وجود

... loading ...

وجود

محکمہ صحت میں خلاف ضابطہ تقرریاں! عدالتی احکامات نظرانداز

جمعرات 01 ستمبر 2016 محکمہ صحت میں خلاف ضابطہ تقرریاں! عدالتی احکامات نظرانداز

government-of-sindh

سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود محکمہ صحت سندھ میں خلاف ضابطہ تقرریاں کی گئی ہیں۔جس سے منظور نظر افسران کی چاندی ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت سندھ میں بعض منظور نظر افسران کی مختلف عہدوں پر خلاف ضابطہ تقرریاں کی گئی ہیں جبکہ یہ افسران ان عہدوں کے اہل بھی نہیں ہیں۔ ان افسران میں خاص کر سیکشن افسر ابراہیم میمن ہیں جو کہ دراصل گریڈ 17 کے افسر ہیں لیکن ان کو ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن کے انتہائی اہم منصب پر تعینات کردیا گیا ہے، وہ بھی آن پے اسکیل ( OPS ) جس کی سپریم کورٹ نے سختی سے ممانعت کی ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ موجودہ سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر عثمان چاچڑ (جو کہ اس سے قبل سیکرٹری سروسز تھے) کی ڈاکٹر عطا پنہور کیس میں دوران سماعت سپریم کورٹ نے سخت سرزنش کی تھی اور ان پر معزز عدلیہ نے اپنی برہمی کا اظہار کیا تھا۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عطا پنہور مرکزی حکومت کے ملازم تھے جنہیں اعلیٰ بیورو کریسی نے صوبائی حکومت کے ادارے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( MDA ) میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے تعینات کر دیا تھا جس کی سپریم کورٹ نے اپنی سماعت کے دوران سخت سرزنش کی تھی اور ان کی خدمات کو دوبارہ مرکزی حکومت کے سپرد کرنے کے احکامات جاری کئے تھے اور سپریم کورٹ کے ان احکامات کی بجا آوری بھی کی گئی تھی مگر اب جبکہ ڈاکٹر عثمان چاچڑ سیکرٹری صحت سندھ تعینات ہیں ،ایک مرتبہ پھر اپنے محکمہ میں سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیکشن افسر ابراہیم میمن کی خلاف ضابطہ بطور ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن تقرری کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے مسلسل گریزاں ہیں۔

اسی طرح ذرائع کے مطابق ایک اورنان کیڈر افسر ڈاکٹر اظہار شاہ کو بھی ایک کیڈر پوسٹ پر ڈپٹی سیکرٹری پبلک ہیلتھ، محکمہ صحت میں تعینات کیا گیا ہے جبکہ موصوف محکمہ صحت میں او ایس ڈی ہیں اور اپنی تنخواہ ٹھٹھہ کے سول ہسپتال سے لے رہے ہیں۔اس کے علاوہ تیسرے افسر سکندر میمن ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے محکمہ صحت میں سیکشن افسر کے عہدے پر براجمان ہیں اور سندھ کے تمام ہسپتالوں میں میڈیکو لیگل سیکشن کو ڈیل کر رہے ہیں جبکہ موصوف باقاعدہ سیکریٹریٹ ملازم نہیں ہیں اور اپنی تنخواہ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کراچی سے لے رہے ہیں ان کی پوسٹنگ ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ کراچی میں ہے مگر حیرت انگیز طور پر محکمہ صحت میں بطور سیکشن افسر پورے سندھ کے میڈیکو لیگل افسران کو ڈیل کر رہے ہیں۔

اسی طرح چوتھی خلاف ضابطہ تقرری ڈاکٹر ندیم شیخ کی ہے جو نرسنگ بورڈ میں تعینات تھے جہاں سے انہیں فارغ کر دیا گیا تھا آج کل او ایس ڈی ہیں لیکن محکمہ صحت سندھ کی انکوائری کمیٹی کے ممبر ہیں اور گریڈ سولہ سے بیس تک کے افسران کی فائلوں کو چیک کرتے ہیں۔

اسی طرح سندھ حکومت کے بعض ذرائع نے اپنی تشویش کا برملا اظہار کرتے ہوئے روزنامہ جرات کے انویسٹی گیشن سیل کو بتایا کہ علی حسن ناریجو دراصل اسٹینو گرافر ہیں مگر انہیں بھی بطور سیکشن افسر محکمہ صحت سندھ تعینات کیا گیا ہے اور وہ اسپیشلسٹ کیڈر کے ڈاکٹروں کو ڈیل کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ بالا تمام خلاف ضابطہ تقرریاں گزشتہ سیکرٹری ہیلتھ احمد بخش ناریجو کے دور میں کی گئی تھیں۔ سیکرٹریٹ میں ٹرانسفر ، پوسٹنگ اور لمبی چھٹیوں پر پابندی کے باوجود مذکورہ افسران خلاف ضابطہ اپنے عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور ان ہی غیر قانونی تقرریوں کی وجہ سے محکمہ صحت میں رشوت ستانی اور بدعنوانی اپنے عروج پر ہیاور مختلف مدات میں افسران اور دیگر ملازمین سے ان کے محکمہ جاتی کاموں کے حوالے سے لاکھوں روپے بٹورے جا رہے ہیں۔

علاوہ ازیں محکمہ صحت سندھ میں لمبی چھٹیوں کے حوالے سے بھی خاصی بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمرہ اور حج کے لیے جانے والے ڈاکٹرز اور عملے کو تو چھٹیاں دینے میں خاصی پس و پیش سے کام لیا جاتا ہے مگر ایسے ڈاکٹرز بھی ہیں جو خلیجی اور دیگر ممالک کے ہسپتالوں میں ملازمتیں کر رہے ہیں جن کی چھٹیوں میں لاکھوں روپوں کے عوض ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے جس کے روزنامہ جرات کے انویسٹی گیشن سیل کے پاس تحریری ثبوت بھی موجود ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود ان تمام خلاف ضابطہ تقرریوں تبادلوں اور بدعنوانیوں کے حوالے سے اینٹی کرپشن ، نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں نے حیرت انگیز طور پر اس طرف سے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ ان اداروں کی خاموشی کو خاص وعام حلقوں میں معنی خیز سمجھا جا رہا ہے ، جبکہ سندھ سیکریٹریٹ ملازمین میں ان غیر قانونی تقرریوں کی وجہ سے خاصا اشتعال پایا جاتا ہے۔ ان ملازمین نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ،مذکورہ بالا خلاف ضابطہ تقرریوں کے حوالے سے روزنامہ جرات انویسٹی گیشن سیل نے اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ غلام حسین میمن سے ان کا موقف جاننے کے لیئے متعدد مرتبہ ان کے نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا جبکہ پی ایس ٹو سیکرٹری ہیلتھ محمد علی شیخ نے جرات کو بتایا کہ اس حوالے سے اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ ہی جواب دیں گے۔

نوٹ: ” یہ رپورٹ آج روزنامہ جرات کراچی میں شائع ہوئی ، جو “وجود” سے ہی منسلک ایک ادارہ ہے۔”


متعلقہ خبریں


عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم وجود - بدھ 26 نومبر 2025

عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع وجود - بدھ 26 نومبر 2025

بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل وجود - منگل 25 نومبر 2025

مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا وجود - منگل 25 نومبر 2025

غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا

مضامین
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ

مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن وجود جمعرات 27 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر