... loading ...
شامی اپوزیشن نے ملک میں قیام امن کے لیے حال ہی میں روس اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف سنگین اور شرمناک جرم قرار دیا ہے۔
عربی خبررساں ادارے کے مطابق ایران اور روس کے باہمی سمجھوتے پر اپنا ردعمل بیان کرتے ہوئے شامی اپوزیشن کے سینئر مذاکرات کار محمد علوش نے کہا کہ انہیں شام کے حوالے سے روس اورایران کا فیصلہ قبول نہیں۔ بشار الاسد حکومت کے حامی دونوں ملکوں نے بحران کے حل کا اعلان نہیں بلکہ سنگین جرم کا اعلان کیا ہے۔ روسی اعلان عالمی برادری کے ماتھے پر بھی بدنما داغ ہے۔
عرب ٹی وی ’الحدث‘ سے بات کرتے ہوئے محمد علوش نے الزام عاید کیا کہ ایران اور روس حالات کی خرابی سے فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ شامی اپوزیشن کے مذاکرات کار نے عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ مظلوم شامی قوم کے حقوق کی کھل کرحمایت کریں اور روسی ریچھ کو شام پر قبضے سے روکیں۔
ایک سوال کے جواب میں شامی اپوزیشن کے رہ نما کا کہنا تھا کہ حلب میں اپوزیشن سے بہت غلطیاں سرزد ہوئیں۔ ہمیں ان غلطیوں سے بھی سبق سیکھنا ہوگا۔ حلب کے بعد اسدی فوج ادلب، الغوطہ، حمات اور جنوبی شام میں اپوزیشن کے خلاف تباہ کن جنگ کی تیاری کررہی ہے۔
محمد علوش نے اپوزیشن فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوبی شام کے شہر درعا سمیت تمام مقامات پر اپنی صفوں میں اتحاد کا مظاہرہ کریں اور حلب میں غلطیوں سے سبق سیکھیں۔
شامی عوام کی مشکلات کے حل میں امریکی کردار پر تنقید کرتے ہوئے علوش نے کہا کہ موجودہ امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں مظلوم شامی قوم کے حوالے سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حتیٰ کہ شامی اپوزیشن کو مسلح کرنے کی کوششیں بھی ناکام بنائی گئیں۔ امریکا کے اس دوغلے طرز عمل نے روس اور اسد نواز قوتوں کو فائدہ پہنچایا۔
دوسری جانب شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر نے رواں برس اکتوبر میں متنبہ کیا تھا کہ حلب کے لیے عالمی طاقتیں کوئی فیصلہ نہیں کرتیں تو شدید تباہی ممکن ہے۔ سفارتکاروں کا خیال ہے کہ اْس اپیل پر کوئی بڑی کارروائی سامنے نہیں آئی۔
سفارتکاروں نے کہا ہے کہ جس طرح حلب پر روس اور شامی جنگی طیاروں کی مسلسل بمباری کا سلسلہ جاری رہا، اْس تناظر میں اقوام متحدہ کے سفیر کے مختلف اوقات پر سامنے آنے والے انتباہوں میں توانائی کا فقدان تھا اور اب صورت حال یہ ہے کہ حلب مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ان سفارتکاروں کے مطابق حلب پر شامی فوج کے قبضے کی مہم کے دوران جس مقدار میں اسلحہ استعمال کیا گیا ہے اور جو انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، اْس نے عالمی ادارے کے بعض کمزور پہلووں کو عیاں کر دیا ہے۔
شام کی حکومت کو حلب پر قبضے کی مہم میں مسلسل روس کی بھرپور عملی حمایت حاصل رہی ہے۔ اس دوران زمینی کارروائی تو جاری رہی مگر اقوام متحدہ میں حلب کے لیے پیش کردہ قراردادوں کو دو مرتبہ روس کی جانب سے ویٹو کر کے انہیں ناکارہ کر دیا گیا۔ یہ دونوں قراردادیں حلب پر بمباری روکنے سے متعلق تھیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے مسلسل ایک ہی بات کی تکرار رہی کہ شام کے تنازعے کا فوجی حل ممکن نہیں۔
مشرقی حلب کے سویلین اور باغیوں کو قبضے کے بعد نکلنے کی اجازت دی گئی۔
یورپی کونسل برائے خارجہ امور کے ریسرچر رچرڈ گووان کا کہنا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کے ادارے کا قیام اِس عہد پر کیا گیا تھا کہ ’ایسا دوبارہ نہیں ہو گا‘ لیکن حلب کے سقوط نے سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا یہ تنظیم سنگین تنازعات کا سامنا کرنے کی استطاعت رکھتی ہے۔ رچرڈ گووان یورپی ادارے میں اقوام متحدہ کے امور کے ماہر ہیں۔گووان کے مطابق عراق جنگ کے بعد حلب پر حملوں کا تسلسل اقوام متحدہ کے لیے انتہائی اہم بحران کے طور پر ابھرا ہے اور اِس کی وجہ سے سلامتی کونسل پر پائے جانے والے اعتماد کی اساس لرز کر رہ گئی ہے۔ اجتماعی طور پر سفارتکاروں کی انگلیاں روس کی جانب اٹھتی ہیں کہ اْس کی چھتری تلے دمشق حکومت حلب میں عسکری آپریشن کو انتہائی شدت سے جاری رکھے ہوئے تھی۔مشرقی حلب پر قبضے کی مہم میں روس اور شام کے جنگی جہازوں نے لاتعداد فضائی حملے کیے۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ، مغربی طاقتوں اور سیکرٹری جنرل بان کی مون کو بھی سفارتی و سماجی حلقوں کی تنقید کا سامنا ہے کہ عمومی طور پر سارے شام اور خصوصی طور پر حلب میں پھنسے ہوئے دس لاکھ عام شہریوں کے لیے انسانی امداد پہنچانے کے عمل میں بھی کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹوں کے مطابق شامی عسکریت پسندوں نے بیشمار سویلینز کو بغیر کسی وجہ کے گولیاں مار کر ہلاک کیا ہے۔ اس صورت حال پر سبک رفتاری سے کارروائی کرنے کے بجائے مبصرین کی تعیناتی کی جو قرارداد منظور کی گئی اْس پر چار دن صرف کر دیے گئے تھے۔
مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...
پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...
محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...
شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...
چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...
عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...
سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...
رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...
وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...
لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...
مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...
صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...