... loading ...
یہ بات اب روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ پیپلزپارٹی کی موجودہ سندھ حکومت کا اصول پسندی‘ ایمانداری‘ صاف ستھری شہرت اور مثبت مقبولیت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیںرہا ہے ۔پیپلزپارٹی کو اب صرف ان لوگوں کی ضرورت ہے جو پیسے بنانے کی مشین ہو اور پست سے پست کام میں بھی کوئی پشیمانی محسوس نہ کریں۔ آصف علی زرداری نے پارٹی کو ڈرائنگ روم کی حد تک محدود کردیا ہے اور اب یہ راز بھی نہیں رہا کہ آصف زرداری نے وزیراعظم نوازشریف کو مکمل یقین دہانی کرادی ہے کہ وہ جو چاہے کریں مگر ہمیں حکومت سندھ میں اپنی ’’مرضی‘‘ کرنے دیں ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بات نوازشریف کے لیے بھی من پسند ہے کہ عوامی مقبولیت رکھنے والی پارٹی اپنے تجربہ کار رہنمائوں اورسیاسی کارکنوں کی کھیپ کے باوجود اگر وفاقی حکومت کے لیے مسئلہ پیدا نہیں کررہی تو پھر بھلا پی پی کی صوبائی حکومت کو کیوں تنگ کیا جائے؟ نوازشریف تاجر ہیں اور وہ گھاٹے کا سودا نہیں کرتے‘ پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی اس ’’اوپن سیکرٹ‘‘ کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہوگا کہ ساڑھے تین سالوں میں وفاقی حکومت نے ایک بھی پی پی رہنما کے خلاف کرپشن کا ریفرنس دائر نہیں کیا اور چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ پیر مظہر کو نیب نے2010ء سے 2013ء تک 15ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کے ریفرنس سے کلیئر کردیا ہے۔
تعلیم کے میدان میں پندرہ ہزار اساتذہ کی بھرتیوں کا معاملہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ یہ تمام بھرتیاں ’’لین دین ‘‘ کی شکل میں ایک منڈی لگا کر ہوئی تھی۔ پی پی کے اندرونی ذرائع کے مطابق اس لین دین کی ساری تفصیلات سے آصف علی زرداری پوری طرح آگاہ تھے اسی لیے ج2013ء کے عام انتخابات میں اُنہوں نے پیر مظہر سے چار ارب روپے مانگ لیے تھے‘ پیر مظہر اتنی رقم دینے سے پہلو تہی کرنے لگے تو آصف زرداری نے ان کو ٹکٹ تک نہ دیا اور نیب نے پیر مظہر کو کلیئر قرار دیکر میرٹ کا جنازہ نکال دیا ہے۔ پی پی کی موجودہ حکومت میں ڈاکٹر جمیل میندھرو جیسے بدنام زمانہ کرپٹ افسران کی ضرورت ہے جن کو سیکریٹری ہونے کے باوجود اپنے دفتر سے گرفتار کیاگیا اور پھر جب وہ چار ماہ بعدجیل سے واپس آئے تو انہیں دوبارہ اسی عہدے پر بٹھادیاگیا۔ پھر محکمہ آبپاشی کے چیف انجینئر احمد جنید میمن کو نیب نے کراچی اور حیدرآباد کے درمیان گرفتار کیا وہ بھی ساڑھے تین ماہ تک جیل میں رہے اور جب باہر نکلے تو انہیںفوراً ہی سیکریٹری آبپاشی کے عہدے سے نواز دیاگیا۔ اس طرح محکمہ اطلاعات کے ایک درجن افسران کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر ہوا‘ کرپشن کے سرپرست سیکریٹری اطلاعات ذوالفقار شالوانی کو عہدے سے ہٹانے کے بعد دوبارہ سیکریٹری اطلاعات لگادیاگیاتھا مگر بلاول بھٹو زرداری کی مداخلت پر عہدہ واپس لے لیا گیاتاہم آج بھی وہ حکومت سندھ میں او ایس ڈی بن کر حکمرانوں کوکرپشن کے مفید مشورے دے رہے ہیں ۔اور تو اور موجودہ وزیراعلیٰ کے بہنوئی سیدآصف حیدر شاہ اور سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی بیٹی ناہید شاہ اور داماد اقبال حسین درانی کو محض اسی وجہ سے اچھی پوسٹنگ نہیں ملتی کیونکہ ان کی شہرت اچھی ہے اور وہ اوپر کی قیادت کے لیے کماؤ پوت ثابت نہیں ہورہے۔
یہی صورتحال پولیس کی ہے۔2008ء کے الیکشن کے بعد بننے والی حکومت میں سندھ پولیس میرمرتضیٰ بھٹو قتل کیس کے ملزم اورسابق ایس پی شعیب قریشی کے ہاتھ میں تھی جس نے کرپشن کے نت نئے رجحانات متعارف کرائے اور2013ء کے الیکشن کے بعد بننے والی حکومت سندھ میں سندھ پولیس کے معاملات پہلے اویس مظفرٹپی کے ہاتھ میں دیے گئے اور جب اویس مظفرٹپی سے آصف زرداری ناراض ہوئے تو پھر سندھ پولیس انور مجید کے حوالے کردی گئی جس نے رائو انور‘پیرفرید خان سرہندی‘ ڈاکٹر فاروق ‘ غلام حیدرجمالی‘ فداحسین شاہ‘ فیصل شبیر میمن‘ فرخ لنجار‘ اظفرمہیس اور سردار عبدالمجید دستی جیسیے پولیس افسران پال لیے ہیں جو سارا دن زمینوں پر قبضے کرتے ہیں،سیاسی مخالفین پر مقدمات کرتے ہیں۔ شوگر ملز پر قبضے کرکے ملز مالکان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی شوگر ملزانور مجیدکو فروخت کریں۔ اس کے بدلے ان پولیس افسران کو زمینوں پر قبضے کرنے‘ ریتی بجری کا کاروبار چلانے جیسے کاموں کی اجازت دے دی گئی ہے ،یوں انور مجید کی’’20انگلیاں ‘‘گھی میں اور سرکڑھائی میں ہے۔
ایسی صورتحال میں اچھی ساکھ اور صاف ستھری شہرت رکھنے والے اے ڈی خواجہ کا بھلا کیا کام کہ وہ اصول پسندی اور انصاف پسندی بھی دکھائے اور انور مجید کا کہنا بھی نہ مانے؟ انور مجید اس وقت حکومت سندھ میں اختیار واقتدار کا مرکز بن چکے ہیں، ان کو للکارنا وزیراعلیٰ سندھ کے بھی بس کی بات نہیں ہے۔ اے ڈی خواجہ نے جب جی حضوری سے انکار کیا اورکمدار بننے سے معذرت کی تو انور مجید کسی فلمی ولن کی طرح پاگل ہوگئے، آسمان سر پر اٹھادیا اور اپنے آقا آصف زرداری کو دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ جناب ہماری دھوکے کی دیوار آئی جی سندھ پولیس گرانا چاہتے ہیں اگر وہ زیادہ عرصہ تک اسی عہدے پر رہے تو پھر ہمارے لیے جیلوں کے دروازے کھل جائیں گے اور شوگر ملز کی تعدادبڑھنے کے بجائے کم ہوجائے گی ،مہربانی کرکے ان کو ہٹادیں ورنہ پھر میں گھر چلا جاتا ہوں۔ آصف زرداری نے آئودیکھا نہ تائو ،فوری طور پر آئی جی سندھ کو جبری چھٹی پر بھیج دیا اور پھر انور مجیدنے غلام حیدر جمالی اور سردار عبدالمجید دستی میں سے کسی ایک کو آئی جی سندھ پولیس لگانے کی گزارش کردی۔ مگر وفاقی حکومت خصوصاً وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے آئی جی کو تبدیل کرنے سے انکار کردیا ۔اس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے 15فروری تک حکم امتناعی جاری کردیا کہ آئی جی سندھ پولیس کو نہ ہٹایا جائے۔
مگر اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو مکمل طور پر بے اختیار کردیاگیا ہے۔ رائو انوار اور فرخ لنجارکی تعیناتی کے بعد آئی جی سندھ پولیس بے بس بن گئے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت سندھ نے آئی جی سندھ پولیس کو پابند بنایا ہے کہ وہ کسی کا تقرر یا تبادلہ نہ کریں بلکہ پیشگی منظوری وزیراعلیٰ سے لیں جس کے بعد اب15فروری کا انتظار کیا جارہا ہے ، اس کے بعد حکومت سندھ آئی جی کی تبدیلی کے لیے وفاقی حکومت سے دنگل کے لیے تیاری کررہی ہے مگر ہوسکتا ہے کہ آئی جی خود ہی اپنا عہدہ چھوڑدیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عقیل احمد راجپوت
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...