وجود

... loading ...

وجود

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

اتوار 19 اپریل 2026 بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

ریاض احمدچودھری

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت میں مذہبی تعصب پر رپورٹ جاری کر دی۔امریکی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بھارت کا سیاسی نظام مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ دیتا ہے، حکمراں جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کے تعلقات امتیازی قوانین کی راہ ہموار کرتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ قومی اورر یاستی سطح کے قوانین بھارت میں مذہبی آزادی پر سخت پابندیاں لگاتے ہیں، 2014ء سے بی جے پی نے بھارت میں فرقہ وارانہ پالیسیوں کو نافذ کیا ہے۔امریکی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی بھارت کو ایک واضح ہندو ریاست بنانیکی کوشش کر رہی ہے، آر ایس ایس کا بنیادی مقصد بھی بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ بی جے پی کے لیے آر ایس ایس رضاکار دیتی ہے اور مودی بھی انہیں میں شامل ہیں۔
بی جے پی نے متنازع حلقہ بندیوں کے ذریعے لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت کی سازش تیار کر لی۔بی جے پی حکومت پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں 131واں آئینی ترمیمی بل 2026 (بل نمبر 107 آف 2026) پیش کر رہی ہی. لوک اور راجیہ سبھا کا مشترکہ اجلاس 16ـ18 اپریل کو بلایا گیا ہے۔بی جے پی حکومت بھارتی آئین کے آرٹیکل 81,82,170, 330 اور 332 میں ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے۔نئے بل میں 2020 کی حلقہ بندیوں کے دوران بڑھائی گئی نشستوں کی حد ختم کی جارہی ہے۔ بل کا مقصد حلقہ بندی کے عمل کو بی جے پی کے سیاسی مفادات کے حساب سے مکمل کرنا ہے۔بل میں لوک سبھا کی نشستیں بڑھا کر تقریباً 850 کرنے کی تجویز سے سیاسی طاقت کا توازن بی جے پی کے حق میں بدل جائے گا۔ مودی حکومت 2020میں بھی انتخابی فائدے کیلئے حلقہ بندیاں کر چکی ہے۔بی جے پی محض ہندو اکثریتی ریاستوں کی مدد سے دو تہائی اکثریت حاصل کر لے گی۔ بی جے پی دو تہائی اکثریت کو ہندوتوا کے مکمل نفاذ کے لئے استعمال کرے گی۔ سیاسی ماہرین کے نزدیک بل کی منظوری سے سیاسی طاقت کا توازن بگڑنے کا خدشہ ہے۔
بھارت کے ہندو مذہبی رہنماؤں نے بی جے پی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو ہندو ریاست بنانے کا اعلان کیا جائے۔ اس کیساتھ ساتھ عام ہندوئوں سے بھی پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھارت کو ہندو ریاست کہنا اور لکھنا شروع کر دیں، تو پھر حکومت کیلئے بھی اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیگی۔بھارت کے مذہبی رہنمائوں نے یہ مطالبہ اترپردیش کے مذہبی شہر پریاگ راج میں دوسرے دھرم سنسد میں اشتعال انگیز تقریریں کرتے ہوئے کیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس اجلاس میں ہندوستان کے لگ بھگ 400 چوٹی کے ہندو رہنما شریک تھے۔دھرم سنسد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ہندوؤں کا احترام نہ کرنے والے مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے۔جگت گرو سوامی نریندرانند سرسوتی کی صدارت میں منعقدہ سنت سمیلن میں منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ ہو سکتا ہے حکومت بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کا اعلان نہ کرے، اس لئے تمام ہندوؤں کو چاہیے کہ وہ ایسا لکھنا اور بولنا شروع کردیں تاکہ حکومت بھی ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے۔ایک دوسری قرارداد میں مذہب کی تبدیلی کو ملک سے غداری اور ایسا کرنے میں ملوث پائے جانے والوں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ بھی کیا گیا۔خیال رہے کہ پربودھانند نے ہردوار کے دھرم سنسد میں بھی انتہائی اشتعال انگیز تقریر کرتے ہوئے مسلمانوں کے مسئلے کے حتمی حل کے لئے ان کے قتل عام جیسی کارروائی کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے بھارتی پولیس، فوج اور سیاست دانوں سے مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے متحد ہو جانے کی اپیل بھی کی تھی۔سوامی نریندرانند سرسوتی نے ہندوؤں کو دیوی دیوتاؤں سے سبق لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ہتھیار اٹھا لیں۔پریاگ راج دھرم سنسد پر بھی ملک کے مختلف حلقوں نے سخت تنقید کی ہے۔ رکن پارلیمان اور آل بھارت مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے سنت سمیلن میں اشتعال انگیز تقریروں پرسیکولر جماعتوں کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ” پریاگ راج دھرم سنسد میں دارالعلوم دیوبند اور بریلی کے مدارس کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور وہاں موجود لوگوں نے انتہائی ذلت آمیز زبان استعمال کی۔”کیا حکومت اس کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی؟ کیا وزیر اعظم، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کچھ کہیں گے؟ کیا یہ ان کی بزدلی ہے یا انہوں نے کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟
ماضی کے ورق پلٹیں تو اسی اکھنڈ بھارت اور ہندوتوا نظریات کی وجہ سے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کا جینا حرام کیا گی اور مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم کے پہاڑ اور مظالم ڈھائے گئے۔ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی بصیرت نے آنے والے حالات و واقعات کو بھانپ لیا تھا اس لئے مسلمانان برصغیر پاک و ہند نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا ۔جہاں تک اکھنڈ بھارت کے نظریہ کی بات ہے تو بھارتی سوچ کے مطابق متحدہ ہندوستان ہی اصل ہندوستان ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں مختلف ممالک کا جنم ہوا لیکن اب انتہا پسند ہندو چاہتے ہیں کہ بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش، برما، میانمار، سری لنکا، مالدیپ پاکستان ختم کر کے ایک وسیع و عریض ہندوستان کا قیام عمل میں لایا جائے جس کے لیے جو بھی بن پڑے ، کیا جائے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔ وجود اتوار 19 اپریل 2026
آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری وجود اتوار 19 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری

ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر