وجود

... loading ...

وجود

شہری دفاع کا محکمہ ۔۔۔قصۂِ پارینہ ؟؟

جمعه 24 فروری 2017 شہری دفاع کا محکمہ ۔۔۔قصۂِ پارینہ ؟؟

جنگ کی صورت میں مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے ، آتشزدگی ، سیلابی کیفیت یا دیگر آفات سماوی کی صورت میں پیدا ہونے والی ہنگامی حالت میں شہریوں کی مدد کرنے اور شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے بڑی عمارتوں میں آتشزدگی سے بچائو کے انتظامات کاجائزہ لے کر سرٹیفیکٹ جاری کرنے اور مناسب انتظامات نہ ہونے کی صورت میں عمارت کے مالکان کو مناسب انتظامات پر مجبور کرنے کا ذمہ دار شہری دفاع کا ادارہ سندھ میںاربا ب اختیار کی عدم توجہی اور دلچسپی کی وجہ سے ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار ہے۔
سندھ میں اس اہم ادارے کی کسمپرسی کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اس کے دفتر میںسرکلر جاری کرنے کے انتظامات بھی نہیں ہیں جس کی وجہ سے خود اس کو اپنے سرکلرز کی کاپیاں باہر سے کرانا پڑتی ہیں اور اس طرح اس ادارے کے اقدامات قبل از وقت فاش ہونے کاخطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔اس سلسلے میں ادارے نے حکومت سندھ کو اپنی ضروریات کے بارے میں ایک خط لکھاہے ،اس میں یہ بھی لکھاگیاہے کہ اس ادارے کے پاس کوئی فوٹو اسٹیٹ مشین نہیں ہے اور موجودہ فوٹو اسٹیٹ مشین ناقابل مرمت قرار دی جاچکی ہے۔خط میں لکھاگیاہے کہ اس ادارے کاکام چلانے کے لیے فوٹو اسٹیٹ مشین کی اشد ضرورت ہے اس لئے اس ادارے کو ترجیحی بنیاد پر ایک فوٹو اسٹیٹ مشین فراہم کی جائے۔
حال ہی میں جب کراچی کے ایک فوراسٹار ہوٹل میں آتشزدگی کاواقعہ رونما ہوا جس میں کئی غیر ملکیوں سمیت متعدد افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے تو اس وقت وزیر اعلیٰ سندھ نے اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس بلایاتھا جس کامقصد اس بات کاتعین کرناتھاکہ فور اسٹار ہوٹل کی انسپکشن کس کی ذمہ داری تھی اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ کو ایک پریزنٹیشن کے ذریعہ شہری دفاع کے محکمے کی حالت زار سے آگاہ کیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو دی گئی پریزنٹیشن میں بتایاگیاتھا کہ سول ڈیفنس یعنی شہری دفاع کے قیام کامقصد تمام ناگہانی آفات کی صورتحال سے نمٹنا خواہ وہ دشمن کی پیدا کردہ ہوں یا قدرتی آفات کے نتیجے میں رونما ہوئی ہوں ،نمٹنے میں شہری انتظامیہ اور سرکاری اداروں کی مدد اور معاونت کرنا ہے۔اس حوالے سے اس میں تباہ کاری کالفظ استعمال کیاگیا ہے جس کے معنی کوئی بھی ایسی صورتحال جو عوام کی زندگی کو اتھل پتھل کردے اور جس کے نتیجے میں عوام کو کپڑے،خوراک، سر چھپانے کی جگہ اور دوائوں کی ضرورت پڑسکتی ہو۔
اس ادارے کا بنیادی کام وارڈن سروس آرگنائزیشن قائم کرنا اور اس کے لیے لوگوں کو تربیت دینا ،جنگ کی حالت میںیا ہنگامی حالت کے اعلان کی صورت میں مسلح افواج اور شہری اداروں کی مدد اور معاونت کرنا ،فضائی حملوں کی اطلاع دیناشامل ہے،اور حملوں کی صورت میں ہونے والے جانی ومالی نقصان کی صورت میںزخمیوں اور پھنسے ہوئے لوگوں کو ہسپتالوں تک پہنچنے میں مدد دینا شامل ہے۔
اس ادارے کی جانب سے دی جانے والی بنیادی تربیت میں آگ بجھانے، لوگوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی صورت میں امدادی کام انجام دینے ،مشکل میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی تربیت اور آگاہی اس ادارے کے وارڈنز کی تربیت میں شامل ہے۔
ادارے کے ایک ملازم نے بتایا کہ اگر اس ادارے کی جانب سے اگر ریجنٹ پلازا کے ملازمین اور بلدیہ ٹائون فیکٹری کے ملازمین کو ہنگامی اور غیر متوقع آفات سے بچائو کی تربیت دی گئی ہوتی تو شاید ان واقعات میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیںضائع نہ ہوتیں۔افسر نے بتایا کہ یہ ادارہ وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کی وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرتاہے ، اس ادارے کے ماتحت تربیتی اسکول وفاقی حکومت کے ماتحت ہیںجبکہ عمارتوں کی انسپکشن سول ڈیفنس ایکٹ مجریہ 1952کے تحت صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ضلعی ڈپٹی کمشنر اپنے متعلقہ اضلاع کے سول ڈیفنس کنٹرولر ہوتے ہیں اور ڈپٹی کنٹرولر سول ڈیفنس کام کرتے ہیں،اور قانون کے تحت وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں واقع تمام عمارتوں کی انسپکشن کے ذمہ دار ہیں۔
کاغذی اعتبار سے سندھ میں اس محکمے کے پاس 293 افراد پر مشتمل نفری موجود ہے جن میں 147لازمی سروس کے تحت ہیں جبکہ 146اسامیاں خالی پڑی ہیںاور سندھ حکومت اس طرف توجہ دینے کو بھی تیار نہیں ہے۔کراچی کے ضلع ملیراور کورنگی میں اس محکمے کا کوئی وجود ہی نظر نہیں آتا کیونکہ ان اضلاع میں نہ تو اس محکمے کی کوئی عمارت یادفتر ہے اور نہ ہی عملہ۔اندرون سندھ سجاول، سانگھڑ،گھوٹکی اور شکارپور کے اضلاع بھی دفتراور عملے سے محروم ہیں۔
اس محکمے کے پا س نہ تو ایسی کوئی گاڑی ہے جس پر ہنگامی حالت میں لوگوں کو ہسپتال یا کسی محفوظ جگہ پہنچایا جاسکے نہ ایمبولنسیںہیں، نہ آگ بجھانے والی گاڑیاںاور نہ ہی لوگوں کو شہری دفاع کی تربیت دینے کے آلات موجود ہیں۔یہی نہیں بلکہ اس ادارے کے پاس شہری دفاع کے فرائض رضاکارانہ طورپر انجام دینے پر تیار رضاکاروں کا اعزازیہ دینے کے لیے بھی کوئی فنڈز نہیں ہیں۔متعلقہ افسر نے بتایا کہ بعض اوقات ہمیں اپنی یونیفارم بھی خود ہی بنانا پڑتی ہے کیونکہ محکمے کے پاس فنڈز ہی نہیں ہیں۔
اس محکمے نے اپنے اخراجات کی جو فہرست تیار کی ہے اس میں کراچی کے 4اضلاع کے دفاتر میں اسٹیشنری کے اخراجات کے لیے 80ہزار روپے ،عملے کے یونیفارم کے لیے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ اندرون سندھ موجود شہری دفاع کے دفاتر کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔
اس محکمے نے ادارے کا کام چلانے کے لیے 2کمپیوٹرز اور 2ملٹی میڈیاپروجیکٹرز فراہم کرنے کابھی مطالبہ کیاہے کیونکہ 2007میں خریدی گئی اشیا اب ناقابل استعمال ہوچکی ہیں۔ ادارے کے افسران کاکہناہے کہ موجودہ ملٹی میڈیا پروجیکٹر تربیت کے لیے استعمال ہوتے ہیں لیکن تربیتی سیشنز کے لیے یہ ناکافی ہے۔ حکام کے مطابق 2015-16 میں اس محکمے کا بجٹ ایک کروڑ 66لاکھ 61ہزار500 روپے تھا اور رواں سال کا بجٹ 11 کروڑ 35 لاکھ 92 ہزار ہے ، حکام کاکہنا ہے کہ حکومت نے ادارے کو کمپیوٹرز وغیرہ فراہم کرنے کا وعدہ کیاتھا لیکن آج تک یہ وعدہ پورا نہیں کیاگیا جس کی وجہ سے ادارے کے لیے اپنے فرائض کی انجام دہی بہت مشکل ہے۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم وجود - بدھ 26 نومبر 2025

عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع وجود - بدھ 26 نومبر 2025

بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل وجود - منگل 25 نومبر 2025

مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا وجود - منگل 25 نومبر 2025

غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا

مضامین
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ

مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن وجود جمعرات 27 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر