وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

هفته 18 اپریل 2026 ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

حاصل مطالعہ
عبد الرحیم

امریکہ کے قومی مفادات میںچار بڑی رکاوٹیں ٹرمپ کی لا پروائی کا براہ راست نتیجہ ہیں۔ یہ پسپائیاں عالمی جمہوریت کو کمزور کرتی ہیں جبکہ چین، روس اور دوسری جگہوں پر آمریتوں کا حوصلہ بڑھ رہا ہے۔ امریکہ اور دنیا کو سب سے ٹھوس دھچکا وہ بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے جو ایران نے آبنائے ہرمز کو ہتھیار بنا کر عالمی معیشت پر حاصل کیا ہے۔جنگ سے قبل ایرانی رہنمائوں کو خوف تھا کہ جہازوں کی ٹریفک روکنے سے نئی اقتصادی پابندیاں لگ جائیں گی اور فوجی حملہ ہو گا۔ لیکن جب حملہ ہوا تو ایران نے اپنے جہازوں کے سوا تقریباً تمام جہازوں کی ٹریفک کیلئے آبنائے ہرمز بند کردی۔ یہ پالیسی ایران کیلئے سستی ہے کیونکہ یہ زیادہ تر دھمکی ہے کیونکہ ایک ڈرون،میزائل یا چھوٹی کشتی ایک ٹینکر کو دھماکے سے اڑا سکتی ہے۔اس کے برعکس آبنائے ہرمز کو قوت سے دوبارہ کھولنے کیلئے بڑے فوجی آپریشن کے ضرورت ہوگی جس میں زمین پر فوجی دستے اتارنے اور طویل عرصے کیلئے ملک پرقبضے کی ضرورت ہوگی۔
دو ہفتہ کی جنگ بندی سے حالات جوں کے توں نہیں رہے کیونکہ ایران اب بھی جہازوں کی ٹریفک کو محدود کر رہا ہے اوراس نے قطعی امن ڈیل کے طور پر محصول راہداری وصول کرنے کی دھمکی دی ہے۔جنگ نے ایرانی رہنمائوں پر واضح کر دیا ہے کہ آبی راہ کو کنٹرول کرنا واقعی ممکن ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے سفارتی حصول مقصد کا ذریعہ جیت لیا ہے جس کا وہ6 ہفتہ قبل صرف خواب ہی دیکھ سکتا تھا۔ صورتحال میں تبدیلی کا واحد ذریعہ عالمی اتحاد ہوگا جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرے۔اس قسم کے اتحاد کی قیادت کیلئے ٹرمپ موزوں نہیں ہے۔
پرانے انتظامات کا خاتمہ ہو چکا !
ایران جنگ میں جنگ بندی کے دوران خلیجی امارات ایرانی میزائلوں سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگا رہی ہیں۔ اقتصادی دھچکا شدید رہا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے اور اب امریکہ نے بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔خطے کی حکومتیں سمندر پار حتمی وعدوں کی رفتار کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہیں جنہیں وہ جنگ کے دوران برقرار رکھ سکتی ہیں۔ سرمایہ کاری کے وعدووں کی بنیاد علاقائی استحکام پر ہے۔
امریکہ اور خلیجی ریاستوں کے دررمیان شراکت کا انحصار اس امر پر ہے کہ آیا طرفین اسے اسٹریٹیجک اثاثہ کے طور پر چلاتے ہیں یا کاروباری سہولت کے طورجو پہلے کبھی تھا۔ میزائلوں نے ایک اہم بات کی وضاحت کردی ہے کہ یہ تعلق خطرہ میں ہے بلکہ یہ اتنا اہم ہو چکا ہے ا سے آ ٹو پائلٹ(خود کام کر نے والا مشینی جہازران) پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
کیلیفورنیا لیتھئیم دھات کا سعودی عرب
ہر ترقی یافتہ ملک کو اپنی مینوفیکچرنگ مشین کو چالو حالت میں رکھنے کیلئے بڑے پیمانے پر خام مال درکار ہوتا ہے اور ایسی معدنیات کی بھی جو صنعتوں میں بنیادی خام مال کا درجہ رکھتی ہیں۔دنیا بھر میں کمیاب معدنیات کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔چین ،امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک کو زیادہ سے زیادہ ممالک میں کمیاب معدنیات درکار ہیں۔
لیتھئیم ایک کمیاب دھات ہے ۔کیلی فورنیا میں لیتھئیم دھات لوگوں کی زندگی بدل کر رکھ دے گا۔اس کے سالٹن سمندر میں یہ دھات اس قدر موجودہے جو بیٹریوں کو دوبارہ چارج کرنے کیلئے ضروری ہے۔یہ اتنی وسیع جھیل ہے جسے لیتھئیم کا سعودی عرب کہا جاسکتا ہے۔اس میں500 بلین ڈالر کا لیتھئیم موجود ہونے کا تخمینہ ہے جس سے اسمارٹ فونز،الیکٹرک کاروں اور الیکٹرک گرڈز کو برقی توانائی فراہم کی جا سکے گی۔یہ سفید سونے کی دھات امریکہ کے ایک غریب ترین جگہ پر جابز،ٹیکسوں کے صورت میں ڈالرز اور اقتصادی ترقی لائے گی۔
لیتھئیم کو نکالنے کیلئے تازہ پانی کی مستقل فراہمی ضروری ہے جس کے نتیجہ میں پانی کے کمیاب وسائل ختم ہوجائیں گے۔ سائنسدانوں کو طویل عرصے سے معلوم تھا کہ لیتھئیم سالٹن سمندر کے نیچے گرم،معدنیات سے مالامال سمندر کے پانی میں موجود ہے۔ لیکن اس سفید دھات کی اہمیت اس وقت سامنے آئی جب الیکٹرک کاروں، لیپ ٹاپس،ونڈ اور سولر توانائی کا عروج ہوا جنہیں اس کی ان کے الیکٹرک اسٹوریج سسٹمز کیلئے اس کی ضرورت ہے۔امریکہ کے پاس نویڈا میں صرف ایک فعال لیتھئیم کان ہے اوروہ تقریباً اپنی تمام لیتھئیم جنوبی امریکہ ،آسٹریلیا اور چین سے درآمد کرتا ہے۔ سالٹن سی ریجن دنیا کے سب سے بڑے لیتھئیم کے ذخائر میں سے ایک ہے جو عشروں تک پورے امریکہ کی طلب کو پورا کرسکے گا۔ علاقے میں تین کمپنیاں دھات نکالنے کیلئے کام کر رہی ہیں، لیکن کسی نے بھی ابھی تک تجارتی پیمانے پر کام کرنا نہیں شروع کیا ہے۔لیتھئیم کمپنیاںمل کر1000 تعمیراتی جابز اور700 مستقل آپریشن جابز پیدا کر سکتی ہیں۔ توقع ہے 2028 تک تجارتی پیمانے پر لیتھئیم کونکالا جا سکے گا۔
٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں وجود هفته 18 اپریل 2026
معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں

بھارت میں مزدوروں کا احتجاج وجود هفته 18 اپریل 2026
بھارت میں مزدوروں کا احتجاج

پتھرکا انسان وجود هفته 18 اپریل 2026
پتھرکا انسان

ہم صرف مردہ روحیں بن چکے ! وجود جمعه 17 اپریل 2026
ہم صرف مردہ روحیں بن چکے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر