... loading ...

نئے مرض کی دریافت سے اب تک محکمہ صحت سندھ اس بیماری کو قابوکرنے کا معاملہ تو درکنار محکمہ مریضوں کا کوئی مصدقہ ریکارڈ بھی جمع نہیں کرپایا‘ مریض عموماً ایک ہفتے کے اندر اس بخارسے نجات حاصل کرلیتاہے ،چکن گونیا میںمبتلا شخص کو پانی اور تازہ پھلوں کے مشروبات دینے چاہییں
پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور واقعات سے گزررہے ہےں ۔جن میں سیلاب ، خشک سالی، طوفان ، شدید بارشیں اور گرم درجہ حرارت شامل ہے ،جبکہ کراچی جیسابین الاقوامی شہر ماحولیاتی آلودگی کے خطرناک زون میں شامل ہے۔ ادھر سائنس دانوں کا کہناہے کہ جانداروں کی بہت سی انواع اس تبدیلی کا مقابلہ نہیں کرپارہی ہیں۔اس پس منظرمیں چکن گونیا بخار مچھروں کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی وائرل بیماری ہے ۔جو دسمبر 2016ءکے آخری ہفتے میں کراچی کے علاقے ملیر میں دریافت ہوئی ۔جس کی تصدیق وفاقی وزارت صحت کی لیبارٹری این آئی ایچ سے ہوچکی ہے ۔
چکن گونیا بخارکا دنیامیں پہلا مریض 1952 ءمیں جنوبی تنزانیہ میں سامنے آیاتھا۔چکن گونیا بخارمیں شدت کے ساتھ ساتھ جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد کے علاوہ ، سرمیں درد،خارش اور شدید تھکن محسوس ہوتی ہے ۔یہ درد اور بخار عمومی طور پر چند دنوں ، سات یا دس روز تاہم بعض مریضوں میں یہ ہفتوں بلکہ مہینوں تک بھی باقی رہ سکتاہے ۔طبی تاریخ کے مطابق بعض مریضوں میں اس مرض کے بعد ذہنی اور قلبی امراض بھی رپورٹ ہوئے ہیںلیکن یہ جان لیوا مرض نہیں ہے ۔بلکہ چکن گونیا بخار بھی ڈینگی اور زیکا کے وائرس کی طرح ایڈیس ایجپٹی (Aedes aegypti)نامی مادہ مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں منتقل ہوتاہے ۔اگرکوئی عام مچھر بھی اس چکن گونیا والے مچھر سے متاثرہ کسی مریض کو کاٹ لے تو وہ مچھر بھی اس چکن گونیا والے وائرس میں تبدیل ہوکراس مرض کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتاہے۔طبی ماہرین بتاتے ہیں کہ چکن گونیا بخار کی خاص علا مات مادہ مچھر کے کاٹنے کے تین سے سات دن کے اندر ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیںاور عموماً مریض ایک ہفتے کے اندر اس بخارسے نجات بھی حاصل کرلیتاہے ۔اس بخار میںمبتلا مریض کو پانی اور تازہ پھلوں کے مشروبات دینے چاہییں ۔ان تمام بخاروں سے بچاؤ کے لیے مکمل ڈھکاہوالباس ،مچھر بھگانے والے لوشن کا استعمال ، مچھر دانی کا استعمال اور گھر میں پردوں او راس کے پیچھے مچھر مار اسپرے کے علاوہ گھراور اطراف میں مچھروں کی افزائش نسل کے ہونے والے امکانات کو ختم کرناضروری ہے ۔
مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ محکمہ صحت اور صحت سے جڑے ہوئے دیگر اداروں کے مابین اس بخار چکن گونیا سمیت ڈینگی ،ملیریا،ذیکاوائرس جیسے امراض کے لیے سرے سے باہمی رابطوں کا کوئی نظام ہی نہیں ہے ،پھر کبھی جب صورت حال قابو سے باہر ہوجائے تو مشترکہ اجلاس کے انعقاد سے آگے مشترکہ اقدامات تک معاملہ نہیں جاتا ۔حالانکہ یہ ادارے بنیادی طور پر ایسے وبائی امراض کے آنے سے قبل ہی ان کی روک تھام کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے عوام کے ٹیکسوں سے قائم کیے گئے ہیں۔چکن گونیا بخار کے سامنے آنے سے اب تک محکمہ صحت سندھ اس بیماری کو قابوکرنے کا معاملہ تو دور کی بات ہے ، بنیادی طور پر وہ اب تک سامنے آنے والے مریضوں کا کوئی مصدقہ ریکارڈ بھی جمع نہیں کرپایاہے ۔حکومت سندھ کی اس سے بڑھ کے کیا غفلت ہوگی کہ وزیر صحت سندھ ڈاکٹر سکندر میندھرو نے گزشتہ دنوں اپوزیشن خاتون اسمبلی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مریضو ں کے جو اعدادوشمار پیش کیے اس پر ان کے محکمہ کے ما تحت افسروں نے اعدادوشمار فراہم کرنے والوں سے جواب طلبی کرلی ہے جو کہ وزارت صحت سندھ کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے ۔جس میں چکن گونیا کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 63ہز ار ظاہر کی گئی ہے ۔ دوسری جانب شہر کے جنرل پریکٹیشنرز اور اتائی ڈاکٹروں نے چکن گونیا بخار کے معاملے میں محکمہ صحت کی بدحواسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر بخار کے مریض کو چکن گونیا بخار کا مریض ظاہر کرکے انہیں دونوںہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیاہے جبکہ طبی اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والے ان نام نہاد ڈاکٹروں کے احتساب کا کوئی نظام ہمارے محکمہ صحت نے تاحال وضع نہیں کیاہے ۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے پہلی بار حال ہی میں طبی اخلاقیات کے ملزموں کے خلاف ایکشن لینے کا آغاز کیاہے تو اس کا دائرہ بھی صرف وفاقی حکومت اور اس کے اطراف کے علاقوں تک ہی محدود ہے ۔کراچی میں چکن گونیا بخار کے نام پر مریضوں کو خوف زدہ کرکے ان سے لوٹ مار کرنے والوں کو اب تک کسی نے بھی نہیں پوچھا ہے اور دولت کے حریص نام نہادمسیحامریضوں کو دونوں ہاتھو ں سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی اس سارے معاملے پر سوتی رہی، ڈاکٹروں کی اس نمائندہ تنظیم میں بیداری اس وقت پیدا ہوئی جب گزشتہ روز پی ایم اے کراچی کے سیکریٹری ڈاکٹر احمد بہیمانی کو اورنگی ٹاؤن سے ایک فلاحی تنظیم کی جانب سے ایک درخواست موصول ہوئی جس میں چکن گونیا بخار کے مریضوں کے لیے مفت طبی کیمپ لگانے کی استدعا کرتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ قطر گورنمنٹ اسپتال میں اس بخار کی ویکسین بھی لگائی جا رہی ہے۔ جس پر پی ایم اے کراچی کے صدر ڈاکٹر شوکت ملک نے کہا کہ چکن گونیا بخار کی کوئی حفاظتی ویکسین نہیں ہے۔ڈاکٹر شوکت نے ڈاکٹروں کی جانب سے بغیر لیب ٹیسٹ محض علامات کی بنا پر مریضوں کو خوفزدہ کرکے انہیں لوٹنے کو طبی اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے یہ بھی انکشاف کیا کہ چکن گونیا بخار کی تصدیق بلڈ ٹیسٹ سے کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چکن گونیا اینڈ ڈینگی اسکریننگ پیکج آغا خان یونیورسٹی اسپتال 3780 روپے میں کر رہا ہے جبکہ ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری میں آئی جی جی، آئی جی ایم ٹیسٹ کے 3800 روپے اور دی لیب میں یہ ٹیسٹ 1300روپے میںکیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر شوکت ملک نے ”جرا¿ت“ کے اس سوال سے اتفاق کیا کہ ایک غریب مریض کے لیے اتنا مہنگا ٹیسٹ کرانا ممکن نہیں ہے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے میں مریضوں کی رہنمائی کے لیے انتظامات کرے۔ ڈاکٹر شوکت ملک نے بتایا کہ اس وائرل بخار کا علاج کیپسول اور ٹیبلیٹس کے ذریعے موجود ہے۔ انجیکشن کا استعمال احتیاط سے اورنا قابل برداشت درد کی صورت میں ہی ہونا چاہیے۔ پی ایم اے کراچی کے سیکریٹری ڈاکٹر احمد بہیمانی نے کہا کہ اس بیماری میں سوڈیم پوٹیشیم کی کمی ہوتی ہے لہٰذا مریض کو پانی کا استعمال رکھنا چاہیے ۔ اس مسئلے کا حل شہر کی صفائی ہے۔ گندگی کے ڈھیر، سیوریج کے گندے پانی کے تالابوں اور ٹوٹی سڑکوں کے ہوتے ہوئے چکن گونیا بخار کا خاتمہ ممکن نہیں۔کراچی میں عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کی آمد خوش آئند ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی دی ہوئی گائیڈ لائن پر محکمہ صحت عمل درآمد کرے گا؟ جبکہ کالج آف فیملی میڈیسن پاکستان کی سیکریٹری ڈاکٹر شہلا نسیم نے کہا ہے کہ ان کے پاس گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ایک بھی چکن گونیا کا مریض نہیں آیا ہے۔ بعض اوقات مسلسل بخار، جسم میں درد، ٹایفائیڈ اور ملیریا جیسے بخار میں بھی ہوتا ہے۔ معالج کا فرض ہے کہ وہ پہلے مریض کی اچھی طرح سے جانچ پڑتال کریں۔ بغیر بلڈ ٹیسٹ کے کسی مریض کو چکن گونیا بخار کا کہہ کر مریض کو خوفزدہ کرنا سراسر طبی اخلاقیات کے منافی ہے۔ میرے خیال میں چکن گونیا کا شور بہت ہے لیکن حقیقت وہ نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...