وجود

... loading ...

وجود

آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔

اتوار 19 اپریل 2026 آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔

بے لگام / ستار چوہدری

اگر سرمایہ، ذہن کے ساتھ جڑ جائے، اگر پیسہ، محنت کا ہاتھ تھام لے ، اگر اعتماد، خوف پرغالب آ جائے ، تو کیا ہوگا؟ یقین کریں، اگر ہم
نے ایک دوسرے پر بھروسہ سیکھ لیا، تو چند سالوں میں وہ پاکستان جنم لے سکتا ہے جہاں لوگ صرف زندہ نہیں، خوشحال ہوں گے ۔ تو آؤ!
انقلاب لائیں۔۔انقلاب نعروں سے ،خاموشی سے جنم لیتے ہیں۔۔کارخانوں کی مشینوں میں، چھوٹے کاروباروں کی دکانوں میں۔۔اور
ان خوابوں میں جو پیسے کے بغیر ادھورے رہ جاتے ہیں۔۔سچ یہی ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا انقلاب بندوق سے نہیں، معیشت سے آتا
ہے ۔ جس قوم کی جیب مضبوط ہو، اس کی آواز خود بخود بلند ہو جاتی ہے ، مگر پاکستان۔۔ یہاں کہانی کچھ اور ہے ،یہاں غربت صرف ایک
لفظ نہیں، ایک حقیقت ہے ۔۔ چالیس فیصد سے زائد لوگ اس دلدل میں پھنس چکے ہیں۔۔اورکروڑوں ایسے ہیں جو زندگی نہیں، صرف
سانس لے رہے ہیں۔۔ ریاست۔۔؟چھوڑ دیں اس بحث کو، وہ اپنے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ۔ جن کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ، وہ خود
مسائل میں گھرے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ حکومت کیا کرے گی، سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں گے ؟
توآؤ، ایک نیا سوال اٹھاتے ہیں۔۔ اور شاید ایک نیا راستہ بھی نکالتے ہیں۔۔ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تضاد ہے ۔ ایک
طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس سرمایہ ہے ، مگر کوئی وژن نہیں ،ان کی دولت بینکوں میں پڑی سست روی سے بڑھ رہی ہے ، جیسے پانی ٹھہر
جائے تو بدبو دینے لگتا ہے ۔۔دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس خواب ہیں، آئیڈیاز ہیں، محنت کا جنون ہے ،مگر جیب خالی ہے ۔۔
سوچیں۔۔اگر یہ دونوں مل جائیں تو۔۔؟ اگر سرمایہ، ذہن کے ساتھ جڑ جائے ، اگر پیسہ، محنت کا ہاتھ تھام لے ، اگر اعتماد، خوف پر غالب آ
جائے ، تو کیا ہوگا؟ شاید یہی وہ لمحہ ہوگا جہاں سے اصل انقلاب جنم لے گا۔ یہ انقلاب سڑکوں پر نہیں ہوگا، یہ کاروباروں میں ہوگا، یہ جلسوں
میں نہیں ہوگا، یہ شراکتوں میں ہوگا، یہ نعروں سے نہیں، اعتماد سے آئے گا۔ ایک سرمایہ دار اگر ایک نوجوان کے آئیڈیا پر یقین کر لے ، ایک
ہنر مند اگر ایک سرمایہ کار کے ساتھ ایمانداری سے جڑ جائے ، تو ایک نہیں، ہزاروں کاروبار جنم لے سکتے ہیں۔ اور جب کاروبار بڑھیں گے ،
تو روزگار بڑھے گا، جب روزگار بڑھے گا، تو غربت خود بخود سکڑ جائے گی۔ یہ کوئی خواب نہیں، ایک آزمودہ حقیقت ہے ، دنیا کی بڑی
معیشتیں اسی اصول پر کھڑی ہوئیں ،”سرمایہ اور ذہن کا ملاپ ”۔۔۔ہمیں صرف ایک کام کرنا ہے ، اعتماد کرنا ہے ۔۔۔یقین کریں، اگر ہم
نے ایک دوسرے پر بھروسہ سیکھ لیا، تو چند سالوں میں وہ پاکستان جنم لے سکتا ہے، جہاں لوگ صرف زندہ نہیں، خوشحال ہوں گے ۔ تو آؤ،
نعروں سے نہیں، عمل سے انقلاب لائیں۔
بات صرف خواب دکھانے کی نہیں، خواب کو زمین پر اتارنے کی ہے ، کیونکہ ہر انقلاب کا سب سے مشکل مرحلہ اس کا آغاز ہوتا ہے ۔ ہم
نے مان لیا کہ سرمایہ اور ذہن کا ملاپ ہی اصل راستہ ہے ، مگر سوال یہ ہے کہ یہ ملاپ ہوگا کیسے ؟ کیونکہ یہاں مسئلہ صرف پیسے کی کمی نہیں،
مسئلہ اعتماد کی کمی ہے ۔ یہاں سرمایہ دار ڈرتا ہے کہ اس کا پیسہ ڈوب جائے گا، اور ہنر مند ڈرتا ہے کہ اس کی محنت لوٹ لی جائے گی، یعنی
دونوں کے پاس کچھ ہے ، اور دونوں ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں۔۔ تو کیا کریں؟ پہلا قدم یہ ہے کہ ہم تنہا کامیابی کے تصور کو دفن کریں،
یہ دور اکیلے ہیرو بننے کا نہیں، ٹیم بنانے کا ہے ، دنیا کی ہر بڑی کامیابی کے پیچھے ایک ٹیم ہوتی ہے ، ایک سوچنے والا، ایک سرمایہ لگانے والا،
ایک چلانے والا۔،ہمیں بھی یہی کرنا ہوگا، چھوٹے پیمانے سے آغاز کریں، دو لوگ ملیں، تین لوگ ملیں، ایک چھوٹا کاروبار شروع کریں۔
کوئی آن لائن سروس، کوئی پروڈکٹ، کوئی ہنر۔۔۔۔ آج کے دور میں مواقع کی کمی نہیں، صرف نیت اور نظم کی کمی ہے ۔ دوسرا قدم،تحریری
معاہدہ۔ جی ہاں، جذبات سے نہیں، اصولوں سے کام لینا ہوگا۔ہر شراکت واضح ہو،کس کا کتنا حصہ، کس کی کیا ذمہ داری، یہی وہ چیز ہے جو اعتماد کو مضبوط کرتی ہے ، ورنہ ہمارے ہاں اکثر کاروبار رشتوں کی طرح ٹوٹتے ہیں،بغیر کسی اصول کے ۔۔ تیسرا قدم،چھوٹا منافع، لمبا سفر۔
یہ سب سے کڑوی بات ہے ، مگر سچ یہی ہے ۔ ہم فوری امیر بننا چاہتے ہیں، اسی جلدی میں سب کچھ کھو دیتے ہیں۔ انقلاب صبر مانگتا ہے ۔
اور صبر وہ سرمایہ ہے جو کسی بینک میں نہیں ملتا۔ اگر ہم نے یہ تین اصول اپنا لیے۔ ۔ ” شراکت، شفافیت، اور صبر”۔۔تو یقین کریں، کوئی
طاقت ہمیں معاشی انقلاب لانے سے نہیں روک سکتی۔۔ اور پھر ایک دن، یہی چھوٹے کاروبار بڑے ادارے بنیں گے ، یہی عام لوگ
روزگار دینے والے بن جائیں گے ۔۔اور یہی خاموش محنت ایک شور مچاتا ہوا انقلاب بن جائے گی۔ یہ انقلاب حکومت کے ایوانوں سے
نہیں نکلے گا، یہ گلیوں، محلوں اور عام لوگوں کے فیصلوں سے جنم لے گا۔ تو اب فیصلہ آپ کا ہے ، انتظار کرنا ہے ۔۔یا آغاز کرنا ہے ۔۔؟
آؤ!! خود کو بدلیں، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں اور اس ملک میں وہ انقلاب لائیں جس کا ہم برسوں سے انتظار کر رہے ہیں۔اگر
سرمایہ، ذہن کے ساتھ جڑ جائے ، اگر پیسہ، محنت کا ہاتھ تھام لے ، اگر اعتماد، خوف پرغالب آ جائے ، تو کیا ہوگا؟ یقین کریں، اگر ہم نے
ایک دوسرے پر بھروسہ سیکھ لیا، تو چند سالوں میں وہ پاکستان جنم لے سکتا ہے جہاں لوگ صرف زندہ نہیں، خوشحال ہوں گے ۔ تو آؤ۔ ۔ ۔ ۔
انقلاب لائیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔ وجود اتوار 19 اپریل 2026
آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری وجود اتوار 19 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری

ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر