرتی ہوگئے اورانورمجید 6ارب روپے نہ کماسکے۔ اوراب باقی 13ہزار اہلکاروں سے ساڑھے6ارب روپے کمانے کے لیے سہیل انور سیال کوآگے لایاگیاہے کیونکہ وہ آصف زرداری اورفریال ٹالپر کا قابل اعتماد ساتھی ہے اوروہ قیادت کے حکم پرہرکام کرکے دکھائیں گے۔ اس لیے طاقتور حلقوں کی مخالفت کے باوجود انہیں دوبارہ وزیرداخلہ بنادیاگیاہے۔ سہیل انور سیال کی دوسری ذمہ داری یہ ہے صوبے میں جوسیاسی مخالفین ہیںان کوپولیس کے ذریعے سبق سکھائیں تاکہ وہ یاتوپیپلزپارٹی میں شامل ہوجائیں یا پھرمیدان چھوڑ کر بھاگ جائیں، یوں آسانی سے الیکشن جیتا جائے اورمقابلہ کرنے والا کوئی نہیں ہو اوران کا تیسرا کام یہ ہے کہ وہ پارٹی کے اندرناراض رہنماؤں کی نشاندہی کریں، پہلے ان کوسمجھائیں کہ وہ پارٹی سے الگ نہ ہوں اگروہ مان جائیں توٹھیک ہے اگرنہ مانیں توپھران کے خلاف پولیس کی طاقت استعمال کریں، ان کوپہلے تومحکمہ جیل خانہ جات دیاگیاتھا اب محکمہ داخلہ بھی دے دیاگیاہے تاکہ ایک طرف وہ کسی پرمقد مہ بناکر جیل بھیجیں اورجب وہ جیل جائیں توان پرجیل میں سختیاں کرائیں یوں ایک تیرسے کئی شکارکرنے کی ذمہ داری سہیل انورسیال کودے دی گئی ہے ۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ وفادار ہیں۔ سہیل انورسیال نے اپنے ہی حلقہ انتخاب میں اپنے قریبی رشتہ دار اورمسلم لیگ (ق) سندھ کے جنرل سیکریٹری بابو اورسرور سیال کوضمنی الیکشن میں اپنے حق میں دستبردار کرانے کے لیے فریال ٹالپر کوساتھ لے جاکر ان کے گھرپہنچ گئے جس پربابوسرورسیال نے گھرآنے والوں کوعزت دیتے ہوئے دستبردار ہونے کااعلان کیا لیکن جب انور سیال وزیرداخلہ بنے توسب سے پہلے انہوں نے بابو سرورسیال کے خلاف مقدمات کیے ان کے گھرپرحملے کرائے اورحملہ کے نتیجے میں بابوسرورسیال کا بھانجا جاں بحق ہوا اوراب دوسری مرتبہ وہ وزیر داخلہ بنے ہیں اس مرتبہ بھی وہ پرانے حساب چکائیں گے اورباقی رہ جانے والا انتقام پورا کریں گے۔ سہیل انورسیال صبح ہوتے ہی سب سے پہلے فریال ٹالپر کے ہاں حاضری دیتے ہیں، وزیرداخلہ بن جانے کے بعد سہیل انور سیال وہی حاضری برقراررکھیں گے اورجوحکم فریال ٹالپر دیں گی اس پرعمل کریں گے۔ انورمجید جیسے بندوں کی عید ہوگئی کیونکہ اب توگنے کے کاشتکاروں اورشوگرملز کے مالکان کوگرفتار کرنا آسان ہوگا اورپھر اومنی گروپ کے دفاتر اور انورمجید کے گھرسے اسلحہ ملنے اورنثار مورائی کے گھرکے قریب سے اسلحہ برآمد کرنے کے کیس میں وہی تفتیش ہوگی جوانورمجید چاہیں گے۔ یوں انورمجید کوکلین چٹ مل جائے گی۔ سب سے اہم ایشو رینجرز کا ہوگا۔ جس کے ساتھ تنازعات کے لیے سہیل انورسیال کوموزون سمجھا جارہا ہے کیونکہ رینجرز کے اختیارات اورمدت میں توسیع کے معاملہ پرحکومت سندھ نے ہربار جھگڑا کرنے کا فیصلہ کیاہے اورپیپلزپارٹی کی قیادت سمجھتی ہے کہ ان تمام معاملات پروزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ فٹ نہیں ہیںاس کام کے لیے سہیل انور سیال ہی بہتر ہیں اس لیے ان کووزیرداخلہ بنایاگیاہے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر