وجود

... loading ...

وجود

مکا چوک کے نام کی تبدیلی نمائشی قدم

جمعه 26 اگست 2016 مکا چوک کے نام کی تبدیلی نمائشی قدم

mukka-chowk

چودھری نثار سو فیصد درست کہتے ہیں۔ اردو بولنے والے مہاجروں کا ماضی بھی پاکستان تھا اور مستقبل بھی پاکستان ہے، جو بات انہوں نے کہی وہ بھی سولہ آنے درست ہے کہ اردو بولنے والے ہی پاکستان کا مستقبل ہیں یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔ اور یہ بات بھی ذرہ برابر غلط نہیں کہ مہاجروں کا جو حال ہے وہی پاکستان کا حال ہے، ملک کا حال بھی بہتر بنایا جارہا ہے تو مہاجروں کا حال بھی بہتر ہوگا۔

چوہدری نثار ایم کیو ایم کو دو حصوں میں تقسیم کریں یا تین میں، مگر سوال کسی سیاسی گروپ یا پریشر گروپ کا نہیں بلکہ لاکھوں ووٹرز کا ہے جن کیلئے خود چودھری صاحب نے فرمایا ہے کہ انہوں نے 25 برس بعد آزادی کا اظہار کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہ شہر اب کسی کے ہاتھوں یرغمال نہیں۔

چودھری نثار کہتے ہیں وہ وزیراعظم کی ہدایت پر اہل کراچی کو مبارکباد دینے اور اظہار تشکر کرنے حاضر ہوئے، مگر چودھری صاحب خالی خولی تشکر اور مبارکباد۔

لاہور پر میٹرو بس کے بعد 200 ارب روپے کی اورنج ٹرین کی نوازش اور کراچی کیلئے 16 ارب روپے کی گرین لائن اور سولہ ارب بھی دو سال میں۔حکومت اعتراف کرتی ہے کہ کراچی بند ہونے سے پانچ ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔گویا مہینے میں ڈیڑھ کھرب اورسالانہ اٹھارہ کھرب اور دوسال میں چھتیس کھرب جس شہر سے اتنا ریونیو ملے اسے دوسال میں سولہ ارب ملیں تو یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ وفاقی حکومت اگر یہ کریڈٹ لیتی ہے کہ اس کے اقدامات سے متاثر ہوکر کراچی کے شہریوں نے پیش قدمی کی ہے تو اس کا جواب بھی ایک مکمل پیکیج ہے، جو اٹھارہ کھرب روپے سالانہ دینے والے شہر کے شایان شان ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاک سر زمین پارٹی کے مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ کوئی کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہ سمجھے ہم اس کے وارث ہیں، یہ بات کہنا جس قدر آسان ہے نبھانا اتنا ہی مشکل ،ان کے دعوے کی حقیقت پر شبہات کا اظہار اس لیے کیاجاتاہے کہ فی الحال ان کی کوئی عوامی حیثیت نہیں، ان کے ساتھ منتخب نمائندے ضرور آئے ہیں، مگر اپنی نشستیں چھوڑ کر کیونکہ یہ نمائندگی انہیں الطاف حسین کے کھاتے سے ملی تھی، ان کی خالی کی گئی نشستوں پر بھی الطاف حسین کے نامزد لوگ جیتے ہیں، مصطفی کمال 23 مارچ کے بعد بھی کسی ضمنی انتخاب میں حصہ لینے پر تیار نہیں ان کاکہناہے کہ دوہزار اٹھارہ کا انتخاب ان کاہدف ہے اس کا ایک پہلو تو وہی ہے جو مصطفی کمال دکھاتے ہیں یعنی بغیر تیاری الیکشن لڑنا دانشمندی نہیں، مگردوسرا رخ وہی ہے جو لوگ سمجھتے ہیں، وہ الیکشن سے خوفزدہ ہیں کہ کامیابی نہ ملی توبھداڑے گی اقبال نے کہاتھا ،گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔

اس لیے مصطفی کمال کا یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ وہ مہاجروں یا اہل کراچی کے ولی وارث ہیں ان کی سرپرستی وفاقی او رسندھ حکومت کوہی کرنا ہوگی، بہ صورت دیگر ا ن کی مبارکبا دغیر موثر ہوجائے گی ۔پرنالہ وہیں گرے گا اورفی الحال تو ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں موجود ایم کیوایم کو ہی اہل کراچی کے مینڈیٹ کی حامل جماعت سمجھنا ہوگا۔کیونکہ منتخب نمائندوں کی اکثریت ان کے ساتھ ہے اورانہی کے نام سے یہ جماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے۔

پاک سرزمین پارٹی تو یہ موقف اختیار کرسکتی ہے کہ فاروق ستار ڈراما کررہے ہیں، کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا،مگرمقتدر قوتوں کو بہت باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ مصطفی کمال یہ موقف اختیار کرنے میں حق بہ جانب ہیں ان کی تو جماعت کی بنیاد ہی الطاف حسین کی مخالفت پرہے ۔ اس لئے جب ڈاکٹر فاروق ستار بھی الطاف حسین کی مذمت کریں اور ان سے عارضی ہی سہی لاتعلقی اختیار کرلیں تو پھر مصطفی کمال کے پاس کہنے کیلئے کیا رہ جائے گا ؟

ڈاکٹر فاروق ستار تو دو روز سے اپنے موقف کو سچ ثابت کرنے کے لیے زور لگاہی رہے ہیں اس لیے اس پر تو کچھ نہیں کہاجاسکتا،مگر جو بات وہ نہیں کہہ رہے ہیں اس پرتوجہ کی ضرورت ہے۔

اور وہ بات یہ ہے کہ فاروق ستار نے تو جوکیا وہ ڈراما سہی فسانہ سہی۔

حقیقت نہ مانو‘ ڈرامہ ہی مانو
مائنس تو ہوچکا، فسانہ ہی جانو

یہ سب کچھ ایم کیوایم کی تاریخ میں علی الاعلان پہلی مرتبہ ہوا ہے ۔پہلی مرتبہ ساری دنیا کے سامنے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاہے کہ جس شخصیت کو وہ اپنا قائد کہتے ہیں وہ کسی ذہنی مرض میں مبتلا ہے، اس لیے پہلے اس کا علاج کرایاجائے۔

ایم کیوایم کی تاریخ تو یہ ہے کہ انتہائی مشکل حالات میں بھی چاکنگ اور پوسٹر نظر آتے تھے

الطاف نہ سمٹا ہے نہ سمٹے گا لمحوں میں
وہ تو اک احساس ہے جو رہتاہے دلوں میں

فاروق ستار کے مبینہ ڈرامے میں چھپی حقیقت کو ذرا لندن کی رابطہ کمیٹی اور ان کے قائد کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ان کے لیے یہ تصور ہی سو ہان روح ہے کہ کراچی میں کوئی ان کی بات کو نہ کہہ دے۔

باخبر ذرائع یہ بتاتے ہیں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ الطاف حسین رینجرز ہیڈ کوارٹرز کا گھیراؤ کرنے کی ہدایت دے چکے ہیں۔ گزشتہ بقر عید پر کھالیں قبضے میں جانے کے بعد تو وہ بہت مشتعل ہوگئے تھے ،مگر یہ پاکستان میں سیاست کرنے والے پارلیمنٹرین تھے جنہوں نے سمجھایا کہ لندن میں بیٹھ کر ایسا سوچا جاسکتاہے، مگر حقائق اور عمل کی دنیا میں یہ ممکن نہیں اس کے باوجود کبھی یہ رویہ نہیں اپنا یا گیا جو اعلان لاتعلقی کے وقت تھا۔

اس انداز کو برداشت کرنا الطاف حسین توکیا واسع جلیل جیسے لندن رابطہ کمیٹی کے رکن اور دوسری تیسری صف کے رہنما واسع جلیل کے لئے بھی ممکن نہیں۔ وہ کس قدر خفا ہیں اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتاہے کہ وہ بات جو فاروق ستار نے نہیں کہی وہ اُن کے لیے کتنی ناقابل برداشت ہے

وہ بات جس کا فسانے میں کوئی ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

ضرورت اس امر کی ہے کہ فعال سیاسی جماعتیں اور مقتدر ادارے مصطفی کمال کی لائن کو جو انہوں نے اپنی جماعت یا موقف کو نقصان سے بچانے کیلئے اختیار کی ہے،پر چلنے کے بجائے فاروق ستار کی جماعت کے ذریعے کراچی کے عوام کو پیکیج دیں، البتہ دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں یہ جماعت ناکام ہوجائے تو پھر جو جیتے وہ سکندر ہوگا، اس سے بات کی جائے۔حکومت نمائشی اقدامات سے بچے مکاچوک کا نام کی تبدیلی بھی ایسا ہی عمل ہے۔


متعلقہ خبریں


بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے وجود - جمعه 17 اپریل 2026

متعدد افراد زخمی،مودی کی پالیسیوں کیخلاف علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں شدید جھڑپیں، بھارتی فورسز کی 2گاڑیوں کو آگ لگادی ، فوجیوں کو یرغمال بنالیا مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کیخلاف عوام میں شدید غم و غصہ،علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں۔ بھارت کے اپنے ...

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی وجود - جمعه 17 اپریل 2026

موٹرسائیکل سوار ملزمان فرار ،واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل آئی جی کا نوٹس، ایڈشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فی الفور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی (رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مدرسے والی نہر کے قریب ڈاکووں کی پولیس اہلکاروں پر ہونے والی ف...

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 17 اپریل 2026

عدالت کی ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر کارروائی سول جج عباس شاہ نے وزیراعلیٰ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وا...

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید وجود - جمعه 17 اپریل 2026

امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے حملہ کر کے 4طبی ورکرز کو قتل کر دیا بنت جبیل میں حزب اللہ، اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ، میڈیارپورٹ جنگ بندی مذاکرات کے باوجود لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں، لبنان میں 24 گھنٹوں میں مزید 43 شہری شہید کر دیئے گئے ۔غیرملکی میڈیارپ...

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید

مضامین
پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔ وجود اتوار 19 اپریل 2026
آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری وجود اتوار 19 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری

ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر