... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
چیخوف روس کا ایک مصنف تھا جو 1904 میں فوت ہو گیا۔اس نے روس کے سرخ انقلاب سے پہلے وہاں کے حالت پر بے شمار کہانیاں لکھیں جو ہمیں بتاتی ہیں کے روسی معاشرہ کتنا بے حس ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہاں انقلاب آنا پڑا۔چیخوف کی ایک کہانی اس طرح ہے کہ ایک تانگہ والا تھا۔غریب اور مجبوراس کا دس بارہ سال کا بچہ بہت بیمار تھا۔وہ اس کا علاج نہ کروا سکتا تھا ۔لہٰذا گھر پر ہی اس کی تیمارداری کر رہا تھا۔رات کو بچہ فوت ہو گیا اور وہ اس کے سرہانے ہی روتا رہا۔صبح ہوئی تو تانگہ جوتا کہ باقی بچوں کا پیٹ تو پالنا تھا۔ایک سواری ملی۔ راستے میں اس نے سواری کو بتایا کے رات اس کا بچہ مر گیا۔سواری نے کہا بہت افسوس ہوا اور خاموش ہو گئی۔اسے اتارا، پھر دوسری سواری مل گئی۔ یہ کچھ خواتین تھیں۔ اس نے انہیں بھی بتایا کہ رات اس کا بچہ بغیر علاج کے مر گیا۔انہوں نے بھی کہا بہت افسوس ہوا مگر خدا کی مرضی ہے کوئی کیا کر سکتا ہے اور اپنی باتوں میں لگ گئیں۔ پھر دو چار اور سواریاں بھی ملیں اور ایسے ہی ہوتا رہا۔ شام کو گھر پہنچا تو ٹوٹ چکا تھا۔ گھوڑی کو تانگے سے کھولتے ہوئے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔گھوڑی کے ماتھے پر اپنا ماتھا ٹکا کر رو پڑا اور کہنے لگا، تو تو ماں ہے، تو تو میرا دکھ سمجھ سکتی ہے۔میرا بچہ مر گیا ہے۔اور اس کے ساتھ گھوڑی بھی رو پڑ ی ۔روسی ادیب Anton Chekhovکی یہ مختصر مگر روح کو چیر دینے والی کہانی دراصل محض ایک تانگہ بان کے ذاتی المیے کی روداد نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی اجتماعی موت کا مرثیہ ہے جہاں احساس مر چکا ہو، جہاں انسان بولتے تو ہوں مگر سنتے نہ ہوں، اور جہاں دکھ ایک بوجھ بن کر رہ جائے۔ ایسا بوجھ جسے اٹھانے والا اکیلا رہ جائے۔
چیخوف جس روس کو لکھ رہا تھا، وہ صرف سیاسی یا معاشی بحران کا شکار نہیں تھا بلکہ اس کی اصل تباہی اس کے اندرونی زوال میں تھی۔ وہ زوال جو آہستہ آہستہ انسان کی روح کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اس تانگہ بان کی داستان میں ہمیں وہی داخلی ٹوٹ پھوٹ نظر آتی ہے۔ ایک باپ جس کا بچہ غربت، بے بسی اور علاج کی عدم دستیابی کے باعث مر جاتا ہے، مگر اس کے بعد جو سب سے بڑا سانحہ پیش آتا ہے وہ بچے کی موت نہیں بلکہ اس دکھ کا کسی انسان تک نہ پہنچ پانا ہے۔ یہاں ہمیں Fyodor Dostoevskyیاد آتا ہے، جس نے لکھا تھا کہ ”انسان کا سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ وہ اپنے دکھ کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا جائے”۔چیخوف کا تانگہ بان اسی عذاب کا شکار ہے۔ وہ ہر سواری سے اپنے بچے کی موت کا ذکر کرتا ہے، مگر ہر بار اسے محض رسمی ہمدردی ملتی ہیایسی ہمدردی جو الفاظ میں تو ہوتی ہے مگر دل میں نہیں اترتی۔”بہت افسوس ہوا”جیسے جملے دراصل اس معاشرے کی اخلاقی دیوالیہ پن کی گواہی ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں Albert Camus کا”Absurd”سامنے آتا ہے۔۔وہ بے معنویت جس میں انسان چیختا ہے مگر کائنات خاموش رہتی ہے۔ یہاں کائنات کی جگہ معاشرہ ہے، اور تانگہ بان کی چیخیں انسانوں کے ہجوم میں گم ہو جاتی ہیں۔ وہ زندہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی ایک مردہ دنیا میں سانس لے رہا ہے۔اسی تناظر میں Karl Marxکا”alienation”یا بیگانگی کا تصور بھی شدت سے محسوس ہوتا ہے۔ تانگہ بان صرف اپنے دکھ سے نہیں، بلکہ پورے سماج سے بیگانہ ہو چکا ہے۔ وہ اپنی محنت بیچتا ہے، اپنی زندگی گھسیٹتا ہے، مگر اس کے احساسات، اس کا درد، اس کا دکھ۔۔کسی کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ وہ ایک مشین بن چکا ہے، ایک ایسا پرزہ جو چلتا رہتا ہے مگر محسوس نہیں کیا جاتا۔اور پھر جب وہ آخرکار اپنی گھوڑی کے سامنے ٹوٹتا ہے، تو یہ منظر محض جذباتی نہیں بلکہ انتہائی علامتی ہے۔
آرتھر شوپنہار( Arthur Schopenhauer)نے کہا تھا کہ ہمدردی (compassion) ہی وہ واحد جذبہ ہے جو انسان کو اخلاقی بناتا ہے۔ مگر چیخوف کے اس معاشرے میں انسان اس بنیادی وصف سے محروم ہو چکا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ایک جانور انسان سے زیادہ ”انسان” بن جاتا ہے۔ تانگہ بان کو اپنی گھوڑی میں وہ سننے والا ملتا ہے جو پورے شہر میں کہیں موجود نہیں۔یہاں لیو ٹالسٹائی ( Leo Tolstoy )کی تعلیمات بھی یاد آتی ہیں، جو بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معاشرے کی اصل بنیاد محبت اور ہمدردی ہے، نہ کہ طاقت اور دولت۔ جب یہ بنیادیں کمزور ہو جائیں تو پھر کوئی بھی نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ چیخوف کے روس میں اندر ہی اندر ایک لاوا پک رہا تھا، جو بالآخر Russian Revolutionکی صورت میں پھٹا۔ لیکن چیخوف کا کمال یہ ہے کہ وہ انقلاب کی بات نعروں میں نہیں کرتا، بلکہ ایک خاموش، ٹوٹے ہوئے انسان کے ذریعے ہمیں وہ سب کچھ دکھا دیتا ہے جو کسی بڑے سماجی دھماکے سے پہلے ہوتا ہے۔ یہ کہانی دراصل ایک انتباہ ہے۔۔ایک خاموش چیخ۔۔۔کہ جب معاشرہ اپنے کمزور ترین فرد کے دکھ کو سننے سے انکار کر دے، تو وہ اپنی بقا کا جواز کھو دیتا ہے۔یہی بے حسی دراصل کسی بھی سماج کے زوال کی آخری حد ہوتی ہے۔ غربت، بھوک، ناانصافی۔۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں، مگر سب سے خطرناک وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان دوسرے انسان کے درد سے لاتعلق ہو جائے۔ کیونکہ اس کے بعد نہ کوئی اخلاق باقی رہتا ہے، نہ کوئی رشتہ، نہ کوئی امید۔چیخوف کی یہ کہانی ہمیں ایک آئینہ دکھاتی ہے ایک ایسا آئینہ جس میں ہم صرف روس کو نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے معاشروں کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اور شاید خود کو بھی۔اور سوال وہی رہ جاتا ہے، مگر اب اور زیادہ بھاری ہو کر:اگر ایک دن ہمارے پاس بھی اپنے دکھ سنانے کے لیے کوئی انسان نہ بچے، اور ہمیں کسی خاموش جانور کے سامنے سر رکھ کر رونا پڑے تو کیا اس لمحے ہم صرف تنہا ہوں گے، یا مکمل طور پر ہار چکے ہوں گے؟پاکستان کا عام آدمی بھی اسی تانگہ بان کی طرح ہے تھکا ہوا، ٹوٹا ہوا، مگر زندہ رہنے پر مجبور۔ یہاں بھی ایک باپ اپنے بیمار بچے کو اسپتال کے دروازے پر لیے کھڑا رہتا ہے، مگر اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ ڈاکٹر کی فیس دے سکے۔ یہاں بھی ایک ماں اپنے بچوں کی بھوک کو پانی پلا کر سلانے کی کوشش کرتی ہے۔ اور جب ان کے دکھ حد سے بڑھ جاتے ہیں تو وہ انہیں کسی کے ساتھ بانٹنا چاہتے ہیں۔۔۔مگر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ہماری سڑکوں، بازاروں، بسوں اور دفاتر میں ایسے بے شمار”تانگہ بان” گھوم رہے ہیں۔ وہ بولتے ہیں، شکوہ کرتے ہیں، اپنے دکھ سناتے ہیں مگر جواب میں انہیں وہی رسمی جملے ملتے ہیں:”بہت افسوس ہوا”،”اللہ بہتر کرے گا”،”وقت سب ٹھیک کر دے گا”—یہ الفاظ اب تسلی نہیں دیتے، بلکہ ایک طرح کی بے حسی کا پردہ بن چکے ہیں۔اگر ہم غور کریں تو چیخوف کے تانگہ بان اور آج کے پاکستانی مزدور، رکشہ ڈرائیور، کلرک یا بے روزگار نوجوان میں کوئی خاص فرق نہیں۔ دونوں کے پاس دکھ ہے، دونوں کے پاس کہانی ہے، مگر دونوں کے پاس سننے والا نہیں۔ صبح سے شام تک کی جدوجہد، مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی۔۔۔۔یہ سب ایک دائرے کی طرح ہے جس میں انسان گھومتا رہتا ہے، مگر کہیں پہنچتا نہیں۔ اور اس سب کے درمیان اس کے جذبات، اس کا دکھ، اس کی چیخ۔۔۔خاموشی میں دفن ہو جاتی ہے۔پاکستانی سماج میں سب سے بڑا المیہ شاید غربت نہیں، بلکہ احساس کا مر جانا ہے۔ کیونکہ غربت تو انسان کو کمزور کرتی ہے، مگر بے حسی اسے انسان ہی نہیں رہنے دیتی۔
آرتھر شوپنہار( Arthur Schopenhauer )نے کہا تھا کہ ہمدردی ہی اخلاق کی بنیاد ہے، اور جب یہ بنیاد گر جائے تو پھر معاشرہ صرف ایک ہجوم رہ جاتا ہے۔۔ایک ایسا ہجوم جس میں ہر فرد اکیلا ہوتا ہے۔اور پھر وہی منظر دہرایا جاتا ہے جو چیخوف نے دکھایا تھا۔۔فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں تانگہ بان کی جگہ ایک مزدور، ایک رکشہ ڈرائیور یا ایک باپ کھڑا ہوتا ہے، اور گھوڑی کی جگہ شاید کوئی دیوار، کوئی اندھیری رات، یا اس کا اپنا خدا ہوتا ہے جس کے سامنے وہ ٹوٹ کر روتا ہے۔ کیونکہ انسانوں کی دنیا میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں بچتی۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں Emmanuel Levinasکا تصور ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ دوسروں کے چہرے میں ہمیں اپنی ذمہ داری نظر آنی چاہیے۔ مگر ہمارے معاشرے میں وہ چہرے اب محض گزرگاہ بن چکے ہیں، کوئی پکار نہیں رہے۔
چیخوف کا روس آخرکار Russian Revolutionکی طرف بڑھا، کیونکہ وہاں صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بحران بھی اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں؟ کیا ہم نے بھی اپنے اردگرد کے انسانوں کو سننا چھوڑ دیا ہے؟ کیا ہم بھی صرف رسمی جملوں میں اپنی ذمہ داری پوری سمجھتے ہیں؟یہ تحریر کسی ایک کہانی کا تجزیہ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے۔۔۔ایک ایسا آئینہ جس میں پاکستان کا عام انسان اپنی تھکن، اپنی تنہائی، اور اپنی
بے بسی کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔اور آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے، مگر اب زیادہ قریب، زیادہ ذاتی:جب ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کے دکھ سننے سے انکار کر دیتے ہیں تو کیا ہم ایک معاشرہ رہ جاتے ہیں، یا صرف ایک بے حس ہجوم؟
٭٭٭٭