... loading ...

خواجہ اظہارالحسن دوسرے وسیم اختر ہیں یا کوئی نیا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟ کیاکراچی کے معاملات میں کوئی اور فریق بھی دعوے دار ہے ؟ جسے تسلیم نہیں کیا جارہا؟ آخرمعاملات کہاں جارہے ہیں ؟ ایم کیوایم کے اہم رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہارالحسن کو بارہ مئی دوہزار سات کے مقدمے میں گرفتار ی کے بعد رہا کردیا گیا۔ یہ کارروائی سرانجام دینے والے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار ہیں جنہیں وزیراعلی سندھ نے معطل کردیا ہے۔
یہ راؤ انوار تو وہی ہیں جنہوں نے اکیس برس پہلے 2اگست 1995ء کو ایم کیو ایم کے بہت سرگرم کارکن فاروق پٹنی عرف فاروق دادا کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا تھا، اس وقت وہ ایس ایچ او ایئر پورٹ تھے۔ اس سے پہلے بھی وہ کوئی گمنام پولیس افسر نہیں تھے کراچی میں اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ کی نگرانی میں جو پولیس آپریشن ہوا، راؤ انوار اس کا بھی فعال حصہ رہے اور یہ وہی راؤ انوار ہیں جنہوں نے گزشتہ برس ایم کیو ایم سے وابستہ افراد کو گرفتار کرکے دعویٰ کیا کہ یہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھاکہ ایم کیو ایم پر پابندی عائد کی جائے کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف ایک سرکاری افسر کی بیان بازی بہت ہی حیران کن تھی۔ بالآخر راؤ انوار کو معطل کردیا گیا تھا۔
راؤ انوار کی اور بھی کئی داستانیں زبانِ زد خاص و عام ہیں مگر اس سے زیادہ اہم بات خواجہ اظہار کی حالیہ گرفتاری اور رہائی ہے۔ خواجہ اظہار سندھ اسمبلی کے عام رکن نہیں‘ اپوزیشن لیڈر ہیں کسی بھی رکن اسمبلی کی گرفتای کے لئے متعلقہ اسپیکر سے اجازت درکار ہوتی ہے مگر اس کیس میں بڑی عجیب بات ہے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی سرکاری مشینری کا ایک افسر ایوان میں ان کے مد مقابل نشست پر براجمان اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کرنے سے پہلے ان سے ہی نہیں اسپیکر سے بھی نہیں پوچھتے‘ یقینا یہ صورتحال کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے میں قابل برداشت نہیں ہے وزیراعلیٰ نے اس کا بھرم رکھنے کی کوشش کی اور راؤ انوار کو فوری معطل کردیا اور آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے دفتر سے خواجہ اظہار کو رہا کرادیامگر سوال یہ ہے کہ یہ صورتحال پیدا ہی کیوں ہوئی ہے۔
بات اتنی سادہ نہیں ہے کہ خواجہ اظہار کو گرفتار کیا بھی جب اس غلطی کا احساس ہوا تو رہا کردیا گیا۔ کراچی میں عیدالاضحی پرامن طور پر گزر گئی۔ ایم کیو ایم پاکستان جس کے پاس کراچی کا مینڈیٹ ہے بظاہر وہ جماعت پاکستان کے مقتدر حلقوں سے رابطے میں بھی ہے اور گزشتہ ادوار کی غلطیوں سے بھی اجتناب کررہی ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر فاروق ستار کی موجودگی ان کے معتمد خاص کی گرفتاری بھی معنی رکھتی ہے؟
بتایا جاتا ہے کہ جس وقت پہلی مرتبہ پولیس خواجہ اظہار کے گھر پہنچی اور تلاشی لی تو وہ وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کررہے تھے‘ خواجہ اظہار گھر پہنچے فاروق ستار کے ساتھ ساتھ راؤ انوار پہنچے اور یہ کہہ کر خواجہ اظہار 12مئی کے مقدمات میں مطلوب اور ٹارگٹ کلرز کے چیف ہیں‘ انہیں ساتھ لے گئے ملک بھر سے لوگ فون کرکے پوچھتے رہے کہ آخر عید کے چوتھے روز ایسا کون سا ثبوت راؤ انوار کے ہاتھ آگیا تھا۔ بارہ مئی کا کیس تو 9برس پرانا ہے جس میں یہ اچانک گرفتاری ناقابل فہم ہے۔ حکومت سندھ سے مکمل ہم آہنگی ہے تو سندھ حکومت کا ماتحت افسر صوبے کی دوسری بڑی پارلیمانی جماعت کے لیڈر کوکیسے گرفتار کرلیا جاتا ہے۔
باخبر ذرائع دعویٰ کرتے ہیں خواجہ اظہار کی گرفتاری و رہائی کسی بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت ایم کیو ایم پاکستان کو ایوانوں سے استعفوں کی طرف دھکیلنا ہے کیونکہ ایک سے زائد مرتبہ منتخب نمائندوں کی بے توقیری کرکے یہ باور کرایا جارہا ہے کہ ایوانوں کی کوئی نمائندہ حیثیت نہیں ہے‘ یہ واقعی کسی پلان کا حصہ ہے تو پھر کون ہے جو اس منصوبے کو آگے بڑھارہا ہے ‘ وفاقی اور سندھ حکومت اور کراچی میں موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے رابطے میں ہیں۔ خو د وزیراعظم نے خواجہ اظہار کی گرفتاری کا نوٹس لیا تو پھر آخر کون ہے جو کراچی پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے اور موجودہ حالات میں خود کو شہر قائد میں منوانا چاہتا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایم کیو ایم سے الگ ہو کر چند ماہ پہلے علیحدہ جماعت بنانے والے رہنما اس قسم کے واقعات پر تبصرہ کرتے رہے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان مظلومیت کا تاثر دے کر ایک مرتبہ پھر اپنے ناراض ووٹرز کی ہمدردیاں سمیٹنا چاہتی ہے۔ اسی لیے گرفتاری و رہائی سمیت دیگر اقدامات خود ان کی اپنی مرضی سے کیے جاتے ہیں‘ بات کچھ بھی ہو حکومت سندھ کو بھی کراچی میں اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہوگا۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...