... loading ...
بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو سندھ کے شہری عوام نے سر آنکھوں پر بٹھایا ۔ مگر انہوں نے عام آدمی کے اعتماد کاگلا گھونٹا ۔طارق میر اور محمد انور نے منی لانڈرنگ کیس میں برطانوی تحقیقاتی اداروں کے سامنے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ انہیں بھارت سے مسلسل فنڈز مل رہے ہیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے افسران مختلف ممالک میں اُن سے ملتے رہے ہیں‘ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کیس ایم کیو ایم کیلئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئے اور نتیجہ میں ایم کیو ایم کی دہشت اور خوف کی سیاست زوال پزیر ہونا شروع ہوئی اور رہی سہی کسر 22 اگست کو الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر نے پوری کردی۔ جس کے بعد خود اُن کی اپنی ہی جماعت کے رہنماؤں کے لیے اُن کی حمایت کرنا دشوار تر ہوتا چلا گیا۔اور اُن سے خود اُن کی ہی جماعت نے ایک مناسب فاصلہ پیدا کرنے کی صورت پیدا کرنا شروع کردی۔ یوںکراچی اور پاکستان کے عوام‘ ذرائع ابلاغ پر جبراً الطاف حسین کی دو تین گھنٹے کی تقاریر سننے سے نجات پاسکے۔اس تقریر کے نتیجے میں ایم کیو ایم دو حصوں میں تقسیم ہوئی۔ابتدا میں ڈاکٹر فاروق ستار کے لاکھ کہنے کے باوجود کہ وہ الطاف حسین سے الگ ہوچکے ہیں ، عام آدمی اور ذرائع ابلاغ اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھے۔اس کا سبب یہ بھی تھا کہ وہ الطاف حسین کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے کیلئے تیار نہیں تھے، مگر اس کی وجہ دراصل ایم کیوایم کا وہ ورثہ تھا جو ایم کیوایم پاکستان چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔مگر چند روز قبل ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن کے کچھ اس طرح بیانات آئے کہ ایسا لگنے لگا کہ دونوں پارٹیاں ایک ہیں صرف وقتی طورپر حالات کا انتظار کیا جارہا ہے جیسے حالات سازگار ہوں گے دونوں پارٹیاں یک جان دو قالب ہ وجائیں گی۔ اور حسب روایت اس کی ایک ایسی منطق پیش کر دی جائے گی کہ عوام اور میڈیا بھی خاموش ہوجائیں گے ۔
آخر کوئی تو ایسا جادو ہے کہ برطانیہ جیسے انصاف پسند ملک میں منی لانڈرنگ کا کیس بند ہوگیا بھلا کوئی یہ پوچھے کہ الطاف حسین کے گھر سے تو پانچ لاکھ پائونڈ ملے تھے اُس رقم کا قصہ کس طرح نمٹایا جائے گا؟ اس پر کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ تو برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی مشترکہ کارستانی ہے کہ منی لانڈرنگ کیس داخل دفتر کردیا گیا ہے اور عمران فاروق قتل کیس بھی اس طرح ختم ہوجائے گا اور بیماریوں میں مبتلا الطاف حسین سرخرو ہوکر نکلیں گے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں الطاف حسین کا بیان شائع یا نشر کرنے پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود الطاف حسین بیرون ممالک اپنی پارٹی کارکنوں سے مسلسل خطاب کیے جارہے ہیں اور اب تو ان کا وطیرہ بن گیا ہے کہ وہ ہر تقریر پاکستان مخالف کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق الطاف حسین نے اتوار 12 مارچ 2017 کو ایک مرتبہ پھر اپنے ٹیلی فونک خطاب میں ایسی ناپسندیدہ گفتگو کی ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نزدیک ہر گز قابلِ قبول نہیں۔ ذرائع کے مطابق اپنے اس خطاب میں اُنہوں نے مہاجر لبریشن آرمی کے نام سے نئی مسلح دہشت گرد تنظیم بنانے کا عزم دہرایا ہے۔ اس اعلان پر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ہلچل مچ گئی انہوں نے فوری طورپر باہمی رابطے کیے اور ہنگامی بنیادوں پر رینجرز ہیڈ کوارٹر میں پیر 13 مارچ 2017 کو ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا۔ جس میں پولیس‘ رینجرزاور حساس اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید خان نے کی۔ اجلاس میں ڈی جی رینجرز نے کہا کہ پاک فوج‘ رینجرز اور پولیس نے ملک کی سلامتی کی قسم کھائی ہوئی ہے ۔ کوئی بھی ملک کی سلامتی کے خلاف بات کرے گا یہ ادارے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔ ڈی جی رینجرز نے اس موقع پر خاصی پرجوش اور ولولہ انگیز باتیں کیں اور واضح کیا کہ اگر کسی نے مہاجر لبریشن آرمی بناکر دہشت گردی اور تخریب کاری کی تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور ان کو کسی بھی صورت میں نہیں بخشا جائے گا۔ انہوں نے تمام اداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ فوری طورپر اپنا نیٹ ورک فعال بنائیں اور جو لوگ اس نئی دہشت گرد تنظیم کی داغ بیل ڈالنے میں ہمہ تن مصروف ہیں ان کی بیخ کنی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ایسے ملک دشمن عناصر کی ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے ۔
اس موقع پر بعض اداروں کے افسران نے پی ایس پی کا نام لیے بغیر کہا کہ جناب اگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایک جیسی کارروائی کرنی ہے تو پھر کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرنی چاہئے، اس پر ڈی جی رینجرز نے واضح الفاظ میں کہا کہ سب سن لیں جرائم پیشہ افراد قانون شکن ہیں ان کے خلاف بلاتفریق اور بلااشتعال کارروائی کی جائے۔ چاہے ان جرائم پیشہ افراد کا تعلق پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) سے ہی کیوں نہ ہو ۔ہمیں ہر صورت میں آپریشن ردالفساد کامیاب بنانا ہے اور اس کے لیے کسی جرائم پیشہ شخص سے رعایت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے پولیس‘ رینجرز اور حساس اداروں کا مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا تاکہ کوئی بھی ادارہ انفرادی طورپر کامیابی کا کریڈٹ نہ لے بلکہ یہ مشترکہ کریڈٹ ہونا چاہئے۔دیکھنا یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مہاجر لبریشن آرمی کے حوالے سے پائے جانے والے یہ تحفظات درست ثابت ہوتے ہیں یا یہ محض الزامات ہی رہتے ہیں۔ ماضی میں کچھ زیرزمین سرگرمیوں کی برسرزمین نقاب کشائی نے اُس وقت منفی اثرات ڈالے تھے جب یہ عوام الناس کے سامنے حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے تھے۔ اس طرح اس کا فائدہ بھی ایم کیوایم کی لندن قیادت اُٹھانے میں کامیاب رہی تھی۔ اب اس پورے معاملے کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کس طرح سمجھداری سے سنبھالتے ہیں کہ معاملات قابو میں بھی رہے اور اس کا فائدہ کسی بھی طرح لندن قیادت اُٹھا نہ سکے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اصل امتحان ہی یہ ہوگا۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...