... loading ...
ریاض احمدچودھری
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت میں مذہبی تعصب پر رپورٹ جاری کر دی۔امریکی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بھارت کا سیاسی نظام مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ دیتا ہے، حکمراں جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کے تعلقات امتیازی قوانین کی راہ ہموار کرتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ قومی اورر یاستی سطح کے قوانین بھارت میں مذہبی آزادی پر سخت پابندیاں لگاتے ہیں، 2014ء سے بی جے پی نے بھارت میں فرقہ وارانہ پالیسیوں کو نافذ کیا ہے۔امریکی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی بھارت کو ایک واضح ہندو ریاست بنانیکی کوشش کر رہی ہے، آر ایس ایس کا بنیادی مقصد بھی بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ بی جے پی کے لیے آر ایس ایس رضاکار دیتی ہے اور مودی بھی انہیں میں شامل ہیں۔
بی جے پی نے متنازع حلقہ بندیوں کے ذریعے لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت کی سازش تیار کر لی۔بی جے پی حکومت پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں 131واں آئینی ترمیمی بل 2026 (بل نمبر 107 آف 2026) پیش کر رہی ہی. لوک اور راجیہ سبھا کا مشترکہ اجلاس 16ـ18 اپریل کو بلایا گیا ہے۔بی جے پی حکومت بھارتی آئین کے آرٹیکل 81,82,170, 330 اور 332 میں ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے۔نئے بل میں 2020 کی حلقہ بندیوں کے دوران بڑھائی گئی نشستوں کی حد ختم کی جارہی ہے۔ بل کا مقصد حلقہ بندی کے عمل کو بی جے پی کے سیاسی مفادات کے حساب سے مکمل کرنا ہے۔بل میں لوک سبھا کی نشستیں بڑھا کر تقریباً 850 کرنے کی تجویز سے سیاسی طاقت کا توازن بی جے پی کے حق میں بدل جائے گا۔ مودی حکومت 2020میں بھی انتخابی فائدے کیلئے حلقہ بندیاں کر چکی ہے۔بی جے پی محض ہندو اکثریتی ریاستوں کی مدد سے دو تہائی اکثریت حاصل کر لے گی۔ بی جے پی دو تہائی اکثریت کو ہندوتوا کے مکمل نفاذ کے لئے استعمال کرے گی۔ سیاسی ماہرین کے نزدیک بل کی منظوری سے سیاسی طاقت کا توازن بگڑنے کا خدشہ ہے۔
بھارت کے ہندو مذہبی رہنماؤں نے بی جے پی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو ہندو ریاست بنانے کا اعلان کیا جائے۔ اس کیساتھ ساتھ عام ہندوئوں سے بھی پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھارت کو ہندو ریاست کہنا اور لکھنا شروع کر دیں، تو پھر حکومت کیلئے بھی اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیگی۔بھارت کے مذہبی رہنمائوں نے یہ مطالبہ اترپردیش کے مذہبی شہر پریاگ راج میں دوسرے دھرم سنسد میں اشتعال انگیز تقریریں کرتے ہوئے کیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس اجلاس میں ہندوستان کے لگ بھگ 400 چوٹی کے ہندو رہنما شریک تھے۔دھرم سنسد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ہندوؤں کا احترام نہ کرنے والے مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے۔جگت گرو سوامی نریندرانند سرسوتی کی صدارت میں منعقدہ سنت سمیلن میں منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ ہو سکتا ہے حکومت بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کا اعلان نہ کرے، اس لئے تمام ہندوؤں کو چاہیے کہ وہ ایسا لکھنا اور بولنا شروع کردیں تاکہ حکومت بھی ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے۔ایک دوسری قرارداد میں مذہب کی تبدیلی کو ملک سے غداری اور ایسا کرنے میں ملوث پائے جانے والوں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ بھی کیا گیا۔خیال رہے کہ پربودھانند نے ہردوار کے دھرم سنسد میں بھی انتہائی اشتعال انگیز تقریر کرتے ہوئے مسلمانوں کے مسئلے کے حتمی حل کے لئے ان کے قتل عام جیسی کارروائی کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے بھارتی پولیس، فوج اور سیاست دانوں سے مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے متحد ہو جانے کی اپیل بھی کی تھی۔سوامی نریندرانند سرسوتی نے ہندوؤں کو دیوی دیوتاؤں سے سبق لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ہتھیار اٹھا لیں۔پریاگ راج دھرم سنسد پر بھی ملک کے مختلف حلقوں نے سخت تنقید کی ہے۔ رکن پارلیمان اور آل بھارت مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے سنت سمیلن میں اشتعال انگیز تقریروں پرسیکولر جماعتوں کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ” پریاگ راج دھرم سنسد میں دارالعلوم دیوبند اور بریلی کے مدارس کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور وہاں موجود لوگوں نے انتہائی ذلت آمیز زبان استعمال کی۔”کیا حکومت اس کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی؟ کیا وزیر اعظم، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کچھ کہیں گے؟ کیا یہ ان کی بزدلی ہے یا انہوں نے کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟
ماضی کے ورق پلٹیں تو اسی اکھنڈ بھارت اور ہندوتوا نظریات کی وجہ سے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کا جینا حرام کیا گی اور مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم کے پہاڑ اور مظالم ڈھائے گئے۔ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی بصیرت نے آنے والے حالات و واقعات کو بھانپ لیا تھا اس لئے مسلمانان برصغیر پاک و ہند نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا ۔جہاں تک اکھنڈ بھارت کے نظریہ کی بات ہے تو بھارتی سوچ کے مطابق متحدہ ہندوستان ہی اصل ہندوستان ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں مختلف ممالک کا جنم ہوا لیکن اب انتہا پسند ہندو چاہتے ہیں کہ بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش، برما، میانمار، سری لنکا، مالدیپ پاکستان ختم کر کے ایک وسیع و عریض ہندوستان کا قیام عمل میں لایا جائے جس کے لیے جو بھی بن پڑے ، کیا جائے۔
٭٭٭