وجود

... loading ...

وجود

سندھ حکومت نے آئی جی پولیس کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا؟

اتوار 29 جنوری 2017 سندھ حکومت نے آئی جی پولیس کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا؟

یہ بات اب روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ پیپلزپارٹی کی موجودہ سندھ حکومت کا اصول پسندی‘ ایمانداری‘ صاف ستھری شہرت اور مثبت مقبولیت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیںرہا ہے ۔پیپلزپارٹی کو اب صرف ان لوگوں کی ضرورت ہے جو پیسے بنانے کی مشین ہو اور پست سے پست کام میں بھی کوئی پشیمانی محسوس نہ کریں۔ آصف علی زرداری نے پارٹی کو ڈرائنگ روم کی حد تک محدود کردیا ہے اور اب یہ راز بھی نہیں رہا کہ آصف زرداری نے وزیراعظم نوازشریف کو مکمل یقین دہانی کرادی ہے کہ وہ جو چاہے کریں مگر ہمیں حکومت سندھ میں اپنی ’’مرضی‘‘ کرنے دیں ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بات نوازشریف کے لیے بھی من پسند ہے کہ عوامی مقبولیت رکھنے والی پارٹی اپنے تجربہ کار رہنمائوں اورسیاسی کارکنوں کی کھیپ کے باوجود اگر وفاقی حکومت کے لیے مسئلہ پیدا نہیں کررہی تو پھر بھلا پی پی کی صوبائی حکومت کو کیوں تنگ کیا جائے؟ نوازشریف تاجر ہیں اور وہ گھاٹے کا سودا نہیں کرتے‘ پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی اس ’’اوپن سیکرٹ‘‘ کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہوگا کہ ساڑھے تین سالوں میں وفاقی حکومت نے ایک بھی پی پی رہنما کے خلاف کرپشن کا ریفرنس دائر نہیں کیا اور چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ پیر مظہر کو نیب نے2010ء سے 2013ء تک 15ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کے ریفرنس سے کلیئر کردیا ہے۔
تعلیم کے میدان میں پندرہ ہزار اساتذہ کی بھرتیوں کا معاملہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ یہ تمام بھرتیاں ’’لین دین ‘‘ کی شکل میں ایک منڈی لگا کر ہوئی تھی۔ پی پی کے اندرونی ذرائع کے مطابق اس لین دین کی ساری تفصیلات سے آصف علی زرداری پوری طرح آگاہ تھے اسی لیے ج2013ء کے عام انتخابات میں اُنہوں نے پیر مظہر سے چار ارب روپے مانگ لیے تھے‘ پیر مظہر اتنی رقم دینے سے پہلو تہی کرنے لگے تو آصف زرداری نے ان کو ٹکٹ تک نہ دیا اور نیب نے پیر مظہر کو کلیئر قرار دیکر میرٹ کا جنازہ نکال دیا ہے۔ پی پی کی موجودہ حکومت میں ڈاکٹر جمیل میندھرو جیسے بدنام زمانہ کرپٹ افسران کی ضرورت ہے جن کو سیکریٹری ہونے کے باوجود اپنے دفتر سے گرفتار کیاگیا اور پھر جب وہ چار ماہ بعدجیل سے واپس آئے تو انہیں دوبارہ اسی عہدے پر بٹھادیاگیا۔ پھر محکمہ آبپاشی کے چیف انجینئر احمد جنید میمن کو نیب نے کراچی اور حیدرآباد کے درمیان گرفتار کیا وہ بھی ساڑھے تین ماہ تک جیل میں رہے اور جب باہر نکلے تو انہیںفوراً ہی سیکریٹری آبپاشی کے عہدے سے نواز دیاگیا۔ اس طرح محکمہ اطلاعات کے ایک درجن افسران کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر ہوا‘ کرپشن کے سرپرست سیکریٹری اطلاعات ذوالفقار شالوانی کو عہدے سے ہٹانے کے بعد دوبارہ سیکریٹری اطلاعات لگادیاگیاتھا مگر بلاول بھٹو زرداری کی مداخلت پر عہدہ واپس لے لیا گیاتاہم آج بھی وہ حکومت سندھ میں او ایس ڈی بن کر حکمرانوں کوکرپشن کے مفید مشورے دے رہے ہیں ۔اور تو اور موجودہ وزیراعلیٰ کے بہنوئی سیدآصف حیدر شاہ اور سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی بیٹی ناہید شاہ اور داماد اقبال حسین درانی کو محض اسی وجہ سے اچھی پوسٹنگ نہیں ملتی کیونکہ ان کی شہرت اچھی ہے اور وہ اوپر کی قیادت کے لیے کماؤ پوت ثابت نہیں ہورہے۔
یہی صورتحال پولیس کی ہے۔2008ء کے الیکشن کے بعد بننے والی حکومت میں سندھ پولیس میرمرتضیٰ بھٹو قتل کیس کے ملزم اورسابق ایس پی شعیب قریشی کے ہاتھ میں تھی جس نے کرپشن کے نت نئے رجحانات متعارف کرائے اور2013ء کے الیکشن کے بعد بننے والی حکومت سندھ میں سندھ پولیس کے معاملات پہلے اویس مظفرٹپی کے ہاتھ میں دیے گئے اور جب اویس مظفرٹپی سے آصف زرداری ناراض ہوئے تو پھر سندھ پولیس انور مجید کے حوالے کردی گئی جس نے رائو انور‘پیرفرید خان سرہندی‘ ڈاکٹر فاروق ‘ غلام حیدرجمالی‘ فداحسین شاہ‘ فیصل شبیر میمن‘ فرخ لنجار‘ اظفرمہیس اور سردار عبدالمجید دستی جیسیے پولیس افسران پال لیے ہیں جو سارا دن زمینوں پر قبضے کرتے ہیں،سیاسی مخالفین پر مقدمات کرتے ہیں۔ شوگر ملز پر قبضے کرکے ملز مالکان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی شوگر ملزانور مجیدکو فروخت کریں۔ اس کے بدلے ان پولیس افسران کو زمینوں پر قبضے کرنے‘ ریتی بجری کا کاروبار چلانے جیسے کاموں کی اجازت دے دی گئی ہے ،یوں انور مجید کی’’20انگلیاں ‘‘گھی میں اور سرکڑھائی میں ہے۔
ایسی صورتحال میں اچھی ساکھ اور صاف ستھری شہرت رکھنے والے اے ڈی خواجہ کا بھلا کیا کام کہ وہ اصول پسندی اور انصاف پسندی بھی دکھائے اور انور مجید کا کہنا بھی نہ مانے؟ انور مجید اس وقت حکومت سندھ میں اختیار واقتدار کا مرکز بن چکے ہیں، ان کو للکارنا وزیراعلیٰ سندھ کے بھی بس کی بات نہیں ہے۔ اے ڈی خواجہ نے جب جی حضوری سے انکار کیا اورکمدار بننے سے معذرت کی تو انور مجید کسی فلمی ولن کی طرح پاگل ہوگئے، آسمان سر پر اٹھادیا اور اپنے آقا آصف زرداری کو دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ جناب ہماری دھوکے کی دیوار آئی جی سندھ پولیس گرانا چاہتے ہیں اگر وہ زیادہ عرصہ تک اسی عہدے پر رہے تو پھر ہمارے لیے جیلوں کے دروازے کھل جائیں گے اور شوگر ملز کی تعدادبڑھنے کے بجائے کم ہوجائے گی ،مہربانی کرکے ان کو ہٹادیں ورنہ پھر میں گھر چلا جاتا ہوں۔ آصف زرداری نے آئودیکھا نہ تائو ،فوری طور پر آئی جی سندھ کو جبری چھٹی پر بھیج دیا اور پھر انور مجیدنے غلام حیدر جمالی اور سردار عبدالمجید دستی میں سے کسی ایک کو آئی جی سندھ پولیس لگانے کی گزارش کردی۔ مگر وفاقی حکومت خصوصاً وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے آئی جی کو تبدیل کرنے سے انکار کردیا ۔اس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے 15فروری تک حکم امتناعی جاری کردیا کہ آئی جی سندھ پولیس کو نہ ہٹایا جائے۔
مگر اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو مکمل طور پر بے اختیار کردیاگیا ہے۔ رائو انوار اور فرخ لنجارکی تعیناتی کے بعد آئی جی سندھ پولیس بے بس بن گئے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت سندھ نے آئی جی سندھ پولیس کو پابند بنایا ہے کہ وہ کسی کا تقرر یا تبادلہ نہ کریں بلکہ پیشگی منظوری وزیراعلیٰ سے لیں جس کے بعد اب15فروری کا انتظار کیا جارہا ہے ، اس کے بعد حکومت سندھ آئی جی کی تبدیلی کے لیے وفاقی حکومت سے دنگل کے لیے تیاری کررہی ہے مگر ہوسکتا ہے کہ آئی جی خود ہی اپنا عہدہ چھوڑدیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عقیل احمد راجپوت


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر