وجود

... loading ...

وجود

کراچی میں چکن گونیا کازور … وزارتِ صحت غفلت کاشکار،حریص معالجین نے طبی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا

جمعرات 04 مئی 2017 کراچی میں چکن گونیا کازور … وزارتِ صحت غفلت کاشکار،حریص معالجین نے طبی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا

نئے مرض کی دریافت سے اب تک محکمہ صحت سندھ اس بیماری کو قابوکرنے کا معاملہ تو درکنار محکمہ مریضوں کا کوئی مصدقہ ریکارڈ بھی جمع نہیں کرپایا‘ مریض عموماً ایک ہفتے کے اندر اس بخارسے نجات حاصل کرلیتاہے ،چکن گونیا میںمبتلا شخص کو پانی اور تازہ پھلوں کے مشروبات دینے چاہییں

پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور واقعات سے گزررہے ہےں ۔جن میں سیلاب ، خشک سالی، طوفان ، شدید بارشیں اور گرم درجہ حرارت شامل ہے ،جبکہ کراچی جیسابین الاقوامی شہر ماحولیاتی آلودگی کے خطرناک زون میں شامل ہے۔ ادھر سائنس دانوں کا کہناہے کہ جانداروں کی بہت سی انواع اس تبدیلی کا مقابلہ نہیں کرپارہی ہیں۔اس پس منظرمیں چکن گونیا بخار مچھروں کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی وائرل بیماری ہے ۔جو دسمبر 2016ءکے آخری ہفتے میں کراچی کے علاقے ملیر میں دریافت ہوئی ۔جس کی تصدیق وفاقی وزارت صحت کی لیبارٹری این آئی ایچ سے ہوچکی ہے ۔
چکن گونیا بخارکا دنیامیں پہلا مریض 1952 ءمیں جنوبی تنزانیہ میں سامنے آیاتھا۔چکن گونیا بخارمیں شدت کے ساتھ ساتھ جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد کے علاوہ ، سرمیں درد،خارش اور شدید تھکن محسوس ہوتی ہے ۔یہ درد اور بخار عمومی طور پر چند دنوں ، سات یا دس روز تاہم بعض مریضوں میں یہ ہفتوں بلکہ مہینوں تک بھی باقی رہ سکتاہے ۔طبی تاریخ کے مطابق بعض مریضوں میں اس مرض کے بعد ذہنی اور قلبی امراض بھی رپورٹ ہوئے ہیںلیکن یہ جان لیوا مرض نہیں ہے ۔بلکہ چکن گونیا بخار بھی ڈینگی اور زیکا کے وائرس کی طرح ایڈیس ایجپٹی (Aedes aegypti)نامی مادہ مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں منتقل ہوتاہے ۔اگرکوئی عام مچھر بھی اس چکن گونیا والے مچھر سے متاثرہ کسی مریض کو کاٹ لے تو وہ مچھر بھی اس چکن گونیا والے وائرس میں تبدیل ہوکراس مرض کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتاہے۔طبی ماہرین بتاتے ہیں کہ چکن گونیا بخار کی خاص علا مات مادہ مچھر کے کاٹنے کے تین سے سات دن کے اندر ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیںاور عموماً مریض ایک ہفتے کے اندر اس بخارسے نجات بھی حاصل کرلیتاہے ۔اس بخار میںمبتلا مریض کو پانی اور تازہ پھلوں کے مشروبات دینے چاہییں ۔ان تمام بخاروں سے بچاؤ کے لیے مکمل ڈھکاہوالباس ،مچھر بھگانے والے لوشن کا استعمال ، مچھر دانی کا استعمال اور گھر میں پردوں او راس کے پیچھے مچھر مار اسپرے کے علاوہ گھراور اطراف میں مچھروں کی افزائش نسل کے ہونے والے امکانات کو ختم کرناضروری ہے ۔
مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ محکمہ صحت اور صحت سے جڑے ہوئے دیگر اداروں کے مابین اس بخار چکن گونیا سمیت ڈینگی ،ملیریا،ذیکاوائرس جیسے امراض کے لیے سرے سے باہمی رابطوں کا کوئی نظام ہی نہیں ہے ،پھر کبھی جب صورت حال قابو سے باہر ہوجائے تو مشترکہ اجلاس کے انعقاد سے آگے مشترکہ اقدامات تک معاملہ نہیں جاتا ۔حالانکہ یہ ادارے بنیادی طور پر ایسے وبائی امراض کے آنے سے قبل ہی ان کی روک تھام کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے عوام کے ٹیکسوں سے قائم کیے گئے ہیں۔چکن گونیا بخار کے سامنے آنے سے اب تک محکمہ صحت سندھ اس بیماری کو قابوکرنے کا معاملہ تو دور کی بات ہے ، بنیادی طور پر وہ اب تک سامنے آنے والے مریضوں کا کوئی مصدقہ ریکارڈ بھی جمع نہیں کرپایاہے ۔حکومت سندھ کی اس سے بڑھ کے کیا غفلت ہوگی کہ وزیر صحت سندھ ڈاکٹر سکندر میندھرو نے گزشتہ دنوں اپوزیشن خاتون اسمبلی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مریضو ں کے جو اعدادوشمار پیش کیے اس پر ان کے محکمہ کے ما تحت افسروں نے اعدادوشمار فراہم کرنے والوں سے جواب طلبی کرلی ہے جو کہ وزارت صحت سندھ کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے ۔جس میں چکن گونیا کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 63ہز ار ظاہر کی گئی ہے ۔ دوسری جانب شہر کے جنرل پریکٹیشنرز اور اتائی ڈاکٹروں نے چکن گونیا بخار کے معاملے میں محکمہ صحت کی بدحواسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر بخار کے مریض کو چکن گونیا بخار کا مریض ظاہر کرکے انہیں دونوںہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیاہے جبکہ طبی اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والے ان نام نہاد ڈاکٹروں کے احتساب کا کوئی نظام ہمارے محکمہ صحت نے تاحال وضع نہیں کیاہے ۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے پہلی بار حال ہی میں طبی اخلاقیات کے ملزموں کے خلاف ایکشن لینے کا آغاز کیاہے تو اس کا دائرہ بھی صرف وفاقی حکومت اور اس کے اطراف کے علاقوں تک ہی محدود ہے ۔کراچی میں چکن گونیا بخار کے نام پر مریضوں کو خوف زدہ کرکے ان سے لوٹ مار کرنے والوں کو اب تک کسی نے بھی نہیں پوچھا ہے اور دولت کے حریص نام نہادمسیحامریضوں کو دونوں ہاتھو ں سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی اس سارے معاملے پر سوتی رہی، ڈاکٹروں کی اس نمائندہ تنظیم میں بیداری اس وقت پیدا ہوئی جب گزشتہ روز پی ایم اے کراچی کے سیکریٹری ڈاکٹر احمد بہیمانی کو اورنگی ٹاؤن سے ایک فلاحی تنظیم کی جانب سے ایک درخواست موصول ہوئی جس میں چکن گونیا بخار کے مریضوں کے لیے مفت طبی کیمپ لگانے کی استدعا کرتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ قطر گورنمنٹ اسپتال میں اس بخار کی ویکسین بھی لگائی جا رہی ہے۔ جس پر پی ایم اے کراچی کے صدر ڈاکٹر شوکت ملک نے کہا کہ چکن گونیا بخار کی کوئی حفاظتی ویکسین نہیں ہے۔ڈاکٹر شوکت نے ڈاکٹروں کی جانب سے بغیر لیب ٹیسٹ محض علامات کی بنا پر مریضوں کو خوفزدہ کرکے انہیں لوٹنے کو طبی اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے یہ بھی انکشاف کیا کہ چکن گونیا بخار کی تصدیق بلڈ ٹیسٹ سے کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چکن گونیا اینڈ ڈینگی اسکریننگ پیکج آغا خان یونیورسٹی اسپتال 3780 روپے میں کر رہا ہے جبکہ ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری میں آئی جی جی، آئی جی ایم ٹیسٹ کے 3800 روپے اور دی لیب میں یہ ٹیسٹ 1300روپے میںکیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر شوکت ملک نے ”جرا¿ت“ کے اس سوال سے اتفاق کیا کہ ایک غریب مریض کے لیے اتنا مہنگا ٹیسٹ کرانا ممکن نہیں ہے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے میں مریضوں کی رہنمائی کے لیے انتظامات کرے۔ ڈاکٹر شوکت ملک نے بتایا کہ اس وائرل بخار کا علاج کیپسول اور ٹیبلیٹس کے ذریعے موجود ہے۔ انجیکشن کا استعمال احتیاط سے اورنا قابل برداشت درد کی صورت میں ہی ہونا چاہیے۔ پی ایم اے کراچی کے سیکریٹری ڈاکٹر احمد بہیمانی نے کہا کہ اس بیماری میں سوڈیم پوٹیشیم کی کمی ہوتی ہے لہٰذا مریض کو پانی کا استعمال رکھنا چاہیے ۔ اس مسئلے کا حل شہر کی صفائی ہے۔ گندگی کے ڈھیر، سیوریج کے گندے پانی کے تالابوں اور ٹوٹی سڑکوں کے ہوتے ہوئے چکن گونیا بخار کا خاتمہ ممکن نہیں۔کراچی میں عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کی آمد خوش آئند ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی دی ہوئی گائیڈ لائن پر محکمہ صحت عمل درآمد کرے گا؟ جبکہ کالج آف فیملی میڈیسن پاکستان کی سیکریٹری ڈاکٹر شہلا نسیم نے کہا ہے کہ ان کے پاس گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ایک بھی چکن گونیا کا مریض نہیں آیا ہے۔ بعض اوقات مسلسل بخار، جسم میں درد، ٹایفائیڈ اور ملیریا جیسے بخار میں بھی ہوتا ہے۔ معالج کا فرض ہے کہ وہ پہلے مریض کی اچھی طرح سے جانچ پڑتال کریں۔ بغیر بلڈ ٹیسٹ کے کسی مریض کو چکن گونیا بخار کا کہہ کر مریض کو خوفزدہ کرنا سراسر طبی اخلاقیات کے منافی ہے۔ میرے خیال میں چکن گونیا کا شور بہت ہے لیکن حقیقت وہ نہیں ہے۔


متعلقہ خبریں


ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

مضامین
گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف وجود جمعه 01 مئی 2026
مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف

پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر