وجود

... loading ...

وجود

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری

اتوار 19 اپریل 2026 مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری

منظر نامہ
۔۔۔۔۔
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

عالمی سیاست کے موجودہ منظرنامے میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے ۔ خطے میں برسوں سے جاری کشیدگی،
باہمی بداعتمادی اور مختلف طاقتوں کے درمیان تصادم نے نہ صرف علاقائی امن کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی معیشت اور سلامتی کے نظام کو بھی
مسلسل دباؤ میں رکھا ہے ۔ ایسے وقت میں جب جنگ اور تصادم کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ
میں لے لیتے ہیں، تو سفارتکاری کی اہمیت بہت زیادہ ہو جاتی ہے ۔حالیہ عرصے میں یہ تاثر تقویت اختیار کر رہا ہے کہ پاکستان نے ایک
فعال اور متحرک سفارتی کردار کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں حصہ لیا ہے ۔ اگرچہ اس نوعیت کے
معاملات ہمیشہ حساس اور پیچیدہ ہوتے ہیں اور ان پر حتمی رائے دینا قبل از وقت سمجھا جاتا ہے ، تاہم مختلف سطحوں پر ہونے والے رابطے اور
علاقائی دوروں نے اس تاثر کو جنم دیا ہے کہ اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے ۔
یہ امر اپنی جگہ اہم ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہوتی۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر مسلح تصادم کے بعد نہ صرف انسانی
جانوں کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ معاشی ڈھانچے ، سماجی نظام اور بنیادی انفراسٹرکچر بھی طویل عرصے تک متاثر رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی
دنیا میں بڑی طاقتیں بھی براہ راست جنگ کے بجائے مذاکرات، ثالثی اور سفارتی دباؤ کو ترجیح دینے لگی ہیں۔ اسی تناظر میں اگر کسی بھی
ملک کی جانب سے امن کے لیے کردار ادا کیا جائے تو وہ عالمی سطح پر توجہ حاصل کرتا ہے ۔
پاکستان کے حوالے سے حالیہ دنوں میں یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ اس نے مختلف علاقائی اور عالمی فریقین کے درمیان رابطوں میں سہولت
کاری کی کوششیں کی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد نے نہ صرف خطے کے اہم ممالک کے ساتھ روابط کو فعال رکھا ہے بلکہ
بڑے عالمی مراکزِ طاقت کے ساتھ بھی رابطوں کا ایک مسلسل سلسلہ جاری رکھا ہے ۔ اس سفارتی سرگرمی کو بعض حلقے ایک نئی اور متحرک خارجہ
پالیسی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس میں علاقائی استحکام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔اسلام آباد میں ہونے والے مختلف سطح کے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کو بعض مبصرین ایک پیش رفتی مرحلہ قرار دے رہے ہیں، جہاں مکمل معاہدوں کے بجائے اعتماد سازی اور ابتدائی مفاہمت پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے ۔ بین الاقوامی سفارتکاری میں یہ ایک عام اور اہم مرحلہ ہوتا ہے ، کیونکہ کسی بھی دیرپا معاہدے سے پہلے
فریقین کے درمیان اعتماد کا پیدا ہونا بنیادی شرط تصور کیا جاتا ہے ۔
اسی دوران یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ خطے کے مختلف ممالک اپنے اپنے تزویراتی مفادات کے تناظر میں سفارتی سرگرمیوں کو تیز کر رہے ہیں۔ بعض ریاستیں براہ راست مذاکرات کی طرف بڑھ رہی ہیں جبکہ کچھ ممالک پسِ پردہ سفارتی چینلز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بھی درمیانی یا ثالثی کردار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ، لیکن یہ کردار ہمیشہ محدود اور پیچیدہ ہوتا ہے کیونکہ ہر فریق اپنے قومی مفاد کو اولین ترجیح دیتا ہے ۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی سیاست میں اتحاد اور دشمنی کے تصورات مستقل نہیں رہتے ۔ آج کے حریف کل کے شراکت دار بن سکتے ہیں اور آج کے اتحادی کل اختلافات کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے سفارتکاری کو ایک مسلسل عمل سمجھا جاتا ہے جس میں کامیابی کا پیمانہ فوری نتائج نہیں بلکہ طویل المدتی استحکام ہوتا ہے ۔پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی اور سفارتی روابط کے حوالے سے جو تاثر ابھرتا ہے ، اسے بعض مبصرین ایک مربوط خارجہ حکمتِ عملی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی ملک کی داخلی سطح پر فیصلہ سازی تیزی اور ہم آہنگی کے ساتھ ہو تو وہ عالمی سفارتکاری میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے ۔ تاہم اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر کسی بھی ثالثی کردار کو قبول کروانا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب بڑے اور بااثر فریقین براہ راست ملوث ہوں۔
پاکستان کی فعال اور متوازن سفارتکاری کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں نمایاں طور پر کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، جس نے ممکنہ بڑی تباہی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ حالیہ حالات جہاں ایک بڑے تصادم کی جانب بڑھ رہے تھے ، وہاں پاکستان نے ذمہ دارانہ ثالثی کے ذریعے امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے ۔ انہی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کمرشل شپنگ کے لیے کھولنے کا اعلان کیا، جس سے نہ صرف
تجارتی سرگرمیاں بحال ہوئیں بلکہ عالمی معیشت کو بھی سہارا ملا۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے کامیاب دورئہ ایران، وزیرِاعظم شہباز
شریف کی قیادت، اور مؤثر مذاکراتی عمل نے اس پیش رفت میں اہم بنیاد فراہم کی، جبکہ ایرانی قیادت، بالخصوص صدر مسعود پزشکیان اور
وزیر خارجہ عباس عراقچی، نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے امن کی کوششوں میں مؤثر شراکت دار قرار دیا۔ لبنان اور اسرائیل کے
درمیان جنگ بندی میں بھی پاکستان کی کوششیں نمایاں رہیں، جس کا خیرمقدم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کیا۔ آبنائے ہرمز کی بحالی
کے فوری اثرات عالمی منڈی پر بھی مرتب ہوئے ، جہاں برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 12 فیصد کمی کے ساتھ مجموعی
طور پر خام تیل بھی تقریباً 10 فیصد سستا ہو گیا، جس کے باعث اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری اور معاشی سرگرمیوں میں مثبت رجحان دیکھنے
میں آیا۔ یہ تمام پیش رفت اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان کی سنجیدہ اور دور اندیش سفارتکاری نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت تبدیلی
لانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔
موجودہ صورتحال میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کسی بھی بڑے تنازع کے حوالے سے کوئی حتمی یا فیصلہ کن پیش رفت ہو چکی ہے ۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور مذاکراتی عمل کا تسلسل ایک مثبت اشارہ ہے ، جو اس بات کی علامت ہے کہ فریقین اب بھی بات چیت کے دروازے بند کرنے کے بجائے انہیں کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔عالمی برادری بھی عمومی طور پر ایسے ہر اقدام کو سراہتی ہے جو جنگ کے خطرات کو کم کرے اور مذاکرات کے راستے کو مضبوط بنائے ۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی مختلف بحرانوں سے گزر رہی ہے ، کسی نئے محاذ آرائی کا آغاز کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگا۔
آخر میں یہ بات اہم ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف سفارتی بیانات یا وقتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مسلسل، سنجیدہ اور باہمی اعتماد پر مبنی کوششوں کی ضرورت ہے ۔ اگر موجودہ سفارتی سرگرمیاں اسی سمت میں آگے بڑھتی ہیں تو یہ خطے کے لیے ایک مثبت تبدیلی کا آغاز ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن اگر یہ کوششیں وقتی ثابت ہوئیں تو خطہ ایک بار پھر عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے ۔اس تمام صورتحال میں دنیا کی نظریں یقینا خطے کی بڑی طاقتوں اور ان کے سفارتی فیصلوں پر مرکوز رہیں گی، کیونکہ آنے والے دنوں میں یہی فیصلے عالمی امن و استحکام کی سمت کا تعین کریں گے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔ وجود اتوار 19 اپریل 2026
آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری وجود اتوار 19 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری

ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر