... loading ...

بول میڈیا گروپ کو ذرائع ابلاغ کی ایک مافیا اور حکومت نے مل کر جس طرح نشانہ بنایا ہے، وہ دنیا میں اپنی مثال آپ واقعہ ہے۔ اس ضمن میں بول سے متعلق اُن تمام حقائق کو ذرائع ابلاغ میں لانے سے روکا جا رہا ہے۔ سندھ اسمبلی نے گزشتہ دنوں ایک قرارداد کے ذریعے اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان کے سب سے بڑے اُبھرنے والے میڈیا گروپ کو نوازحکومت کی اور اس کے مختلف ماتحت اداروں کے ہاتھوں غیر قانونی ہتھکنڈوں اور متنازع طریقوں کے ذریعے جبراً بند کیا جارہا ہے۔اس قرارداد کا ایک نکتہ خاص طور پر توجہ کے لائق ہے جس میں وفاق کی ایک اکائی وفاقی حکومت کے اقدامات کو اس تناظر میں دیکھ رہی ہے کہ نواز حکومت جان بوجھ کر کراچی کی صنعتوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بدقسمتی سے یہ نواز شریف کے مختلف ادوار حکومت کا ایک تیکھا سچ رہا ہے کہ جب بھی وہ برسر اقتدار آئے تواُن کے مختلف اقدامات کے باعث کراچی میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑتی رہیں۔ حالیہ مہینوں میں یہ معاملہ زیادہ بھیانک بن کر سامنے آرہا ہے۔ بول میڈیا گروپ کو نشانہ بناتے ہوئے یہ پہلو کراچی کے مختلف حلقوں میں اضافی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
سندھ اسمبلی کی قرارداد کے حوالے سے یہ پہلو نہایت اہم ہے کہ اِس اہم ترین قرارداد کو ذرائع ابلاغ نے مکمل نظرانداز کردیا ۔ وہ ذرائع ابلاغ جوسندھ اسمبلی میں کسی کے ہاتھ کی سگریٹ، کسی کی طنزیہ ہنسی، کسی کے اشارے، کسی کے موبائل فون کی حرکت، کسی کے پرس کی چھپن چھپائی اور معمول کی جمائی تک کو موضوع بحث بناتے ہیں ، اُنہیں سندھ اسمبلی کے اصل کام اور قرارداد سے کوئی دلچسپی ہی نہیں۔ مرکزی ذرائع ابلاغ کی یہ شرمناک بے حسی اور ذلت آمیز جانب داری خود صحافی برادری کے سروں کو شرم سے جھکا رہی ہے۔ سندھ اسمبلی کی قرارداد بول میڈیا کے حوالے سے بعض سنجیدہ پہلوؤں کو اجا گر کر رہی ہے۔
سندھ اسمبلی نے ملک میں سب سے بڑے انفرا اسٹرکچر کے حامل تیزی سے ابھرتے ہوئے پاکستان کے سب سے بڑے بول میڈیا گروپ کو نواز حکومت اور اس کے مختلف ماتحت اداروں کے ہاتھوں غیر قانونی ہتھکنڈوں اور متنازع طریقوں کے ذریعے جبراً بند کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سندھ اسمبلی بول کے گلا گھونٹے جانے کے عمل کو آزادی صحافت اور آزاد میڈیا پر حملے کی نظر سے دیکھتی ہے جیسا کہ یہ عمل پاکستان کے آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ وزارت داخلہ، وزارت اطلاعات اور پیمرا کے ہاتھوں نواز حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں بول سے وابستہ 22 سو سے زیادہ افراد اپنے روز گار سے محروم ہو چکے ہیں، جب کہ بول میڈیا گروپ کے انفرا اسٹرکچر کے عدم استعمال کے باعث کروڑوں روپے کی مالیت کا ساز و سامان بھی دائو پر لگا ہوا ہے۔
سندھ اسمبلی کی توجہ اس امر پر سنجیدگی سے مرکوز ہے کہ وزارت داخلہ نے کس طرح بول میڈیا گروپ کے مالک کو این او سی دینے کے بعد اسے یک طرفہ اور انتقامی کارروائی کی بنیاد پر معطل کر دیا۔ اس عمل کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی جو سرمایہ کاروں کے اعتماد سمیت میڈیا صنعت کے منہ پر بھی ایک طمانچہ ہے۔
سندھ اسمبلی اس امر کی بھی مذمت کرتی ہے جس کے تحت وزارت اطلاعات اور پیمرا نے گزشتہ سال بول نیوز کی نشریات کو کیبل پر چلنے سے روکنے کے لیے اشتراک کیا تھا، اور بعد ازاں بول نیوز کے ساتھ بول انٹرٹینمنٹ کا بھی لائسنس معطل کر دیا۔
بول میڈیا گروپ کے مالک کے بنک اکائونٹس منجمد کیے جانا بھی ایک غیر قانونی عمل ہے جس کے باعث 22 سو سے زائد صحافی اپنی تن خواہوں سے محروم ہیں۔
سندھ اسمبلی مطالبہ کرتی ہے کہ :
1- وزارتِ داخلہ فوری طور پر بول میڈیا مالکان کو سیکورٹی کلیرینس جاری کرے۔
2- بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ کو نشریات شروع کرنے کی اجازت دی جائے اور ان کے لائسنسز کی معطلی کا فیصلہ بھی واپس لیا جائے جس کے نتیجے میں ان تمام افراد کو روزگار حاصل ہو گا جو یا تو تا حال بے روز گار ہیں یا مجبوراً انڈسٹری میں مقررہ تن خواہوں سے نہایت کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ بول میڈیا گروپ کے مالک کے اکائونٹس بحال کیے جائیں۔
3- سندھ اسمبلی کی نظر خاص طور پر اس بات پرمرتکز ہے کہ نواز حکومت جان بوجھ کر کراچی کی صنعتوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں دیگر صنعتوں کو بھی اسی انداز میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ نواز حکومت کی صنعت دشمن اور سرمایہ کاری مخالف ان اقدامات کا اب خاتمہ ہونا چاہیے۔
4- سندھ اسمبلی مطالبہ کرتی ہے کہ ان لوگوں کی خلاف تفتیش و کارروائی کی جائے جنہوں نے بول میڈیا گروپ کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں کیں جن کے نتیجے میں اس گروپ کو اربوں روپے کے نقصانات ہوئے۔
دیکھنا یہ ہے یہ وفاقی حکومت سندھ اسمبلی کی اس قرارداد پر خاطر خواہ توجہ دیتی ہے یا پھر اُن شکوک کو سچ ثابت کرتی ہیں جو کراچی کے کاروباری حلقوں کو نواز حکومت پر ہیں۔ اور بول میڈیا گروپ کے حوالے سے نوازحکومت اور جنگ کے مالک میر شکیل الرحمان کے درمیان پائے جانے والی ایک مکروہ تال میل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...
پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...
محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...
شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...
چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...
عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...
سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...
رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...
وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...
لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...
مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...
صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...