... loading ...
امریکا کی سابق وزیر خارجہ میڈلن البرائٹ اور مشہور ٹی وی ڈرامے بگ بینگ تھیوری کی اداکارہ مایم بیلک نے کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے امریکی مسلمانوں کا الگ سے اندراج کیا تو وہ احتجاجاً خود کو مسلمان کے طور پر رجسٹر کرائیں گی۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں کے علیحدہ اندارج کے عمل کی تجویز پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اورسابق وزیر خارجہ میڈلن البرائٹ نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر شدید ردعمل ظاہرکیا ہے اوراس بیان کے حوالے سے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پرورش کیتھولک عیسائی کے طور پر ہوئی لیکن انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ ان کا خاندان یہودی تھا۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ میں اظہار یکجہتی کے طور پر خود کو مسلمان کے طور پر رجسٹر کرانے پر تیار ہوں۔ان کی اس ٹویٹ کو فوری طور پر ہزاروں افراد نے لائیک کیا۔
امریکا کی سابق وزیر خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایک حکمنامہ جاری کیاہے جس کے تحت بعض مسلم ممالک کے تارکین وطن پر پابندی لگادی گئی ہے ، اس حکم کے تحت شام، یمن اور عراق سمیت سات ممالک سے لوگوں کے آنے پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔صدر ٹرمپ کاکہناہے کہ دیکھنا یہ ہے کہ یہ نفرت کہاں سے آتی ہے اور کیوں آتی ہے، ہمیں اس کا تعین کرنا ہے۔‘ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا: ’جب تک ہم اس کا تعین نہیں کرتے اور یہ مسئلہ نہیں سمجھتے اور اس سے لاحق خطرہ نہیں سمجھتے، ہمارا ملک ان لوگوں کے ہولناک حملوں کا نشانہ نہیں بن سکتا جو صرف جہاد پر یقین رکھتے ہیں، اور انھیں سمجھ بوجھ یا انسانی جان کا کوئی احترام نہیں ہے۔‘
صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران بڑی تعداد میں لوگ امریکی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر کھڑے ہوئے تھے اور اب میڈلن البرائٹ کی ٹویٹ نے دیگر بہت ساروں کو بھی متاثر کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر بولیں، جس میں مقبول بگ بینگ تھیوری کی اداکارہ مایم بیالک بھی شامل ہیں۔انھوں نے ٹرینڈ #solidarity پرلکھا کہ وہ یہودی ہیں اور اظہار یکجہتی کے طور پر خود کو مسلمان کے طور پر رجسٹر کرانے پر تیار ہیں۔صدر ٹرمپ کی شدید ناقد مایم بیالک نے مزید لکھا:’اگر ہم ان لوگوں کا اندراج کر رہے ہیں جن کو ہم خطرہ سمجھتے ہیں تو سفید فام مردوں کو بھی رجسٹر کیا جائے کیونکہ زیادہ تر سیریل کلرز اور بڑے پیمانے پر قتل عام کرنے والے سفید فام مرد ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی متنازع بیانات دیتے رہے ہیں۔ ان کی مذمت کرنے والوں میں ان کی اپنی جماعت کے بھی افراد شامل ہیں جن میں سابق نائب صدر ڈک چینی بھی شامل ہیں۔ ری پبلکن جماعت میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مد مقابل جیب بش نے بھی اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک غیر محتاط بیان ہے۔
یہودیوں کی حمایتی تنظیم اینٹی ڈیفامیشن لیگ نے کہا ہے کہ لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر امریکا میں داخلے سے روکنا ناقابلِ قبول اور انتہائی توہین آمیز ہے۔ کونسل آن امریکن اسلامک ریلشنز نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بلوائیوں کے سربراہ کی طرح بات کر رہے ہیں۔
جہاں تک دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑنے کا تعلق ہے تو ماضی میں بھی نہ صرف امریکا بلکہ برطانیہ،فرانس اور جرمنی میں بھی اعلیٰ سطح پر ایسی کوششیں کی جاتی رہی ہیں لیکن خود ان ملکوں کے اعتدال پسند رہنمائوں، عوامی شخصیات اور خود عوام نے اس کے خلاف بھر پور آواز اٹھائی ہے ، اس کااندازہ کیلی فورنیا میں حملے کے بعد اس وقت کے امریکی صدر بارک اوباما کی اس تقریر سے لگایاجاسکتاہے جس میں انھوں نے واضح طورپر کہاتھا کہ ’آزادی خوف سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔‘امریکا ایسے حملوں سے خوفزدہ نہیں ہوگا۔اپنی تقریر میں صدر اوباما نے کہا تھاکہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ کیلیفورنیا کے حملہ آور’ کسی غیر ملکی شدت پسند تنظیم کے اشارے پر کام کر رہے تھے۔‘انھوں نے واضح طورپر کہاتھا کہ اگر ہم دہشت گردی کو شکست دینا چاہتے ہیں تو ہمیں مسلم کمیونیٹیز کو اپنے مضبوط ترین اتحادیوں کے طور پر ساتھ رکھنا ہوگا نہ کہ ہم انھیں شک اور نفرت کا شکار بنا کر دور دھکیل دیں۔بارک اوباما کا کہنا تھا کہ شدت پسند امریکی معاشرے میں موجود امتیاز کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ امریکا دہشت گردی کے اس بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پا لے گا لیکن امریکیوں کو’ ’اس جنگ کو اسلام اور امریکا کے درمیان جنگ نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف ہونا چاہیے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کا اپنے ملک میں بسنے والے مسلمانوں کے خلاف ہو جانا ہی وہ اصل چیز ہے جو داعش کے شدت پسند چاہتے ہیں۔بارک اوباما نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیاتھا کہ ’دولتِ اسلامیہ، اسلام کی ترجمان نہیں۔‘ اور امریکا اس شدت پسند تنظیم سے لڑنے کے لیے اپنی ہر ممکن طاقت استعمال کرے گا۔انھوں نے داعش کو ’قاتل اور ٹھگ‘ گروہ کا نام دیاتھا اور کہاتھا کہ ’دہشت گردی کا حقیقی خطرہ ہے لیکن ہم سب مل کر اس پر قابو پائیں گے۔‘ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے امریکا میں بھی کئی اہم اقدامات کیے جانے چاہئیں۔صدر اوباما نے کہا تھاکہ امریکا میں انتہاپسندی کی جانب مائل ہونے والے افراد کے لیے اسلحے کے حصول کو مشکل بنانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کانگریس پر زور دیا تھاکہ وہ کسی بھی ایسے فرد کے لیے اسلحے کی خریداری مشکل بنا دے جس کا نام ’نو فلائی لسٹ‘ میں شامل ہو۔
مندرجہ بالا بیانات سے ظاہرہوتاہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے امریکا میں موجود مسلمانوں کے خلاف کوئی امتیازی سلوک یا ان پر کسی طرح کی پابندی عاید کرنے کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوسکتیںاور اگرانھوں نے اس حوالے سے کسی انتہاپسندی کامظاہرہ کرنے یا کسی مہم جوئی کی کوشش کی تو انھیں نہ صرف امریکی عوام کی جانب سے بلکہ خود اپنی پارٹی کے مقتدر حلقوں کی جانب سے بھی شدید مخالفت کاسامنا کرنا پڑ سکتاہے۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...
ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...
فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...
خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...
400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...
افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...