وجود

... loading ...

وجود

بھارت کا پاکستان کے خلاف گھناؤنا منصوبہ، محدود جنگ کے امکانات پر غور!

منگل 20 ستمبر 2016 بھارت کا پاکستان کے خلاف گھناؤنا منصوبہ، محدود جنگ کے امکانات پر غور!

raheel-sharif

مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے ایک قصبے اڑی میں قائم بھارتی فوجی مرکز پر حملہ بھارت کے ایک بڑے منصوبے کا پیش خیمہ بنتا جارہا ہے۔بھارت نےا ِسے پروپیگنڈے کا ایک ہتھیار اور مقبوضہ کشمیر میں جاری اپنی ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کی مذموم چالبازی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کے اندر جاری دہشت گردی کے مختلف واقعات پر بھارت نے پاکستان کو موردِ الزام ٹہرایا اور مکروہ پروپیگنڈے کا ایک طوفان برپا کیے رکھا۔ مگر عملاً دہشت گردی کے کسی بھی واقعے میں پاکستان پر کوئی بھی الزام ثابت نہیں کیا جاسکا۔ جھوٹے جھنڈوں کے ذریعے دہشت گردی کو دشمن کے خلاف کارروائی کے طور پر روا رکھنے کا جو چلن یورپ میں برسوں سے رائج ہے ، وہ بھارت نے گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان کے خلاف اختیار کر رکھا ہے۔ جس کا مظاہرہ اوڑی کے فوجی مرکز پر حملے میں ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں 18 ستمبر کی صبح ہونے والے حملے میں 17 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ضلع بارہ مولا کے قصبے میں ہونے والے اس حملے کو بھارتی فوج پر گزشتہ پندرہ برسوں سے جاری حملوں میں سب سے بڑا اور سنگین حملہ قرار دیا جارہا ہے۔حملے کا مقام سرینگر سے شمال کی سمت میں 105 کلومیٹر دور واقع اوڑی میں قائم بھارتی فوج کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر ہے، جو لائن آف کنٹرول سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ جس میں بھارت کی سیکورٹی ایجنسیز اور حملہ آوروں کے درمیان کم وبیش پانچ گھنٹوں تک تصادم جاری رہا۔ مذکورہ حملے کے بعد بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے اپنا روس وامریکا کا دورہ منسوخ کردیا۔ جبکہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ فوراً ہی کشمیر پہنچ گئے۔

بھارت کی جانب سے حملے کے دوران میں ہی پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 8 جولائی کو برہان وانی کی بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد سے حالات نہایت خراب ہیں۔ اور مقبوضہ وادی کے نہتے عوام بھارتی مظالم کی مزاحمت کررہے ہیں۔ بھارت کے زیرقبضہ ان علاقوں میں حملے کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔دوسال قبل 2014 میں بارہ مولا کے اسی ضلع میں موہرا کے مقام پر حملہ ہو چکا ہے۔اس کے علاوہ مقبوضہ وادی کے دیگر اضلاع بشمول کپوارہ، پونچھ اور جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں میں فوجی اور نیم فوجی تنصیبات پر مسلح حملے ہوتے رہے ہیں۔ مگر بھارت اس حملے کو خصوصی اور منفرد نوعیت دینے پر تُلا ہوا ہے اور اِسے پاکستان کے خلاف ایک پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ جس نے یہ تاثر مستحکم کیا ہے کہ یہ حملہ خود بھارت کی اپنی ہی کارستانی کا کہیں نتیجہ نہ ہو۔ اس سے قبل اس نوعیت کے بعض واقعات میں بھارتی ہاتھ پوری طرح عریاں ہوتا رہا ہے۔

بھارت ان دنوں مقبوضہ کشمیر میں جاری احتجاج کی نئی لہر سے خاصا پریشان ہے جس میں اب تک 85 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔جبکہ بھارتی فوج کے ہاتھوں مختلف واقعات میں اب تک گیارہ ہزار لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بھارتی درندگی کے کھلے عام مظاہروں میں یہ واقعہ بھی تاریخ کشمیر میں پہلی مرتبہ ہوا ہےکہ کشمیر یوں کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر عید کی نماز بھی ادا کرنے نہیں دی گئی۔ بھارت ان حالات میں ایک عالمی دباؤ محسوس کررہا تھا۔ اور وہ انسانی حقوق کےکسی بھی عالمی ادارے کو کشمیر میں رسائی دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسی دباؤ کے باعث اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاکہ عالمی فورم پر اُنہیں کسی شرمندگی کا سامنا نہ ہو۔

اس تناظر میں ہونے والے حالیہ واقعے نے بھارت کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ عالمی دباؤ سے باہر نکل کر اپنے پروپیگنڈے کا رخ پاکستان کی جانب کر سکے۔ اس بہاؤ میں بھارت یہ کوشش بھی کررہا ہے کہ پاکستان کو ایک جنگی ہیجان میں مبتلا کردیا جائے۔ اسی باعث بھارتی فوج اور بھارتی دفاع کے اعلیٰ حکام نے مودی کی انتہاپسند حکومت کو اب یہ تجویز دی ہے کہ لائن آف کنٹرول سے ملحق پاکستانی علاقوں اور آزاد کشمیر میں دراندازی کرکے محدود پیمانے پر کارروائیاں کی جائے ۔ بھارت کے فوجی حکام نے اس تجویز کے حق میں یہ دلیل بھی گھڑی ہے کہ پاکستان کے سامنے دفاعی حکمت عملی کے نتیجے میں پٹھان کوٹ اور اوڑی جیسے واقعات رونما ہونے لگتے ہیں۔ لہذا پاکستان کو ایک جنگی ماحول میں رکھ کر مستقل بنیادوں پر پریشان رکھا جائے۔ سنجیدہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقوں کی جانب سے امریکا سے بے نیازی اور علاقائی معاملات میں امریکی کھیل سے بتدریج باہر نکلنے کی حکمت عملی کے باعث بھارت کو امریکا کی جانب سے یہ موقع دیا جارہا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کو آگے بڑھائے اور اُسے مستقل طور پرپریشانی میں مبتلا رکھے۔

پاک فوج نے اس صورت حال کو بروقت بھانپ کر بروقت جی ایچ کیو راولپنڈی میں ایک کورکمانڈر کانفرنس میں اس نئی صورتِ حال کا جائزہ لیا ہے۔ اور ملک کی اندرونی وبیرونی سلامتی کی موجودہ حالت پر تفصیلی غوروفکر کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کورکمانڈرز کانفرنس میں اوڑی حملے کے بعد ہندوستانی پروپیگنڈے کا نوٹس لینے کے ساتھ ساتھ پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔کورکمانڈر کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ہم خطے میں ہونے والے واقعات سے باخبر ہیں اور موجودہ حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ موجودہ واقعات کے پاکستان کی سلامتی پر پڑنے والے اثرات کو بھی جانچ رہے ہیں۔ جی ایچ کیو کا پیغام واضح ہے کہ بھارت کو اُس کے گھناؤنے منصوبے کو رچانے کاموقع ہر گز نہیں دیا جائے گا۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر