... loading ...

آٹھ سالہ سائیں سرکار اور پیپلزپارٹی کے پرکھوں کی نشانی قائم علی شاہ کو بآلاخر پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور اگلے چوبیس یا اڑتالیس گھنٹوں میں اس کا باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے سندھ میں مسلسل بگڑتے حالات اور عسکری حلقوں کےساتھ بات چیت میں مسلسل دشواریوں کے باعث اب یہ طے کر لیا ہےکہ سندھ میں وزارت اعلیٰ کا منصب قائم علی شاہ سے لے کر سندھ کے موجودہ وزیر خزانہ مراد علی شاہ کے سپرد کردیا جائے۔ اس ضمن میں صلاح مشورے مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کی دبئی آمد کے بعد ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اس فیصلے پر عمل درآمد کر لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی دبئی آمد تین روز قبل متوقع تھی مگر اِسے ناگزیر وجوہات کی بناء پر تین روز کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ باخبر ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت یہ چاہتی تھی کہ اُن کی دبئی آمد سے قبل رینجرز کے اختیارات کی توسیع اور اسد کھرل کے معاملات کا پہلے حل ڈھونڈ لیا جائے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت نے اب رینجرز کے اختیارات سے لے کر اسد کھرل تک تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے کر لیے ہیں۔ سندھ کے مختلف وزراء کی سرگرم شرکت اور کوششوں سے اب رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ اور اس معاملے کو پہلے سے موجود رینجرز کے اختیارات میں حدود وقیود کو زیادہ وضاحت سے بیان کرکے نوٹیفیکیشن نکالا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت رینجرز کےاختیار ات کو کراچی تک محدود دیکھنا چاہتی ہے۔ اور وہ اِسے رینجرز کے قیام میں مزید توسیع کے نوٹیفیکیشن میں زیادہ صراحت سے بیان کر نا چاہتی ہے۔ مزید براں رینجرز کے کراچی میں اختیارات کا احاطہ چار سنگین جرائم تک کرنا چاہتی ہے۔ جن میں دہشت گردی، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کے جرائم شامل ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سے کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے ایک ملاقات کی تھی۔ جس میں بعد ازاں سندھ کے دیگر وزراء بشمول وزیرداخلہ سہیل انور سیال، وزیرخزانہ مراد علی شاہ اور مشیر قانون مرتضیٰ وہاب بھی شریک ہو ئے تھے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق مذکورہ ملاقات میں اسد کھرل سے لے کر رینجرز کے اختیارات میں توسیع تک تمام معاملات کو حل کر لیا گیا تھا۔ اسد کھرل جو پہلے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں تھا۔ دراصل ذرائع ابلاغ کی تمام رپورٹوں کے برعکس اسد کھرل نے ٹندوالہ یار سے اپنی گرفتاری خود پیش کی تھی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ اعلیٰ درجے کی بدعنوانیوں میں تو ملوث ہیں مگر رینجرز کو حاصل جن جرائم پر اختیارات ہیں اُن میں اُس کا نام شامل کرنا خاصا دشوار ہے۔ چنانچہ ذرائع ابلاغ کی تمام رپورٹوں کے برعکس قانون نافذ کرنے والے اداروں نے زیادہ مناسب یہی سمجھا کہ اس معاملے پر اصرار کرنے کے بجائے اِسے پولیس کی تحویل میں دینے میں کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ یہ مسئلہ گزشتہ روز نہایت خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا اور اسد کھرل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکھر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ جہاں سکھر پولیس نے اُسے سکھر کی سیشن کورٹ میں پیش کرکے جوڈیشل مجسٹریٹ آدرش انور سے 14 روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اُس کی جیل کسٹڈی کے احکامات دے دیئے ہیں۔ اس طرح اسد کھرل کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو چکاہے۔

جہاں تک رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ ہے تو وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ تفصیلی ملاقات میں کورکمانڈر کو ایک مرتبہ پھر سندھ کے وزراء نے اپنا تفصیلی موقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ سندھ حکو مت کو رینجرز کے سندھ میں قیام اور توسیع اختیارات پر کوئی اعتراض نہیں مگر وہ ان کارروائیوں کو قانونی اختیارات کے احاطے میں دیکھنے کی خواہش مند ہے۔ مذکورہ اجلاس میں تفصیلی گفتگو کے بعد کورکمانڈر پر واضح کیا گیا تھا کہ رینجرز کے قیام میں توسیع کر دی جائے گی۔ اور یہ کام اگلے دوتین روز میں کر دیا جائے گا۔ سندھ حکومت دراصل یہ دوتین دن دبئی میں سابق صدر آصف علی زرداری کے انتظار کے باعث لینا چاہ رہی تھی۔ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے نوٹیفیکیشن کی تیاری کے لیے سابق وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کو بھی دبئی میں طلب کرلیا ہے۔ جہاں وہ صلاح مشورے سے ایک ایسے نوٹیفیکشن کو نکالنا چاہ رہے ہیں جس کے ذریعے جہاں ایک طرف رینجرز کے سندھ میں قیام اور اختیارات کامسئلہ حل ہوجائے ، وہیں سندھ حکومت کے تحفظات اور رینجرز کے اختیارات سے تجاوز کے متعلق پایا جانے والا ابہام بھی مستقل طور پر دور ہوجائے۔
باخبر ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری کی دبئی میں اصل مصروفیت پھر بھی رینجرز کے اختیارات میں توسیع یا قیام کا مسئلہ نہیں۔ بلکہ وہ اس مرتبہ سندھ کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے فیصلے پر حتمی عمل درآمد کے لیے دبئی میں قیام کریں گے۔ جس کے لیے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی دبئی تشریف لے جاچکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت ملک میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے اپنی سیاسی تیاریوں کے لیے اب ایک سرگرم سیاسی قیادت کی خواہاں ہے جو اُن کے نزدیک مراد علی شاہ کی شکل میں موجود ہے۔ قائم علی شاہ کی تبدیلی اور مراد علی شاہ کے سرپر وزارت اعلیٰ کا ہما سجانے کے دو مقاصد بیان کیے جارہے ہیں۔ اولاً :اگلے متوقع انتخابات سے پہلے سندھ حکومت کی کارکردگی بہتر بنا نا ۔ ثانیاً: سندھ میں رینجرز اور عسکری اداروں کے ساتھ معاملات میں نمایاں بہتری لانا۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...