وجود

... loading ...

وجود

شام کے لیے صبحِ امید‘مزاحمت کاروں نے استانا مذاکرات مثبت قراردے دیے

اتوار 05 مارچ 2017 شام کے لیے صبحِ امید‘مزاحمت کاروں نے استانا مذاکرات مثبت قراردے دیے


دوسرا دور 14 مارچ سے شروع ہوگا۔6 سال سے جاری تنازع کا سیاسی حل نکالا جائے،اقوام متحدہ
مذاکرات کا یہ دور کسی واضح نتائج کے بغیر ختم ہوالیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مرتبہ نتائج زیادہ مثبت تھے،نصرالحریری
‘8 دن تک جاری رہنے والے مذاکرات کے اختتام پر مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں،اسٹیفن
ابومحمد
اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایک ہفتے سے زائد جاری رہنے والے شام امن مذاکرات 3 مارچ کو اختتام پذیر ہوگئے، جسے شام کے مرکزی اپوزیشن گروپ نے گزشتہ مذاکرات کے مقابلے میں ‘زیادہ مثبت’ قرار دیاہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیتے ہوئے انہیں خبردار کیا ہے کہ 6 سال سے جاری اس تنازع کا سیاسی حل نکالا جائے۔
خیال رہے کہ فروری 2016 میں جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والے شام امن مذاکرات کے بعد روس اور امریکا سمیت 17 ممالک نے شام میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جس کے بعد مختلف مراحل اور مختلف صورتوں میں یہ مذاکرات جاری رہے۔جنگ بندی کے اعلان کے بعد شام میں دوبارہ جنگ کا آغاز ہوگیاتھا، تاہم بعد ازاں روس اور ترکی کی ثالثی کے بعد شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان دسمبر 2016 میں جنگ بندی پر دوبارہ اتفاق ہوگیا،اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کے علاقے میں محصور لوگوں کو انخلاءکی اجازت دی گئی تھی۔اسی سلسلے میں جنوری 2017 میں قازقستان کے دارالحکومت استانا میں امن مذاکرات شروع ہوئے، جن میں باغیوں کے نمائندوں سمیت شامی حکومت، اقوام متحدہ اور روس سمیت ترکی کے عہدیدار بھی شامل ہوئے۔
استانا مذاکرات سمیت دیگر مذاکرات میں بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے بعد سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں فروری 2017 کے آخر میں امن مذاکرات شروع ہوئے جو 8دن تک جاری رہنے کے بعد 3 مارچ کو کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے،آئندہ ماہ فریقین اور معاہدہ کار دوبارہ مل بیٹھیں گے۔
اجلاس کے اختتام پر اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹیفن ڈی مستورا نے بتایا کہ ‘8 دن تک جاری رہنے والے مذاکرات کے اختتام پر مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں، یہ مذاکرات آئندہ ماہ دوبارہ ہونے والے مذاکرات کے سلسلے میں مددگار ثابت ہوں گے’۔اسٹیفن ڈی مستورا نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران شام میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کرانے، مستحکم اور مضبوط حکومت کے قیام اورنئے آئین کے مسودے سمیت انسداد دہشت گردی کے خاتمے پر بھی بات کی گئی۔اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تمام فریقین سیاسی استحکام کی طرف توجہ دیں گے، جسے نافذ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی ’قرارداد 2254’ کے تحت بات چیت کی جاسکتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کے تحت امن عمل میں 2 دہشت گرد گروپ داعش اور سابق النصرہ فرنٹ جو پہلے القاعدہ سے منسلک تھی، شامل نہیں ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق مذاکرات کے اختتام پر اپوزیشن کا کہنا تھا کہ پہلی بار سنجیدگی سے سیاسی تبدیلی اور استحکام سے متعلق بات کی گئی۔
ہائی نگوشی ایٹنگ کمیٹی (این ایچ سی) کے سربراہ نصر الحریری نے بتایا :”ہم مذاکرات کا یہ دور کسی واضح نتائج کے بغیر ختم کر رہے ہیں، لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مرتبہ نتائج زیادہ مثبت تھے“۔ مذاکرات کے اختتام کے بعد شامی حکومت کے چیف مذاکرات کار بشرالجعفری صحافیوں سے بات کیے بغیر چلے گئے۔واضح رہے کہ شام امن مذاکرات کا نیا مرحلہ رواں ماہ 14 مارچ سے قازقستان کے دارالحکومت استانا میں دوبارہ شروع ہوگاجب کہ روسی عہدیداروں کے مطابق جنیوا مذاکرات کا اگلا مرحلہ 20 مارچ کو منعقد ہوگا۔ جنیوا مذاکرات سے پہلے استانا میں ہونے والے مذاکرات میں بھی فریقین کے درمیان کسی بڑی پیش رفت پراتفاق نہیں ہوسکا تھا۔استانا مذاکرات کے پہلے ہی سیشن کے بعد باغیوں نے دھمکی دے دی کہ اگر امن مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ لڑائی جاری رکھیں گے۔خیال رہے کہ شام میں گزشتہ کئی برسوں سے خانہ جنگی میں اب تک لاکھوں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔
قبل ازیں روس نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں جاری مذاکرات میں شریک شامی حزب اختلاف کے بڑے گروپ پر امن عمل کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروخا نے یہ سخت بیان شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے وفد کی جنیوا میں نائب وزیر خارجہ گیناڈی گیٹلوف سے ملاقات کے ایک روز بعد جاری کیا ہے۔انھوں نے ماسکو میں ایک نیوز بریفنگ میں کہا:” بدقسمتی سے ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ گذشتہ چند روز کی بات چیت کے دوران میں ایک مرتبہ پھر شامی حزب اختلاف کے نمائندوں کے کسی ڈیل تک پہنچنے کے لیے صلاحیت کے حوالے سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں“۔ماریہ زخروفا کا کہنا تھا ” نام نہاد اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی ماسکو اور قاہرہ کے پلیٹ فارموں سے برابری کی بنیاد پر تعاون سے انکاری ہے اور اس طرح وہ مذاکرات کو مکمل طور پر ہی سبو تاژ کررہی ہے“۔ ان کا اشارہ شامی حزب اختلاف کے دو چھوٹے گروپ کی جانب تھا جنھیں روس کی حمایت حاصل ہے۔
مغرب ،عرب ممالک اور ترکی کی حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے وفد نے گزشتہ دنوں روس کے نائب وزیر خارجہ گیناڈی گیٹلوف سے ملاقات کی تھی اور ان سے روس کی جانب سے جنگ بندی کے وعدوں کو بار بار توڑنے اور شامی رجیم کے وفد پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔اس کے بعد اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے وفد کے سربراہ ناصر الحریری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ گیٹلوف کے ساتھ ان کی ملاقات مثبت رہی تھی اور انھوں نے سیاسی انتقال اقتدار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت مختلف امور پر خوش گوار ماحول میں تبادلہ خیال کیا تھا۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ روس شامی رجیم پر سیاسی انتقال اقتدار کے دباؤ ڈال رہا ہے۔


متعلقہ خبریں


طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...

طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان وجود - اتوار 30 نومبر 2025

سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مضامین
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے! وجود اتوار 30 نومبر 2025
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے!

مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ وجود اتوار 30 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ

بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن وجود اتوار 30 نومبر 2025
بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن

تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر