وجود

... loading ...

وجود

ایف آئی اے کی طرف سے ایم کیوایم کو "را" کی فنڈنگ کے الزام پر تحقیقات شروع

بدھ 09 مارچ 2016 ایف آئی اے کی طرف سے ایم کیوایم کو

MQM

اگر چہ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے ایم کیوایم کے باغی رہنما مصطفیٰ کمال کی جانب سے ایم کیوایم پر عائد الزامات کو لفاظی قرار دیا تھا۔ مگر دوسری طرف وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کو کہا تھا کہ وہ سرفراز مرچنٹ کی جانب سے ایم کیوایم اور اس کی اعلیٰ قیادت پر بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے فنڈز ملنے کے الزامات کی تحقیقات کرے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے اس جانب واضح پیش رفت کرتے ہوئے لندن میں سرفراز مرچنٹ سے رابطہ کر لیا ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کے اہم ملزمان میں شامل سرفراز مرچنٹ کو ایف آئی اے نے اپنا بیان ریکارڈ کرانے اور شواہد کے لیے طلب کیا ہے۔ ایف آئی اے کی ایک ٹیم ایم کیو ایم کے خلاف منی لانڈرنگ، غیر قانونی ہتھیاروں کی خریداری اور را سے ملنے والے فنڈزکے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزارت داخلہ نے ملک کے تمام سلامتی کے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کو کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے موجود تمام ثبوت اور شواہد کاایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ تبادلہ کرے۔ وزارت داخلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کے مکمل نتائج اور رپورٹ کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ اس معاملے کو کس ملک کے سامنے کس سطح پر اُٹھایا جائے۔

سرفراز مرچنٹ نے جیو کے ایک ٹی وی پروگرام”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں یہ دعوی کیا تھا کہ 2014 میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کو الطاف حسین کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران میں ہتھیاروں سے متعلق کچھ فہرستیں ملی تھیں جس کی بابت اسکاٹ لینڈ یارڈ نے اُن سے پوچھ گچھ کی تھی۔ سرفراز کے مطابق لندن پولیس نے اُنہیں الطاف حسین کی رہائش گاہ سے ملنے والی ہتھیاروں کی ایک فہرست دکھاتے ہوئے یہ پوچھا تھا کہ کیا ان ہتھیاروں کی قیمت اُنہوں نے ادا کی یا پھر وہ اس فہرست پر موجود دستخطوں سے آگاہ ہیں۔ سرفراز مرچنٹ کے مطابق فہرست میں موجود ہتھیاروں کے لیے 65 ہزار پاؤنڈ ادا کیے گیے تھے۔ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس نوع کی متعدد فہرستیں لندن پولیس کے پاس محفوظ ہیں۔

سرفراز مرچنٹ کے ٹی وی انٹرویو میں دوسرا اہم اور حساس پہلو ایم کیوایم کے بھارت کے ساتھ مبینہ روابط کے حوالے سے تھا۔ سرفراز مرچنٹ نے اس حوالے سے کہا تھا کہ پولیس نے انہیں ایک دستاویز دی ہے جس میں ایم کیو ایم کو را کی فنڈنگ کے ٹھوس شواہداور محمد انور اور طارق میر کے را سے رقم لینے اعترافی بیان موجود تھے۔ سرفراز نے اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد یہ بھی کہا کہ اُنہیں یہ جان کر دھچکا پہنچا کہ ایک بھارتی کمپنی دبئی میں ایم کیو ایم کے کھاتوں میں رقوم منتقل کر رہی تھی۔اپنے ٹی وی انٹرویو میں سرفراز مرچنٹ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے 2013 کے انتخابات کے دوران میں ایم کیو ایم کو ڈھائی لاکھ پاؤنڈز اپنے اس خیال کے تحت ادا کیے تھے کہ وہ پارٹی کی مدد کررہے ہیں۔

سرفراز مرچنٹ کے انٹرویو سے یہ بات معلوم نہیں ہو سکی تھی کہ لندن پولیس منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے دوران میں اُنہیں یہ معلومات کیوں دے رہے تھی؟ اور لندن پولیس کو ایسی کیا ضرورت تھی کہ وہ ایم کیوایم کو را سے ملنے والے فنڈز کے اعترافی بیانات سرفراز مرچنٹ کے حوالے کردیں۔ اُن کے انٹرویو سے یہ بھی واضح نہیں ہو رہا تھا کہ اُنہوں نے ایم کیوایم سے اپنے روابط یا اُن کی امداد سے ہاتھ کب کھینچا تھا؟ ایم کیوایم کے را سے مبینہ روابط کا اُنہیں ٹھیک ٹھیک اندازا لندن پولیس سے تحقیقات میں ہی ہوا ، یا وہ اس بارے میں پہلے سے بھی کچھ جانتے تھے؟ سرفراز مرچنٹ کا مذکورہ انٹرویو کا ایک مقصد بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک صرف اتنا تھا کہ وہ لندن میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات سے جان چھڑانے کے لیے ایم کیوایم سے راستہ مانگ رہے تھے جو اُنہیں نہیں مل رہا تھا ۔دیکھنا یہ ہے کہ سرفراز مرچنٹ ایف آئی اے کی تحقیقات میں کتنے معاون ثابت ہوتے ہیں؟ یاپھر وہ اس پوری مشق کو اپنے حق میں لندن میں جاری تحقیقات سے دامن چھڑانے کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب رہتے ہیں؟ دوسری طرف ایف آئی اے کے لیے بھی یہ معاملہ ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ایک طویل عرصے سے ایف آئی اے کی تحقیقات ایک انتقامی ذہن سے پھوٹنے والی روش بن چکی ہے۔ جس پر قومی حلقوں میں ایک واضح عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ اب ایف آئی اے کو ایک حساس معاملے کی تحقیقات کرنی ہے جو کروڑوں لوگوں کے ذہنی اور جذباتی تعلق کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اور جس کے سیاسی سطح پر انتہائی اہم اثرات مرتب ہونے ہیں۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر