وجود

... loading ...

وجود

امریکا کے دفاعی بجٹ میں 10،چین میں 7فیصد اضافہ

منگل 07 مارچ 2017 امریکا کے دفاعی بجٹ میں 10،چین میں 7فیصد اضافہ


امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملکی دفاعی بجٹ میں اضافے کے فیصلے کے چند روز بعد ہی چین نے بھی رواں برس کے دوران دفاعی اخراجات میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔چین کی جانب سے اضافے کا اعلان بیجنگ میں سالانہ نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کے انعقاد سے قبل سامنے آیا۔دفاعی بجٹ میں 7 فیصد اضافے کے باوجود بھی دفاع کے شعبے میں چین کے اعلانیہ اخراجات امریکا کی نسبت کم رہیں گے۔خیال رہے کہ چین کی جانب سے دفاعی اخراجات کے اعلان سے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دفاعی بجٹ میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا۔گزشتہ کئی سال میں چین نے اپنی معیشت میںپھیلائو کے ساتھ تیزی سے اپنی فوج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کیا ہے۔تاہم اس کے باوجود چین کا دفاعی بجٹ امریکا کے بجٹ سے بہت کم ہے۔یہ مسلسل دوسرا سال ہے جس میں چین کے دفاعی بجٹ میں اضافہ مجموعی طور پر دہرا ہندسے عبور نہیں کر پایا ہے۔حکومتی ترجمان فو ینگ کا کہنا ہے کہ چین رواں برس اپنے مجموعی جی ڈی پی کا ایک اعشاریہ تین فیصد دفاع پر خرچ کرے گا ۔ انھوں نے بتایا کہ چین کی فوج کی توجہ دفاع اور ایشیا میں استحکام کے لیے فوج کی تشکیل پر مرکوز ہے۔’ہم پرامن طور پر مسائل کے حل کی ترویج کر رہے ہیں، ساتھ ہی ہمیں اپنی سالمیت اور دلچسپیوں کے لیے بھی صلاحیت کی ضرورت ہے۔‘حکومتی ترجمان فو ینگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین کی صلاحیتوں کے مستحکم ہونے سے خطے میں امن اور استحکام بڑھے گا اور یہ خطے کے مفاد میں ہے، اس کے خلاف نہیں۔
خطے میں جہاں سرحدی تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں وہاں چین کے دفاعی اخراجات میں اضافے اور بحری قوت کو مضبوط بنانا مقابلے کے ممالک میں تشویش کا باعث بن رہاہے۔جنوبی بحیرہ چین میں چین نے اپنی سمندری حدود سے باہر مصنوعی جزیرے بنائے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ چند سال میں معیشت میں بہتری کے ساتھ ساتھ چین نے اپنے ہتھیاروں کو بھی جدید کیا ہے۔چینی فوج نے گزشتہ ماہ بھی فوجی مشقوں میں جدید ڈی ایف 16 میڈیم رینج بیلسٹک میزائل کے استعمال کی ویڈیو جاری کی تھی۔
چینی اخبار ‘پیپلز ڈیلی’ کی رپورٹ کے مطابق فوجی مشق کی اس وڈیو میں چینی فوج کے اہلکار جدید بیلسٹک میزائل کو آپریٹ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔چین کے ریٹائرڈ میجر جنرل اور موجودہ اسٹریٹجی ریسرچر شو گوانگ یو کا اخبار کو بتانا تھا کہ یہ میزائل چین کے ہتھیاروں کی کھیپ میں موجود خلا کو پْر کرتا ہے جبکہ اس کی مار کرنے کی صلاحیت ایک ہزار کلومیٹر سے زائد ہے۔چینی اخبار اس حوالے سے اسلحے کے ماہر کا تجزیہ بھی شامل کرتا ہے جن کے مطابق ڈی ایف 16 میزائل تقریباً 500 کلو گرام تک دھماکا خیز مواد ساتھ لے کر جاسکتا ہے اور اپنی حرکت پذیری کی وجہ سے دشمن کے دفاعی نظام کو توڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس وڈیو میں دو اقسام کے ڈی ایف 16 میزائل دکھائے گئے ہیں، جن میں سے ایک دیکھنے میں گولی کی شکل کا ہے، اس میزائل کو اصل ڈی ایف 16 قرار دیا جارہا ہے جبکہ دوسرا میزائل اس کا جدید ورژن ہے جو حرکت پذیر میزائل ہے اور اس میں متعدد پَر بھی نصب ہیں۔ وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لانچ وہیکلز بیلکسٹک میزائل کو لے کر جارہی ہیں جبکہ راکٹ فورس میزائل بریگیڈ کے اہلکار بھی اس میں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ یہ تربیتی مشقیں چینی نئے سال کے موقع پر منعقد کی گئی تھیں۔مشقوں کے دوران فوجی اہلکاروں کو مختلف صورتحال سے نمٹتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جن میں ممکنہ کیمیائی اور حیاتیاتی حملے، سیٹلائٹ نگرانی اور الیکٹرونک جیمنگ وغیرہ سے نمٹنا شامل ہیں۔وڈیو میں متعدد فوجیوں کو مشقیں کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے تاہم ویڈیو میں کسی میزائل کو باقاعدہ لانچ ہوتے نہیں دکھایا گیا۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی چینی اخبار نے ایک لانگ رینج میزائل کی تصاویر شائع کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین فضا سے فضا میں ہدف کو نشانہ بنانے والے لانگ رینج میزائل کا تجربہ کرسکتا ہے۔چینی صدر شی جن پنگ اسٹیلتھ جیٹ اور طیارہ بردار ٹیکنالوجی سمیت فوجی طاقت میں جدت اور وسعت کے پروگرام کی نگرانی کر رہے ہیں، جب کہ چین اینٹی سیٹلائٹ میزائل کے تجربات بھی کر رہا ہے۔چینی فوجی مشقوں میں جدید بیلسٹک میزائل کی رونمائی بھی کی گئی تھی ۔
واضح رہے کہ یہ دوسرا سال ہے کہ جب چین کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اعلانیہ اضافے کی شرح 10 فیصد سے کم رہی ہے۔چین کی حکومتی ترجمان فو ینگ کے مطابق 2017 میں ملک کی متوقع جی ڈی پی میں سے 1.3 فیصد دفاع پر خرچ کیا جائے گا۔ان کا صحافیوں کو بتانا تھا کہ دفاع کے شعبے میں چین کے اخراجات کا دارومدار خطے میں امریکی سرگرمیوں پر منحصر ہے۔ چین نے ہدف کو نشانہ بنانے والے طویل رینج میزائل کی تیاری بھی شروع کردی ہے،فو ینگ کے مطابق ‘علاقائی مسائل کے حل کے لیے پرامن مذاکرات اور مشاورت کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی سالمیت اور مفاد کو محفوظ بنانے کی صلاحیت کی بھی ضرورت ہے’۔ان کا کہنا تھا ‘خاص طورپر ہمیں بیرونی عناصر کی جانب سے مسائل میں مداخلت کے خلاف تحفظ پیدا کرنا ہے’۔ترجمان نے ‘مداخلت’ کے حوالے سے وضاحت تو نہیں کی تاہم بیجنگ کی جانب سے جنوبی اور مشرقی سمندر کے حوالے سے کیے گئے دعوے خطے میں بے یقینی اور واشنگٹن کی جانب سے تنقید کا سبب بنے ہیں۔چین نے ‘ففتھ جنریشن’ لڑاکا طیارے کا تجربہ بھی کیا ہے تاہم فو ینگ کا کہنا تھا کہ ‘چین نے کبھی کسی بھی ملک کو نقصان نہیں پہنچایا’۔حالیہ رپورٹس کے مطابق بیجنگ کی جانب سے جنوبی سمندروں میں موجود مصنوعی جزیروں پر حربی سرگرمیوں نے واشنگٹن کی تشویش میں خاصا اضافہ کیا ہے۔ان سمندروں پر چین کے اختیار کے دعوؤں کو ملائیشیا، فلپائن، ویت نام اور تائیوان نے بھی چیلنج کیا ہے۔یہ خبر بھی ہے کہ چین میں سب سے بڑے خلائی طیارے کی تیاری کا منصوبہ تیار کرلیاگیا ہے۔
چین کے اخبار’ڈیلی چائنا‘ کی رپورٹ کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی نے حال ہی میں مشقوں کی تصاویر جاری کی ہیں، اس دوران ایک جے-11 بی فائٹر طیارے کے ساتھ نامعلوم میزائل کی تصاویر بھی شیئر کی گئیں۔چینی اخبار نے میزائل اور لڑاکا طیارے کی تصویر بھی جاری کی ہے۔ اخبار کے مطابق ایئرفورس ریسرچر فو قوانشاؤ نے چینی اخبار کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ میزائل کو دور تک نہایت اہم ہدف کو
نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔اس میزائل میں چین کی حالیہ میزائل قوت سے زیادہ صلاحیتیں موجود ہیں، چین کے پاس اس وقت 100 کلو میٹر (62 میل) سے بھی کم تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل ہیں۔فوقوانشاؤ کے مطابق چین کے پاس کم ہدف والے میزائل کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وہ یہ تجویز کرتے ہیں کہ لڑاکا جیٹ کو اس اعلیٰ صلاحیت کے حامل لانگ رینج میزائل کے ساتھ جوڑ کر نہایت اہم ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجا جائے،اس میزائل کی نظروں سے دشمن کے جہاز نہیں بچ سکتے۔انہوں نے بتایا کہ اس میزائل کی حقیقی رینج 400 کلو میٹر تک ہے، جو مغربی ایئرفورس کے زیر استعمال میزائلز سے زیادہ ہے، یہ میزائل زمین سے فضا میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اگرچہ چینی ایئرفورس نے اس میزائل پر تاحال تبصرہ نہیں کیاہے، تاہم مقامی میڈیا اس حوالے سے عہدیداروں کی تصدیق کے بعد وقفے وقفے سے خبریں نشر کر رہا ہے۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر