... loading ...

قانون کے محافظ اور رکھوالے ہی قانون شکن بن گئے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے کرپٹ افسر کی چیرہ دستیاں بے نقاب ہوگئیں۔ ایس ایس پی (سی ٹی ڈی) کیپٹن (ر) محمد اسد علی نے دو افراد کو اٹھا لیا، رہائی کے عوض 30 لاکھ روپے رشوت لینے کے باوجود نہیں چھوڑا اور مزید رقم کا تقاضا کرتا رہا۔ مزید پیسے نہ ملنے پر زیرتحویل شخص کو تشدد کا نشانا بھی بنایا۔
محکمہ جاتی انکوائری میں مذکورہ ایس ایس پی کی قانون شکنی اور بدعنوانی ثابت ہوگئی اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق فیروز احمد اللہ والا ولد مشتاق احمد اللہ والا نے تحریری شکایت کی تھی کہ ان کے برادران نسبتی سلیم احمد اور اخلاص احمد کو 13؍اکتوبر 2015ء کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے اٹھا لیا تھا، بعد میں اخلاص احمد کو چھوڑ دیا گیا مگر سلیم احمد واپس نہیں آئے۔ جس پر سلیم کے برادر نسبتی فیروز احمد ولد عبدالغفار نے اپنے دوست کیپٹن (ر) شہزاد سلیم سے مدد کی درخواست کی، جو انہیں اپنے دوست ایس ایس پی (فارنسک، پولیس ہیڈکوارٹر، گارڈن) کیپٹن (ر) محمد اسد علی کے پاس لے گئے۔ ایس ایس پی کیپٹن (ر) محمد اسد علی نے انہیں اعجاز نامی شخص کا نمبر دیا اور اس سے بات کرنے کیلئے کہا۔ اعجاز نے سلیم احمد کی رہائی کیلئے 50 لاکھ روپے طلب کیے، تاہم 30 لاکھ روپے میں معاملہ طے پاگیا۔ 23؍اکتوبر 2015ء کو اعجاز نامی شخص کو دس لاکھ روپے ادا کردیئے گئے جبکہ باقی بیس لاکھ روپے 26؍اکتوبر کو ایس ایس پی کیپٹن (ر) محمد اسد علی کو ان کے دفتر میں اعجاز اور فیروز احمد ولد عبدالغفار کی موجودگی میں دے دیئے گئے۔ تاہم اس کے باوجود سلیم احمد گھر نہیں پہنچے، ایس ایس پی کیپٹن (ر) محمد اسد علی جھوٹے وعدے کرتا رہا اور ڈرا دھمکا کر مزید پیسوں کا تقاضا بھی کیا۔
شکایت کنندہ نے مزید بتایا کہ نومبر 2015ء کے پہلے ہفتے میں وہ ’’سی ٹی ڈی‘‘ کے انسپکٹر راجہ عمر خطاب سے ملے، جنہوں نے بتایا کہ سلیم احمد ان کے محکمے کی باضابطہ تحویل میں ہے اور اس کی رہائی کا انحصار ’’جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم‘‘ (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پر ہے۔ 17؍دسمبر 2015ء کو سلیم احمد کو عدالتی حکم پر رہا کردیا گیا، جس کے بعد شکایت کنندہ نے کیپٹن (ر) شہزاد سہیل سے اس رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا، جو ایس ایس پی کیپٹن (ر) محمد اسد علی کو ادا کی گئی تھی مگر یہ رقم واپس نہیں کی گئی۔ شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا کہ 29؍جنوری 2016ء کو ایس ایس پی کیپٹن (ر) محمد اسد علی کی ہدایت پر سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے ایک مرتبہ پھر سلیم احمد کو اغواء کرلیا، جس کی بازیابی کیلئے شکایت کنندہ نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی۔
25 اور 26؍اپریل 2016ء کی درمیانی شب 20-25 افراد نے سلیم احمد کے گھر پر دھاوا بول دیا اور وہاں سے نقدی، ایک لائسنس یافتہ پستول اور دیگر قیمتی اشیاء لے گئے۔ اس اثناء میں شکایت کنندہ، کیپٹن (ر) شہزاد سلیم کے ذریعے ایس ایس پی کیپٹن (ر) محمد اسد علی سے رابطہ کرنے کی کوششیں کرتا رہا مگر کامیابی نہ ملی۔ بالآخر 20؍جولائی 2016ء کو سلیم احمد واپس اپنے گھر پہنچ گیا اور اس نے بتایا کہ اسے ایس ایس پی کیپٹن (ر) محمد اسد علی کے لوگوں نے اغواء کیا تھا، اسے تشدد کا نشانا بنایا گیا اور دھمکیاں بھی دی گئیں۔ شکایت کنندہ نے درخواست کی کہ اسے ایس ایس پی کیپٹن (ر) محمد اسد علی سے مبلغ 30 لاکھ روپے واپس دلائے جائیں اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ تحریری شکایت ملنے پر ڈی آئی جی (سی ٹی ڈی) ثناء اللہ عباسی کو انکوائری افسر مقرر کردیاگیا۔
واضح رہے کہ ایس ایس پی کیپٹن (ر) محمد اسد علی ان دنوں بورڈ آف ریونیو میں بطور ڈائریکٹر، اینٹی انکروچمنٹ سیل اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انکوائری افسر نے تمام متعلقہ افراد کے بیانات، دستاویزی اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لینے کے بعد جو رپورٹ پیش کی، اس میں کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی کیپٹن (ر) محمد اسد علی کے خلاف لگائے گئے الزامات کی شواہد سے تصدیق ہوگئی ہے، چنانچہ ملزم کے خلاف قانونی اور محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش کی جاتی ہے۔ رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ سندھ پولیس کے مختلف یونٹس اور رینجز میں اسی قسم کے دیگر ممکنہ کیسز کا بھی جائزہ لے کر ان میں ملوث سینئر پولیس افسران کے خلاف قانونی اور محکمہ جاتی کارروائی کی جائے۔ علاوہ ازیں کرپشن اور بے ضابطگیوں میں ملوث پولیس افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کے لیے اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ، نیب اور ایف آئی اے سے بھی رپورٹس مانگی جانی چاہئیں۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ کارپوریٹ ؍ کریمنل پولیسنگ کی روک تھام کیلئے حکومت سندھ کو مفادات کے تصادم (Conflict of Interests) کا قانون منظور کرانا چاہیے۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...