... loading ...

مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے ایک قصبے اڑی میں قائم بھارتی فوجی مرکز پر حملہ بھارت کے ایک بڑے منصوبے کا پیش خیمہ بنتا جارہا ہے۔بھارت نےا ِسے پروپیگنڈے کا ایک ہتھیار اور مقبوضہ کشمیر میں جاری اپنی ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کی مذموم چالبازی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کے اندر جاری دہشت گردی کے مختلف واقعات پر بھارت نے پاکستان کو موردِ الزام ٹہرایا اور مکروہ پروپیگنڈے کا ایک طوفان برپا کیے رکھا۔ مگر عملاً دہشت گردی کے کسی بھی واقعے میں پاکستان پر کوئی بھی الزام ثابت نہیں کیا جاسکا۔ جھوٹے جھنڈوں کے ذریعے دہشت گردی کو دشمن کے خلاف کارروائی کے طور پر روا رکھنے کا جو چلن یورپ میں برسوں سے رائج ہے ، وہ بھارت نے گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان کے خلاف اختیار کر رکھا ہے۔ جس کا مظاہرہ اوڑی کے فوجی مرکز پر حملے میں ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں 18 ستمبر کی صبح ہونے والے حملے میں 17 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ضلع بارہ مولا کے قصبے میں ہونے والے اس حملے کو بھارتی فوج پر گزشتہ پندرہ برسوں سے جاری حملوں میں سب سے بڑا اور سنگین حملہ قرار دیا جارہا ہے۔حملے کا مقام سرینگر سے شمال کی سمت میں 105 کلومیٹر دور واقع اوڑی میں قائم بھارتی فوج کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر ہے، جو لائن آف کنٹرول سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ جس میں بھارت کی سیکورٹی ایجنسیز اور حملہ آوروں کے درمیان کم وبیش پانچ گھنٹوں تک تصادم جاری رہا۔ مذکورہ حملے کے بعد بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے اپنا روس وامریکا کا دورہ منسوخ کردیا۔ جبکہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ فوراً ہی کشمیر پہنچ گئے۔
بھارت کی جانب سے حملے کے دوران میں ہی پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 8 جولائی کو برہان وانی کی بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد سے حالات نہایت خراب ہیں۔ اور مقبوضہ وادی کے نہتے عوام بھارتی مظالم کی مزاحمت کررہے ہیں۔ بھارت کے زیرقبضہ ان علاقوں میں حملے کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔دوسال قبل 2014 میں بارہ مولا کے اسی ضلع میں موہرا کے مقام پر حملہ ہو چکا ہے۔اس کے علاوہ مقبوضہ وادی کے دیگر اضلاع بشمول کپوارہ، پونچھ اور جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں میں فوجی اور نیم فوجی تنصیبات پر مسلح حملے ہوتے رہے ہیں۔ مگر بھارت اس حملے کو خصوصی اور منفرد نوعیت دینے پر تُلا ہوا ہے اور اِسے پاکستان کے خلاف ایک پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ جس نے یہ تاثر مستحکم کیا ہے کہ یہ حملہ خود بھارت کی اپنی ہی کارستانی کا کہیں نتیجہ نہ ہو۔ اس سے قبل اس نوعیت کے بعض واقعات میں بھارتی ہاتھ پوری طرح عریاں ہوتا رہا ہے۔
بھارت ان دنوں مقبوضہ کشمیر میں جاری احتجاج کی نئی لہر سے خاصا پریشان ہے جس میں اب تک 85 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔جبکہ بھارتی فوج کے ہاتھوں مختلف واقعات میں اب تک گیارہ ہزار لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بھارتی درندگی کے کھلے عام مظاہروں میں یہ واقعہ بھی تاریخ کشمیر میں پہلی مرتبہ ہوا ہےکہ کشمیر یوں کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر عید کی نماز بھی ادا کرنے نہیں دی گئی۔ بھارت ان حالات میں ایک عالمی دباؤ محسوس کررہا تھا۔ اور وہ انسانی حقوق کےکسی بھی عالمی ادارے کو کشمیر میں رسائی دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسی دباؤ کے باعث اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاکہ عالمی فورم پر اُنہیں کسی شرمندگی کا سامنا نہ ہو۔
اس تناظر میں ہونے والے حالیہ واقعے نے بھارت کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ عالمی دباؤ سے باہر نکل کر اپنے پروپیگنڈے کا رخ پاکستان کی جانب کر سکے۔ اس بہاؤ میں بھارت یہ کوشش بھی کررہا ہے کہ پاکستان کو ایک جنگی ہیجان میں مبتلا کردیا جائے۔ اسی باعث بھارتی فوج اور بھارتی دفاع کے اعلیٰ حکام نے مودی کی انتہاپسند حکومت کو اب یہ تجویز دی ہے کہ لائن آف کنٹرول سے ملحق پاکستانی علاقوں اور آزاد کشمیر میں دراندازی کرکے محدود پیمانے پر کارروائیاں کی جائے ۔ بھارت کے فوجی حکام نے اس تجویز کے حق میں یہ دلیل بھی گھڑی ہے کہ پاکستان کے سامنے دفاعی حکمت عملی کے نتیجے میں پٹھان کوٹ اور اوڑی جیسے واقعات رونما ہونے لگتے ہیں۔ لہذا پاکستان کو ایک جنگی ماحول میں رکھ کر مستقل بنیادوں پر پریشان رکھا جائے۔ سنجیدہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقوں کی جانب سے امریکا سے بے نیازی اور علاقائی معاملات میں امریکی کھیل سے بتدریج باہر نکلنے کی حکمت عملی کے باعث بھارت کو امریکا کی جانب سے یہ موقع دیا جارہا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کو آگے بڑھائے اور اُسے مستقل طور پرپریشانی میں مبتلا رکھے۔
پاک فوج نے اس صورت حال کو بروقت بھانپ کر بروقت جی ایچ کیو راولپنڈی میں ایک کورکمانڈر کانفرنس میں اس نئی صورتِ حال کا جائزہ لیا ہے۔ اور ملک کی اندرونی وبیرونی سلامتی کی موجودہ حالت پر تفصیلی غوروفکر کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کورکمانڈرز کانفرنس میں اوڑی حملے کے بعد ہندوستانی پروپیگنڈے کا نوٹس لینے کے ساتھ ساتھ پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔کورکمانڈر کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ہم خطے میں ہونے والے واقعات سے باخبر ہیں اور موجودہ حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ موجودہ واقعات کے پاکستان کی سلامتی پر پڑنے والے اثرات کو بھی جانچ رہے ہیں۔ جی ایچ کیو کا پیغام واضح ہے کہ بھارت کو اُس کے گھناؤنے منصوبے کو رچانے کاموقع ہر گز نہیں دیا جائے گا۔
ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...
کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...
شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...
قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...
مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...
ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...