وجود

... loading ...

وجود

فلسطین اسرائیل تنازع پر ثالثی کی روسی پیشکش

اتوار 09 اپریل 2017 فلسطین اسرائیل تنازع پر ثالثی کی روسی پیشکش

شام میں ایران کی موجودگی پرراضی کرنے کیلیے روس نے پتا پھینک دیا،مغربی بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر پر آمادگی اسرائیل نے روس کو صاف بتادیاتھا کہ وہ شام میں ایران کی موجودگی کو اپنے لئے خطرہ تصور کرتاہے جسے تادیر برداشت نہیں کیا جائے گا ماسکومغربی بیت المقدس کو اب تک اسرائیل کادارالحکومت تسلیم نہیں کرتا، اسی لیے اس کا سفارت خانہ تل ابیب میں قائم ہے

روس نے اسرائیلی رہنمائوں کو پیشکش کی ہے کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ معاہدے پر تیار ہوجائے توروس مغربی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلے گا ، یہ پیشکش گزشتہ دنوں شام پر امریکا کے اندھادھند میزائل حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسرائیل، سعودی عرب اور برطانیہ نے جس کی حمایت اور روس وایران سمیت کئی ممالک نے جس کی مذمت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق روس نے اسرائیلی رہنمائوں کو فلسطین کا مسئلہ حل کرانے میں مدد دینے، فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے اور مشرقی بیت المقدس کو فلسطینیوںاور مغربی بیت المقدس کو اسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے کی پیشکش کے علاوہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پرامن بقائے باہمی کامعاہدہ کرانے کی بھی پیشکش کی ہے تاکہ دونوں ہی فریق جنگ اور کشیدگی سے پاک ماحول میں زندگی گزار سکیں اور ماضی کوفراموش کرکے اپنی بقا اورترقی کی راہ خود پیدا کرسکیں۔
اطلاعات کے مطابق شام جنگ میں ایران کی دلچسپی اور شام کی حکومت کی حمایت پراسرائیل میں بے چینی پائی جاتی ہے اور اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے روس کے صدر پوٹن کو صاف صاف بتادیاہے کہ اسرائیل شام میں ایران کی مستقل موجودگی کو اپنے لئے خطرہ تصور کرتاہے اور وہ اسے تادیر برداشت نہیں کرے گا،اطلاعات کے مطابق روسی رہنمائوں نے نیتن یاہو کے اس انتباہ اور شام میں ایران کی موجودگی کے حوالے سے ان کی جانب سے ظاہر کردہ تشویش کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کے بعد فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کاامن معاہدہ کرانے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی اورروس کی وزارت خارجہ نے سرکاری طورپر ایک بیان جاری کرکے یہ پیشکش کی کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے کے لیے تیار ہوجائے تو روس بیت المقدس کے مغربی علاقے کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کو تیار ہے۔
روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کواس کی پالیسی میں اہم اور حیران کن تبدیلی کے طورپر دیکھا جارہاہے۔ اگرچہ اس سے قبل بھی روس کا موقف یہی رہاہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کسی بھی امن معاہدے میں مشرقی بیت المقدس کو فلسطینیوں کا دارالحکومت تسلیم کیاجانا چاہئے لیکن روس نے اس حوالے سے کبھی مغربی بیت المقدس کے بارے میں کسی پالیسی کااظہار نہیں کیاتھا۔ روس مغربی بیت المقدس کو اب تک اسرائیل کادارالحکومت تسلیم نہیں کرتا اور اسرائیل میں روس کا سفارت خانہ بیت المقدس میں نہیں بلکہ تل ابیب میں قائم ہے۔
روس کی پالیسی یا موقف میں یہ تبدیلی روس کی جانب سے حال ہی میں اسرائیلی کابینہ کے اس فیصلے کی مذمت کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ایمونا کی غیر قانونی چوکی سے بیدخل کئے گئے یہودیوں کو آباد کرنے کے لیے نئی بستیاں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیاگیاتھا۔
روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیاہے کہ روس کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع اور کشیدگی کے ماحول اور اس حوالے سے کسی طرح کے مذاکرات اور بات چیت نہ ہونے پر شدید تشویش ہے کیونکہ اس سے خطے میں حالات بگڑتے ہی جارہے ہیںاور صورت حال بد سے بدتر شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہاگیاتھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے عمل میں جمود کی وجہ سے مختلف ممالک کی جانب سے یکطرفہ اقدامات کی راہ کھل گئی ہے جس سے صورتحال میں بہتری کے بجائے مزید ابتری پیدا ہورہی ہے۔ اس سے فلسطین کے مسئلے کے دو ریاستی حل کامنصوبہ جسے پوری دنیا نے منظور کیاہے متاثر ہورہاہے۔روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہاگیاہے کہ اسرائیل اور فلسطین دونوں ہی پرامن پڑوسیوں کی طرح امن و سلامتی کے ساتھ رہ سکتے ہیں،روس اقوام متحدہ کی منظور کردہ اسرائیلی اور فلسطینی ریاستوں کے نظریئے کی پوری طرح حمایت کرتاہے ،بیان میں کہاگیاہے کہ اس کے ساتھ ہی ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جہاں ہم مشرقی بیت المقدس کو فلسطینیوں کادارالحکومت تسلیم کرتے ہیں وہیں امن معاہدے کی صورت میں مغربی بیت المقدس کو اسرائیل کادارالحکومت بھی تسلیم کرلیں گے۔تاہم فلسطینیوں اور اسرائیل کو اس مسئلے کے پرامن حل کے لیے براہ راست مذاکرات کا آغاز کرنا چاہئے اور روس اس حوالے سے ہر ممکن معاونت کرنے کو تیار ہے۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ کی ترجمان ایمانوئل ناہشون سے جب روس کی اس پیشکش کے حوالے سے تبصرہ کرنے کوکہاگیاتو انھوں نے فوری طورپر اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکام روس کی اس پیشکش کاجائزہ لے رہے ہیں جس کے بعد ہی اس پر کوئی تبصرہ کرنا یا رائے دینا ممکن ہوسکے گا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدہ کرانے کے حوالے سے روس کی اس بظاہر مخلصانہ پیشکش پر اسرائیلی حکام کیاردعمل ظاہر کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزارت خارجہ کے حکام روس کی اس پیش رفت کے کیامطلب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم وجود - بدھ 26 نومبر 2025

عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع وجود - بدھ 26 نومبر 2025

بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل وجود - منگل 25 نومبر 2025

مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا وجود - منگل 25 نومبر 2025

غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا

مضامین
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ

مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن وجود جمعرات 27 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر