... loading ...

سندھ حکومت نے کافی تاخیر اور پش وپیش کے بعد اگرچہ رینجرز کے قیام اور خصوصی اختیارات میں نوے روز کی توسیع کا اعلان تو کردیا ہے مگر یہ تنازع ابھی تک برقرار ہے کہ رینجرز کو اختیارات پورے سندھ کے لیے دیے گئے یا صرف کراچی کے لیےدیئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے رینجرز کے قیام اور خصوصی اختیارات کی سمری پر دستخط کردیئے ہیں۔ جس کےتحت رینجرز کے قیام میں ایک سال اور خصوصی اختیارات میں نوے دنوں کی توسیع کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کی توثیق شدہ سفارشات طریقہ کار کے تحت اگلے مرحلے میں اب وزارت داخلہ اور وفاقی حکومت کو بھیجی جائیں گی، جہاں سے رینجرز کے قیام اور اختیارات کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں یہ ابہام موجود ہے کہ رینجرز کو اختیارات پورے سندھ کے لیے دیئے گئے یا صرف کراچی کے لیے دیئے گئے ہیں۔ تاہم وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر قانون مرتضیٰ وہاب نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ آپریشن کراچی میں ہورہا ہے سندھ میں نہیں۔ اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ سندھ حکومت رینجرز کو پورے سندھ میں نہیں بلکہ صرف کراچی میں اختیارات دے رہی ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز کو سیاسی فٹبال بننے نہیں دیں گے، رینجرز صرف کراچی میں نہیں بلکہ پورے سندھ میں ہیں اس لیے نوٹیفکیشن صوبہ بھر کے لیے ہوتا ہے۔
وفاقی وزیرداخلہ، سندھ کے معاملے میں وفاقی حکومت کی طرف سے اس مسئلے کے ایک چیمپئن کےروپ میں اکثر سامنے آتے ہیں۔ مگر وہ اس معاملے میں خود وفاقی حکومت تک متعین ومحدود کردار کے حوالے عدم فعالیت کا کوئی جواب نہیں دیتے۔ پاکستان کا حاشیہ بردار میڈیا بھی اس معاملے میں چپ سادھے رہتا ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے دومعاملات میں براہ راست یہ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ بتائیں کہ اس معاملے میں اُن کی وزارت کا موقف کیا ہے۔ مثلاًپروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ (پوپا)دو سال کے لیے نافذ العمل تھاجو 14 جولائی کو ختم ہو گیا۔ اگر تاحال نیشنل ایکشن پلان، آپریشن ضرب عضب، آپریشن کومبو اور کراچی یا سندھ آپریشن جاری ہے تو پھر اس کے لیے درکار خصوصی اختیارات کا حامل ایکٹ پوپا اپنی موت آپ کیوں مر گیا؟کیا پوپا نے اپنے تمام مقاصد حاصل کرلیے ہیں اور اب اس کی ضرورت نہیں؟ اس معاملے میں وزیرداخلہ نے چپ کا روزہ کیوں رکھا ہوا ہے؟ اس ضمن میں خود رینجرز کے اختیار ات سےبراہ راست متعلق ایک اور اختیار بھی 11 ڈبل ای ڈبل ای کا تھا جو وفاقی حکومت نے اُنہیں دے رکھا تھا اور جس سے صوبائی حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ 11 ڈبل ای ڈبل ای کے تحت ملزمان کو نوے روز تک تحویل میں رکھنے کا رینجرز کو خصوصی اختیار دیا گیا تھا، جو 15 جون کو ختم ہو گیا۔ اس پر وفاقی حکومت اوراُس کے واحد بااختیار وزیرداخلہ چودھری نثار نے تاحال کوئی موقف ظاہر نہیں کیا۔ سوال یہ پید اہوتا ہے کہ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار صرف رینجرز کے قیام اور توسیع ِ اختیارات پر ہی صرف سندھ حکومت کے کردار ( جو واقعتاً قابل تنقید بھی ہے) پر ہی صرف رائے زنی کرنے پر کیوں اکتفا کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر اپنے وفاقی اختیارات کی عدم تجدید پر کیوں خاموش ہیں؟ یہ رویہ سندھ میں ایک خاص طرح کی تشریح کا باعث بنتا ہے۔ چنانچہ سندھ کے مختلف وزراء نے ایک سے زائد مرتبہ اس پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی ذرائع ابلاغ سے یہ سوال کیا ہے کہ وہ ان معاملات پر وفاقی حکومت کی لاتعلقی اور خاموشی پر کوئی سوال کیوں نہیں اُٹھاتے؟
اس سے قطع نظر سندھ حکومت نے جس طرح کے اختیار ات سندھ کی سیاست کے پیش نظر رینجرز کو کاغذ پر دیئے جاسکتے ہیں، وہ دے دیے ہیں۔ رینجرز نے ان ہی اختیارات کی بناء پر جب بھی سندھ میں جو کاررائی کرنا چاہی ہے، ہو کی بھی ہے۔ اور پیپلزپارٹی کی حکومت اس پر جس طرح کی بیان بازی کر سکتی ہے، وہ بھی کی ہے۔ لہذا یہ معاملہ پرانے طریقے سے حل کرتے ہوئے پرانے انداز سے ہی جاری رکھنے کا ملفوف ثبوت مہیا کرتا ہے۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...