... loading ...
دوسرا رخ/نوید ورک
پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔۔ یہ صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک ایسا جذبہ ہے جو ہر اس لمحے میں اپنی شدت کے ساتھ ابھرتا ہے جب پاکستان عالمی منظرنامے پر اپنی موجودگی کو منواتا ہے۔ آج کا لمحہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں، اور ایران و امریکہ جیسے دیرینہ حریف ایک ہی میز پر بیٹھنے کے لیے آمادہ ہیں۔ یہ منظر کسی فلمی کہانی سے کم نہیں، مگر یہ حقیقت ہے۔۔اور اس حقیقت کا مرکز پاکستان ہے۔
اسلام آباد، جو کبھی صرف ایک پُرسکون اور منظم دارالحکومت کے طور پر جانا جاتا تھا، آج عالمی سفارتکاری کے ایک بڑے اسٹیج میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس شہر کی خاموش سڑکیں آج بین الاقوامی میڈیا کی گاڑیوں سے بھری ہوئی ہیں، اور ہر طرف سیکیورٹی کے سخت انتظامات اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں معمولی نہیں۔ ہر دروازے کے پیچھے ایک نئی کہانی لکھی جا رہی ہے، اور ہر کمرے میں تاریخ کے نئے باب رقم ہو رہے ہیں۔
ایران اور امریکہ۔۔یہ دو نام ہی دنیا کی سیاست میں ایک طویل کشیدگی، بداعتمادی اور محاذ آرائی کی علامت رہے ہیں۔ ان کے درمیان تعلقات کی تاریخ میں تلخیوں کا ایک ایسا سلسلہ ہے جسے ختم کرنا آسان نہیں۔ مگر یہی دو ممالک جب ایک ہی میز پر بیٹھنے پر تیار ہوں، تو یہ صرف ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ ایک عالمی تبدیلی کی علامت ہوتی ہے۔ اور اس تبدیلی کے لیے جو زمین منتخب ہوئی ہے، وہ پاکستان ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر کیوں پاکستان؟ کیوں اسلام آباد؟ دنیا میں جنیوا، پیرس، نیویارک جیسے بڑے سفارتی مراکز موجود ہیں، مگر ان سب کے ہوتے ہوئے اسلام آباد کا انتخاب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر ایک ایسا اعتماد حاصل کر لیا ہے جو ہر ملک کو نصیب نہیں ہوتا۔ یہ اعتماد یک دم حاصل نہیں ہوا، بلکہ اس کے پیچھے دہائیوں کی سفارتی محنت، قربانیاں اور مستقل مزاجی شامل ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی اس معاملے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ملک ایک ایسے مقام پر واقع ہے جہاں مشرق اور مغرب آپس میں ملتے ہیں۔ ایک طرف چین جیسی عالمی طاقت، دوسری طرف ایران اور آگے مشرقِ وسطیٰ—پاکستان ان سب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی بڑے تنازعے کو سلجھانے کی بات ہوتی ہے، پاکستان ایک قدرتی انتخاب بن کر سامنے آتا ہے۔
اسلام آباد میں جاری ہونے والے یہ مذاکرات صرف دو ممالک کے درمیان بات چیت نہیں، بلکہ دراصل یہ پوری دنیا کے مستقبل کا تعین کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے کہ کیا دنیا تصادم کے راستے پر چلے گی یا مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل نکالے گی؟ اور اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی زمین پیش کی ہے۔
یہاں ایک پہلو یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان خود کئی چیلنجز کا شکار رہا ہے۔ دہشت گردی، معاشی دباؤ، سیاسی عدم استحکام—یہ سب مسائل اس ملک کے ساتھ جڑے رہے ہیں۔ مگر ان تمام مشکلات کے باوجود پاکستان نے کبھی اپنی سفارتی ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑا۔ بلکہ ہر مشکل وقت میں اس نے دنیا کو یہ دکھایا کہ وہ ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ریاست ہے۔اسلام آباد کے ان مذاکراتی کمروں میں صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوگا، بلکہ اعتماد کی بحالی کی کوشش کی جائے گی۔ ہر جملہ ایک پیغام ، ہر خاموشی ایک معنی رکھتی ہے۔ یہاں ہونے والی ہر پیش رفت کا اثر نہ صرف ایران اور امریکہ پر پڑے گا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔
پاکستان کے عوام کے لیے یہ لمحہ فخر کا ہے۔ ایک ایسا ملک جسے اکثر مسائل کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، آج وہی ملک عالمی امن کی کوششوں کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت میں خلوص ہو اور قیادت میں بصیرت، تو کوئی بھی ملک عالمی سطح پر اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ہمیں اپنی تاریخ پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے۔ افغانستان کے مسئلے میں اس کا کردار، چین اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کے لیے اس کی کوششیں—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ہمیشہ سے ایک مثبت قوت رہا ہے۔ اور آج ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔
اسلام آباد کی فضاؤں میں آج ایک عجیب سی سنجیدگی ہے۔ میڈیا کے نمائندے، سفارت کار، سیکیورٹی اہلکار—ہر کوئی اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔ مگر اس سب کے درمیان ایک خاموش اعتماد بھی موجود ہے۔ ایک یقین کہ پاکستان اس اہم ذمہ داری کو بخوبی نبھائے گا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے مواقع چیلنجز سے خالی نہیں ہوتے۔ ہر بیان کو تولنا پڑتا ہے، ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوتا ہے۔ مگر پاکستان نے ماضی میں بھی ایسے چیلنجز کا سامنا کیا ہے اور ہمیشہ کامیابی حاصل کی ہے۔اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کا باعث بنیں گے بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک بڑی سفارتی کامیابی ثابت ہوں گے۔ یہ دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ پاکستان صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک عالمی کھلاڑی ہے۔اور اگر یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچتے، تب بھی پاکستان کا کردار کم نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس نے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، ایک موقع دیا، ایک امید پیدا کی—اور یہی کسی بھی ذمہ دار ریاست کا کام ہوتا ہے۔
یہاں ایک دلچسپ زاویہ فکاہیہ انداز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان، جو خود مہنگائی، بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں کے مسائل میں گھرا ہوا ہے، آج دنیا کے بڑے ممالک کے مسائل حل کرنے بیٹھا ہے۔ گویا ہم وہ میزبان ہیں جن کے اپنے گھر میں چائے کے کپ کم ہیں، مگر مہمانوں کے لیے بہترین چائے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ مگر یہی تو پاکستانی قوم کی خوبصورتی ہے۔۔مشکل حالات میں بھی مہمان نوازی اور وقار کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتی۔
پاکستانی عوام کی نفسیات بھی اس موقع پر دلچسپ ہے۔ ایک طرف فخر کا احساس ہے، دوسری طرف ایک ہلکی سی بے چینی بھی کہ کہیں یہ موقع ضائع نہ ہو جائے۔ مگر مجموعی طور پر ایک امید کا جذبہ غالب ہے۔ ایک یقین کہ یہ ملک آگے بڑھے گا، ترقی کرے گا اور دنیا میں اپنا مقام مزید مضبوط کرے گا۔اسلام آباد آج صرف ایک شہر نہیں، بلکہ ایک علامت بن چکا ہے—امن کی علامت، مکالمے کی علامت، اور امید کی علامت۔ یہاں ہونے والی بات چیت صرف دو ممالک کے درمیان نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام ہے کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ گفتگو ہے۔ہمیں اس موقع کو صرف ایک خبر کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے ایک موقع سمجھنا چاہیے۔۔اپنے ملک کو بہتر بنانے کا، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کا، اور دنیا کو یہ دکھانے کا کہ ہم ایک ذمہ دار قوم ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ لمحہ تاریخ کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ اور اس تاریخ میں پاکستان کا کردار نمایاں ہوگا۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں اپنی کامیابیوں پر فخر کرنا چاہیے اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے مزید محنت کرنی چاہیے۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد ۔۔۔ کیونکہ یہ ملک صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، ایک جذبہ ہے، اور ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر مشکل کے باوجود قائم ہے۔یہی وہ پاکستان ہے جو کبھی مشکلات سے گھبرا کر پیچھے نہیں ہٹتا، بلکہ ہر چیلنج کو ایک موقع میں بدل دیتا ہے۔ یہی وہ پاکستان ہے جو دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر نیت مضبوط ہو اور عزم پختہ ہو، تو کوئی بھی مشکل ناممکن نہیں رہتی۔
اسلام آباد کی یہ سفارتی گہما گہمی شاید چند دنوں میں ختم ہو جائے، میڈیا کی توجہ کسی اور طرف منتقل ہو جائے، مگر اس لمحے کی اہمیت ہمیشہ غالب رہے گی۔ یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستان نے دنیا کو ایک بار پھر یہ یاد دلایا کہ وہ صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک کردار ہے۔۔امن کا، مکالمے کا، اور امید کا۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد!!!
٭٭٭