... loading ...

بنیادی تنخواہ جتنا الائونس ہر ماہ تنخواہ کے ساتھ دینے کی سفارش،وزیر اعلیٰ کی جانب سے مستردکیے جانے پر دوبارہ سمری ارسال‘ دوسری سمری پر چیف سیکرٹری برہم، قانون کی رو سے وزیراعلیٰ ایک سمری مسترد کریں تو اس موضوع پر دوبارہ سمری نہیں بھیجی جاسکتی
محکمہ اینٹی کرپشن کو ویسے بھی آنٹی کرپشن کہا جاتا ہے اور کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں ہے جو محکمہ اینٹی کرپشن پر چیک اینڈ بیلنس رکھے لہٰذامحکمہ اینٹی کرپشن مطلق العنان بنا ہوا ہے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ محکمہ اینٹی کرپشن میں ایک خصوصی سیل بنایا جاتا جو اپنے محکمہ کے کرپٹ ملازمین پر نظر رکھتا ،ان کی نگرانی کرتا اور غلط کام کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کرتا۔ لیکن یہاں الٹا پہیہ چلتا ہے وہ یہ کہ محکمہ اینٹی کرپشن کو ہمیشہ حکمرانوں نے اپنے مخالفین کے لئے استعمال کیا، نتیجے میںیہ محکمہ اب تک عوام میں ساکھ بھی نہیں بناسکا ہے کیونکہ جو آتا ہے وہ اوپر کے احکامات پر من وعن عمل کرتا ہے اور پھر وہ اپنا اور ماتحت ملازمین کا پیٹ بھرکر چلاتا ہے۔ اس سے بڑی ماتم والی کیا بات ہوگی کہ غلام حیدر جمالی اور غلام قادر تھیبو جیسے لوگ محکمہ اینٹی کرپشن کے چیئرمین رہے‘ یوں بلی کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھادیا گیا۔ نیب میں اس وقت اربوں روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا ریفرنس غلام حیدر جمالی پر چل رہا ہے وہ بھلا کس طرح کرپشن کنٹرول کرتا کیونکہ گھوڑا اگر گھاس سے دوستی کرے گا تو بھوکا ہی مرے گا۔ اب وہی حال غلام قادر تھیبو کا ہے انہوں نے محکمہ اینٹی کرپشن میں پولیس افسران کو لاکر بھردیا ہے ،خیر سے یہ وہ پولیس افسران ہیں جو انور مجید کے منظور نظر ہیں ،ان کا کرپشن کے خاتمے سے بھلا کیا تعلق ؟ وہ تو اوپرسے آنے والے حکم پر عمل کریں گے اور محکمہ اینٹی کرپشن میں ڈیپوٹیشن پر جو پولیس افسر آئے تھے وہ بھی ’’اوپر‘‘ حساب کتاب دے کر تین سالہ مدت مکمل کرنے کے باوجود محکمہ اینٹی کرپشن میں موج مستی کررہے ہیں۔ اب حال ہی میں محکمہ اینٹی کرپشن کے چیئرمین نے حیرت انگیز سمری وزیراعلیٰ کو بھیجی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن میں ملازمین دن رات محنت کرکے تھک چکے ہیں، ان کی تنخواہ میں ان کا گھر نہیں چلتا ،بے چارے اچھے اور شریف ملازمین ہیں ،کرپشن سے ان کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ، ان کے گھر کا چولہا جلانے کے لئے ان کو بنیادی تنخواہ جتنا الائونس ہر ماہ تنخواہ کے ساتھ دیا جائے تاکہ وہ مزید محنت اور جانفشانی سے کام کرسکیں۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ وزیراعلیٰ نے سمری پڑھی تو ہنس پڑے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کے ملازمین ہوں اور محنتی‘ ایماندار ہوں یہ تو ناممکن بات ہے، انہوں نے اس سمری کو مسترد کردیا ہے۔ جیسے ہی چیئرمین اینٹی کرپشن کو پتہ چلا وہ سمری تھامے اسی دن وزیراعلیٰ کے پاس جاپہنچے اوراپیل کی کہ جناب ایسا نہ کریں۔ محکمہ اینٹی کرپشن نے دن رات ایک کرکے صوبے سے کرپشن ختم کردی ہے۔ ملازمین نے اس صوبے کو کرپشن سے پاک کرنے کی ٹھان لی ہے ان کے اس مشن کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کو ایک تنخواہ کے ساتھ ساتھ بنیادی تنخواہ کے برابر ایک خصوصی الائونس دیا جائے۔ وزیراعلیٰ اس دہائی کو سنتے رہے اور پھر کہا کہ اچھا دوبارہ سمری بھیجی جائے ۔چیئرمین اینٹی کرپشن نے اس ملاقات کو ایک اجلاس کا رنگ دے دیا اور فوری طور پراسکے منٹس بنائے اور تمام سرکاری اداروں کو بھیج بھی دیئے اور ساتھ ساتھ دوسری سمری بناکر وزیراعلیٰ سندھ کو بھیج دی۔ محکمہ خزانہ کے افسران کو بھی منالیا لیکن جب سمری چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن کے پاس پہنچی تو ان کی آنکھیں کھلی رہ گئیں، انہوں نے سمری وزیراعلیٰ کو ارسال نہیں کی بلکہ سیکریٹری خزانہ سندھ حسن نقوی کو سخت نوٹ کے ساتھ واپس کی کہ سمجھ نہیں آتا آخر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ وزیراعلیٰ نے ایک سمری مسترد کردی ہے تو دوسری سمری کیوں بھیجی گئی ہے؟ اس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟ اور اس سمری پر سیکریٹری خزانہ اپنا موقف تحریری طورپر بھیج دیں تاکہ اس کو دیکھ کر فیصلہ کیا جاسکے کہ یہ سمری وزیراعلیٰ کو بھیجنی ہے یا نہیں؟ کیونکہ قانون یہی کہتا ہے کہ وزیراعلیٰ کسی ایک موضوع پر سمری مسترد کریں تو اس موضوع پر دوبارہ سمری نہیں بھیجی جاسکتی، یہاں اس موضوع پر دوبارہ سمری بھیجنے کے لئے وزیراعلیٰ دوبارہ احکامات دے سکتے ہیں لیکن کوئی محکمہ خود سے وہی سمری دوبارہ نہیں بھیج سکتا اب محکمہ خزانہ تو پریشان ہے اور وہ اس سمری کو دوبارہ وزیراعلیٰ کے پاس بھیجنے پر تیار نہیں ہے لیکن چیئرمین محکمہ اینٹی کرپشن غلام قادر تھیبو دن رات ایک کرکے اس سمری کو منظور کروانا چاہتے ہیں اور یہ معاملہ اب طویل بحث میں الجھ گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...