وجود

... loading ...

وجود

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر

بدھ 05 اکتوبر 2016 پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر

indian-politicians

اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے گزشتہ روز وزیراعظم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی اور بھارت کے جنگی جنون سے نمٹنے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی بھرپور مدد کرنے کے حوالے سے کوششوں کیلیے وزیر اعظم کابھر پور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔اپوزیشن کے رہنماؤں نے اس نازک وقت میں وزیر اعظم کے ساتھ اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان کے ہاتھ مضبوط کرنے اور ان کابھرپور ساتھ دینے کااعلان کرکے نہ صرف بالغ نظری کاثبوت دیاہے بلکہ پاکستان کو ایک منقسم قوم تصور کرنے والے دشمن کو یہ کرارا جواب بھی دیاہے کہ ہم تمام تر باہمی اختلافات کے باوجود ملکی سلامتی اور یکجہتی کے معاملے میں متحد اور منظم ہیں اور دشمن کو کسی بھی طور اپنے اختلافات سے فائدہ اٹھانے کا نہ صرف موقع نہیں دیں گے بلکہ ملک کی سلامتی ویکجہتی کے خلاف دشمن کی کسی بھی سازش اور کوشش کا منہ توڑ جواب بھی دیں گے۔

پاکستان میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی جانب سے بھارت کے جنگی جنون کے خلاف اتحاد ویکجہتی کے اس مظاہرے سے یہ واضح ہوگیاہے کہ پاکستانی قوم بھارتی وزیر اعظم کے جنگی جنون کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اسے ملک کی سلامتی ویکجہتی کیلیے سنگین خطرہ تصور کرتی ہے اور اس کامقابلہ کرنے کیلیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لانے کی حامی اور خواہاں ہے جبکہ دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاکستان کے خلاف اپنے جارحانہ منصوبوں کے بارے میں خود اپنے ملک کی سیاسی جماعتوں اورعوام کومطمئن کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں اور بھارت کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور گروپوں نے نہ صرف یہ کہ نریندر مودی کی جنگجویانہ اور غاصبانہ پالیسی کو یکسر مسترد کردیاہے بلکہ انھیں جنگجوئی سے باز رہنے کی تلقین بھی کی ہے، یہی نہیں بلکہ اب بھارت کے وہ صحافی بھی جو چند روز قبل پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کے حوالے سے بھارتی فوج اور وزیر اعظم کے جھوٹے دعووں پر بغلیں بجارہے تھے اب امن کی کوششوں کی باتیں کرنے لگے ہیں۔

پاکستان کے عوام کی جانب سے بھارتی جنگی جنون کے خلاف مکمل اتحاد اور بھارتی رہنماؤں اور عوام کی جانب سے اپنے وزیر اعظم کی جنگجوئی کی مخالفت سے یہ ظاہرہوتاہے کہ اس خطے کے عوام کسی بھی ایسی کارروائی یاحربے کی حمایت نہیں کرتے جس سے اس خطے کے امن کوخطرہ لاحق ہونے کاخدشہ ہو۔

بھارتی عوام اور سیاستدانوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحانہ پالیسیوں کو مسترد کیے جانے کے بعد نریندر مودی مشکل میں پھنس گئے ہیں اور اب وہ اپنی عزت بچانے کیلیے طرح طرح کی تاویلیں پیش کررہے ہیں، بھارتی عوام کی امن پسندانہ سوچ کے اظہار کے بعد نریندر مودی کو گزشتہ روز یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ بھارت کسی کی زمین کابھوکا نہیں ہے اور ہم کسی کی زمین پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے، بظاہر یہ کہہ کر دنیاکو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ بھارت امن پسند ملک ہے اور امن کاخواہاں ہے،لیکن عالمی برادری کو اس طرح کے بیانات سے فریب دینا ممکن نہیں ہے ،کیونکہ بھارت کا پورا ریکارڈ پوری دنیا کے سامنے ہے جو کہ ہوس ملک گیری اور جارحیت سے بھرا ہواہے۔

کیا نریندر مودی اس بات سے انکار کرسکتے ہیں کہ آزادی کے فوراً بعد بھارتی رہنماؤں نے حیدرآباد دکن، جوناگڑھ اور منادور کے حکمرانوں کو سنبھلنے کاموقع دیے بغیرغیر قانونی طریقے سے فوج کشی کرکے ان پر قبضہ کرلیاتھا؟کیا نریندر مودی اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ بھارت نے ہی کشمیر میں اپنی فوج اتار کر حیدرآباد دکن ،جوناگڑھ اورمنادور کی طرح کشمیر پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کشمیر کے جرات مند عوام نے بھارتی فوج کامردانہ وار مقابلہ کرکے اپنے وطن کاایک حصہ آزاد کرالیا جو آزاد کشمیر کے نام سے موجود ہے اور بھارتی حکمرانوں کو اپنی فوج کی پسپائی کی وجہ سے خود اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹا کر اس مسئلے کو رائے شماری کے ذریعے حل کرنے کاوعدہ کرنا پڑا تھا؟ کیا نریندر مودی اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ 1962 میں انھوں نے چین کے کچھ حصے پر قبضہ کرنے کیلیے سرحدی تنازعہ کھڑا کرکے جنگ چھیڑ دی تھی جس میں بھارتی فوج کو اپنے زخم چاٹتے ہوئے پسپائی کاسامنا کرنا پڑا تھا؟کیا نریندر مودی اس حقیقت سے بھی انکار کردیں گے کہ ستمبر1965 میں اس نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر بھرپور حملہ کیاتھا اور لاہور کے جیم خانے میں فتح کاجشن منانے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن وہ اس میں بری طرح ناکام ہواتھا اور پاکستان کے عوام نے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ اس جنگ میں شرکت کرکے اسے خون تھوکنے اور لاشیں بٹورنے پر مجبور کردیاتھا؟ کیا نریندر مودی اس حقیقت کو بھی جھٹلاسکتے ہیں کہ بھارتی حکومت نے 1971 میں ایک گھناؤنی سازش کے تحت پاکستان کو دولخت کرنے کیلیے پاکستان مخالفین کو نہ صرف پناہ فراہم کی بلکہ ان کو اسلحہ اور دیگر وسائل مہیا کرنے کے ساتھ بھارتی فوج کی کمک بھی فراہم کی اور مشرقی پاکستان میں پاک فوج اور عوام کے خلاف کی جانے والی تمام کارروائیاں باغیوں کے نام پر بھارتی فوج اور انٹیلی جنس ہی کرتی رہی تھی؟ کیا نریندر مودی اس بات سے انکار کرسکتے ہیں کہ بھارتی حکومت کے حکم پر ان کی فوج نے خود بھارتی سکھ آبادی کو تہہ تیغ کرنے کی کوشش کی ان کے مقدس مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی کی اور ہزاروں بے گناہ سکھوں کو جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے قتل کرادیا،سیکڑوں کو حکومت کی مخالفت کے جرم میں طویل عرصے تک قید رکھا اور یہی نہیں بلکہ برطانیہ کو کاروباری معاہدے منسوخ کرنے کی دھمکیاں دے کر برطانیہ میں موجود سکھوں کو بھی آزاد خالصتان تحریک روکنے کی ہرممکن سعی کی ؟برطانیہ میں مقیم ہردلعزیز اور مقبول سکھ رہنما امریت سنگھ کو آزاد خالصتان تحریک کیلیے رائے عامہ ہموار کرنے کیلیے یورپی ممالک کے دوروں سے روکنے کیلیے ان کے پاسپورٹ کی تجدید کرنے سے انکارکیااور انھیں برطانوی شہریت حاصل کرنے کیلیے طویل اور صبر آزما قانونی جنگ لڑنے پر مجبور کیاگیا،بھارتی سکھوں کے خلاف اس حوالے سے بھارتی حکومت کی کوششیں اب جاری ہیں ۔ کیا نریندر مودی سری لنکا اور نیپال کے معاملات میں اپنی کھلی مداخلت سے بھی انکار کرسکتے ہیں؟کیا نریندر مودی افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں کی جانب سے شدت پسندوں اور دہشت گردوں کوپاکستان میں تخریبی کارروائیوں کیلیے رقم اور اسلحہ کی فراہمی جیسے مذموم ہتھکنڈوں سے بھی انکار کرسکتے ہیں؟کیا نریندر مودی یہ سمجھتے ہیں کہ عالمی برادری اس کے ماضی اور حال سے لاعلم ہے اور ’’بھارت کسی کی زمین کابھوکا نہیں اور بھارت امن پسند ملک ہے‘‘ جیسے بیانات دے کر وہ عالمی برادری کو بیوقوف بناسکتے ہیں؟کیا نریندر مودی اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ وہ خود اپنے ملک کے عوام کو انصاف اور امن کی فراہمی میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے آج خود بھارت کی 22 ریاستوں کے عوام اپنے حقوق کے حصول اور مظالم کے خاتمے کیلیے خود اپنی ہی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں؟

عالمی برادری کو اچھی طرح معلوم ہے کہ بھارت نے گزشتہ 70سال سے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیاہوا ہے اورکشمیری عوام بھارت کے اس قبضے کوقبول کرنے کوکسی طرح تیار نہیں ہیں،جس کی وجہ سے بھارت کو اپنی ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ فوجی مقبوضہ کشمیر میں تعینات رکھنے پر مجبور ہونا پڑاہے۔یہ بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر کے عوام کومسلسل ظلم وستم کانشانہ بنائے ہوئے ہیں لیکن اپنی تمام تر سفاکیوں اور بہیمانہ حربوں کے باوجود کشمیری عوام کو بھارت کاغاصبانہ قبضہ قبول کرنے اور آزادی کامطالبہ ترک کرنے پر مجبور نہیں کیاجاسکاہے۔

ان حقائق کی موجودگی میں نریندر مودی کی جانب سے امن پسندی کادعویٰ اور خود کوسادہ لوح ثابت کرنے کی کوشش رات کودن قرار دینے کے مترادف ہے جسے عالمی برادری تو کجا خود بھارت کے عوام بھی تسلیم کرنے کوتیار نہیں ہوں گے۔

موجودہ حالات میں جبکہ نریندر مودی کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ کشمیری عوام اور پاکستان کے خلاف ان کے جارحانہ حربے کسی طور کامیاب نہیں ہوسکتے ،دانشمندی کاتقاضہ یہی ہے کہ بھارتی وزیراعظم مزید جگ ہنسائی سے بچنے کیلیے پاکستان سے غیر مشروط مذاکرات کا آغاز اور کشمیر کے تنازع میں اہم اور بنیادی فریق ہونے کے ناتے کشمیری عوام کے نمائندوں کو بھی ان مذاکرات میں شریک کریں تاکہ اس دیرینہ مسئلے کا دیرپا اور مستقل حل تلاش کیاجاسکے اور اس خطے کے قیمتی وسائل کو جنگ میں ضائع کرنے کے بجائے خطے کے عوام کے مسائل حل کرنے اور ان کی خوشحالی کے منصوبوں کیلیے بروئے کار لایاجاسکے۔

نریندر مودی کو چاہیے کہ اپنی پارٹی کے انتہا پسند عناصر اور لابی سے باہر نکل کر اس حوالے سے جرات مندانہ فیصلے کرنے کی کوشش کریں اوراس طرح تاریخ میں ایک خون آشام عفریت کے بجائے امن کے سفیر کی حیثیت سے اپنی جگہ بنانے پر توجہ دیں ۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر