وجود

... loading ...

وجود

وائٹ ہائوس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے 33دن۔۔۔132غلطیاں

جمعه 24 فروری 2017 وائٹ ہائوس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے 33دن۔۔۔132غلطیاں

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے حالیہ شمارے میں نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر پھبتی کستے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کی طاقتور شخصیت یعنی امریکا کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کوئی دن بغیر غلطی کے نہیں گزارا،ایک ماہ سے زائد عرصہ گزارنے والے صدر نے اس دوران 132غلطیاں یا گمراہ کن بیانات دیے ہیں‘‘۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد ہر روز کوئی نہ کوئی غلطی کررہے ہیں،انہوں نے گزشتہ 33 روز میں 132 غلطیاں یا گمراہ کن بیان دیے۔واشنگٹن پوسٹ کے فیکٹ چیکر پراجیکٹ کے اعدادوشمار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں پہلے روز 9 گمراہ کن بیان دیے،انہوں نے سب سے زیادہ غلط بیانات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دیے،اس دوران امیگریشن ،گرافیکل ریکارڈ اور نوکریوں کے حوالے سے دیے گئے گمراہ کن بیانات زیر بحث رہے۔واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے امریکی صدر کی غلطیوں پر نظر رکھنے کا سلسلہ ان کے 100 روز پورے ہونے تک جاری رہے گا۔
امریکا کے ایک موقر اخبار کی جانب سے اپنی غلط بیانیوں یا گمراہ کن اعلانات کی مسلسل 100دن تک نشاندہی کرتے رہنے کے اس اعلان کے بعدہی غالباً صدر ٹرمپ نے امریکا آنے والوں پر سفری پابندیوں کے نئے اعلان کو موخر کردیاہے، اس اعلان کو موخر کئے جانے کے حوالے سے امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ کچھ مخصوص ممالک سے امریکا آنے والے افراد پر نئی سفری پابندیوں کا اعلان اب آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے تھے کہ ان پابندیوں کا اعلان اسی ہفتے کر دیا جائے گا تاہم وائٹ ہائوس حکام کا اب کہنا ہے کہ اس اعلان کو ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت7 مسلم اکثریتی ممالک سے پناہ گزینوں کی امریکی آمد پر پابندی لگا دی گئی تھی۔اس حکم نامے کے بعد ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے اور ہوائی اڈّوں پر کافی افراتفری دیکھی گئی۔ بعد میں عدالتوں نے اس سفری پابندی کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں جو معاملات اٹھائے گئے، نئے حکم نامے میں انھیں حل کیا گیا ہے۔ ہوم لینڈ سیکورٹی کے سیکریٹری جان کیلی کا کہنا ہے کہ نیا حکم نامہ ’پہلے حکم نامے کا زیادہ منظم اور سخت تر ورژن‘ ہوگا۔تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ نیا حکم نامہ پہلے حکم نامے سے کس طرح مختلف ہوگا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ سفری پابندی دوبارہ لگائی گئی تو ‘افراتفری کا عالم دوبارہ شروع ہو جائے گا جو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اور دھچکا ہوگا۔ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے انتظامی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ عراق، شام، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن سے کوئی بھی شخص 90 دن تک امریکا نہیں آ سکے گا۔اسی حکم کے تحت امریکا میں پناہ گزینوں کے داخلے کے پروگرام کو 120 دن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی شامی پناہ گزینوں کے امریکا آنے پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی لگا دی گئی تھی۔امریکا میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ دس لاکھ افراد غیرقانونی طور پر مقیم ہیں۔صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد تقریباً 60 ہزار ویزے منسوخ کر دیے گئے تھے تاہم پھر ریاست واشنگٹن کے شہر سیئیٹل کے ایک جج نے7 مسلم اکثریت والے ممالک کے لوگوں کے امریکا آنے پر پابندی لگانے کے ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفری پابندیوں کے معطلی کے عدالتی حکم کے بعد عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکا میں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری اس جج پر ہو گی جس نے ان کا حکم نامہ معطل کیا ہے۔انھوں نے سفری پابندیوں کے معطلی کے عدالتی حکم کے بعد عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے سرحدی حکام کو ہدایت دی کہ وہ امریکا آنے والے لوگوں کی محتاط طریقے سے جانچ کریں۔ خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سفری پابندیوں کے علاوہ امریکا میں موجود غیرقانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کا عمل بھی تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔نئے اقدامات کے تحت ایسے افراد اگر بڑے جرائم کے علاوہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی یا دکانوں سے چوری کرنے کے جرم میں بھی پکڑے گئے تو انھیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔منگل کو وائٹ ہائوس کے پریس سیکریٹری شان سپائسر نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں نئے احکامات سے وسیع پیمانے پر ملک بدری کا سلسلہ شروع نہیں ہو گا تاہم ان کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو مزید اختیارات پر عمل کرنے کا موقع دینا ہے جو قانون کے تحت انھیں دیے گئے ہیں۔
وائٹ ہائوس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر سفری پابندیوں سے متعلق نیا حکم نامہ آئندہ ہفتے جاری کریں گے، تاہم نئے حکم نامے سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔دوسری جانب ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ نئے حکم نامے میں مزید کیا بہتریاں یا کیا خامیاں ہوں گی۔خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 27 جنوری 2017 کو جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر میں ایران، عراق، شام، لبیا، سوڈان، صومالیہ اور یمن کے شہریوں کی امریکا آمد پر 4 ماہ کے لیے پابندیاں عائد کی گئیں تھیں، جب کہ عام تارکین وطن کے داخلے کا پروگرام بھی معطل کیا گیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کے بعد سیکڑوں تارکین وطن امریکی ایئرپورٹ پر پھنس گئے تھے، جب کہ امریکا سمیت دنیا بھر میں اس فیصلے کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے ریاست واشنگٹن اور سان فرانسسکو نے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد نیو یارک کی عدالت نے 4 فروری کو ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کو منسوخ کردیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر گوگل اور فیس بک نے بھی تشویش کا اظہار کیاتھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالتی فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کو منسوخ کرنے کے لیے سان فرانسسکو کی ٹرائل کورٹ میں نظرثانی کی درخواست بھی دائر کی تھی، جسے عدالت نے مسترد کردیا۔ نظرثانی درخواست مسترد ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا حکم نامہ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، نیا حکم نامہ گزشتہ ہفتے جاری ہونے کا امکان تھا، تاہم اس میں تاخیر ہونے کے باعث اب اسے آئندہ ہفتے جاری کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔امریکا کی دو ریاستوں کے وکلا کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سات مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والے افراد پر لگائی گئی سفری پابندی کو بحال کیا گیا تو ’افراتفری‘ کا عالم دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ریاست واشنگٹن اور منیسوٹا کے وکلا نے سان فرانسسکو میں ایک وفاقی عدالت سے اس پابندی کو عبوری طور پر معطل کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے۔ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی سفری پابندی کی مخالف ہیںوکلا کی درخواست کو گوگل، فیس بک، اور ایپل جیسے امریکا کی اہم ترین ٹیکنالوجی کمپنیوں کی حمایت حاصل ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ان کے کاروبار کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر