وجود

... loading ...

وجود

جواہر لعل یونیورسٹی: آزادی پسند طلبا کے خلاف پولیس ایکشن

پیر 15 فروری 2016 جواہر لعل یونیورسٹی: آزادی پسند طلبا کے خلاف پولیس ایکشن

JNU-Delhi

اپنا حق آزادی مانگنے کے جرم میں 11فروری 1984ء اور 9فروری 2013ء کو مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند محمد مقبول بٹ ؒ اور محمد افضل گورو ؒ کو تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی اور ان کی لاشوں کو وہیں جیل میں دفنا کے یہ سمجھا گیا تھا کہ کشمیری قوم کا جنون آزادی سرد ہوگا اور آزادی کی تحریک نہ صرف کمزور بلکہ خوف و دہشت کی شکار ہو کر ختم ہوجائے گی اور کشمیری قوم پکے ہوئے پھل کی طرح بھارت کی جھولی میں گرے گی۔ آر ایس ایس اور مودی سرکار گھر واپسی کے نام پر کشمیریوں کے ما تھے پر لال ٹیکا سجانے کا خواب بھی دیکھ رہی ہے ۔لیکن خود بھارت کے اندر اور وہ بھی بھارت کے اعلیٰ ترین علمی ادارے جواہر لعل یونیورسٹی میں طلبہ مقبول بٹ اور افضل گورو کی حراستی شہادتوں کو افسوس ناک قرار دے رہے ہیں اور اس پر پُر امن احتجاج بھی کررہے ہیں ۔جمہوری نظریات کا دعوی ٰ کرنیوالی سرکار پُر امن احتجاج کو بھی کچل دیتی ہے۔ پُرامن طلبہ پر غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کرتی ہے ۔حالات و واقعات اس امر کی طرف نشاندہی کررہے ہیں کہ وقت آرہا ہے کہ بے گنا ہوں کے لہو سے ہاتھ رنگنے والے اب تاریخ کے کٹہرے میں مجرموں کی حثیت سے پیش ہونے لگے ہیں۔ یو نیورسٹی طلبہ پر پولیس ایکشن کی مذمت ہر طرف سے ہورہی ہے ۔بھارتی سیا ست دان ،اساتذہ،دانشور ایک صفحے پر جمع ہورہے ہیں ۔ہندوتا اور زعفرانی کلچر کے حامی تنہا ہوتے جارہے ہیں ۔

afzal-guru

موقر بھارتی اخبار ن انڈین ایکسپریس نے جواہر لعل یو نیورسٹی میں بھارتی پولیس کے کریک ڈاون اور گرفتاریوں کو بلا جواز اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے14فروری کے شمارے میں اپنے اداریئے میں واضح کیا ہے کہ یہ گرفتاریاں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اورسمریتا ایرانی کے ا ن بیانات کے بعد عمل میں آئیں جن میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسا شخص جو بھارت مخالف نعرے اور ملکی سالمیت کے خلاف کوئی حرکت کرے کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائیگا۔ اور بھارتی قوم بھارت ماتا کے خلاف کوئی بھی توہین آمیز جملہ برداشت نہیں کرے گی۔ اخبار کے مطا بق یو نیورسٹی کا معاملہ اگر اسٹوڈنٹس کمیو نٹی حل نہ کرسکتی تو وائس چا نسلر اس معا ملے کو خود حل کرلیتا۔بھارت کے اور بھی بہت زیادہ مسائل ہیں ،وزراء کو اس چھوٹے سے مسئلے میں اتر نے کی ضرورت نہیں تھی۔ پولیس ایکشن سے مودی حکومت نے یہ پیغام دیا ہے کہ جو جوان مرد و خواتین جمہوری طریقے سے مودی کے ساتھ اختلاف رکھتے ہوں ،مودی ان سے خوفزدہ ہیں۔

جواہر لعل یو نیورسٹی کے سابق استاد اور نامور مورخ پروفیسر مکھیانے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آر ایس ایس کے یک سنگھی نظریات اور تکثیریت کے درمیان جنگ ہے ۔آر ایس ایس اپنے زعفرانی نظریات ٹھو نسنا چا ہتی ہے جبکہ جواہر لعل یو نیورسٹی کسی مخصوص فکر کو ہی حرف آخر نہیں سمجھتی۔ پروفیسر مکھیا نے مزید کہا کہ طلبہ کی گرفتاری اور ان پر غداری کے مقدمے چلانے کے پیچھے حکومت کی بد نیتی واضح نظر آرہی ہے کہ وہ طا قت کے بل پر اس نظریاتی جنگ کو جیتنا چا ہتی ہے ۔معروف بھارتی مورخ کے این پا نیکر ،جو خود اس یو نیورسٹی میں استاد بھی رہے ہیں نے پولیس ایکشن کو بد قسمتی قرار دے کر اس کی مذمت کی اور کہا کہ اس یو نیورسٹی نے معا شرے میں عقلی اور منطقی سوچ پروان چڑھا نے کا بیڑا اٹھایا ہے ۔اور اس قسم کی حرکات سے عالمی سطح پر اس کا تقدس پا مال ہورہا ہے ۔ کانگریس کے نا ئب صدر راہول گاندھی نے یو نیورسٹی کے طلبا ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت طالب علموں پر دھونس جمانے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ عمل مکمل طور پر قابل مذمت ہے۔جو لوگ طلبہ کی آواز کو دبا رہے ہیں وہ یہ نہیں جا نتے کہ اس طرح ان کی آواز مزید مستحکم اور توانا ہوگی۔ملک دشمن لوگ وہ ہیں جو طلبہ کی جمہوری آواز کو دبا رہے ہیں۔ سی پی آئی ایم کے جنرل سیکریٹری سیتا را م یچوری نے کہا کہ جواہر لعل یو نیورسٹی کے وائس چانسلر حکومت کے اشاروں پر ناچ رہا ہے اور انہوں نے ہی پولیس کو طلبا کیخلاف کریک ڈاون کی اجازت دی۔ایسا تمام یونیورسٹیوں میں ہورہا ہے اور مخلص وائس چانسلروں کو ہٹا کر ان کی جگہ ایسے لوگوں کو وائس چانسلروں کے عہدوں پر تعینات کیا جارہا ہے جو حکومت کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔یچوری نے مزید کہا ۔یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ طلبہ کو قوم دشمن قرار دیا جارہا ہے ۔

JNU-Delhi-protest-against-Afzal-Guru-incident

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے وزیراعظم نریندر مودی پر ہر کس وناکس کو دہشت زدہ کرنے کیلئے پولیس کا بیجا استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ان کی جماعت عام آدمی پارٹی کے ترجمان نے دہلی پولیس پر جے این یو طلبا اور اساتذہ کو ہراساں کرنے کیلئے آمرانہ اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا۔پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملہ نے بھاجپا حکومت کے طلبا دشمن چہرے کو بے نقاب کیاہے۔اتر پردیش کے وزیراور مسلم لیڈر اعظم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ بھاجپا حکومت جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کو بند کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ا سٹوڈنٹس یونین صدر کے خلاف لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’بھاجپا کا خفیہ ایجنڈا تعلیمی نظام اور تعلیمی ماحول کو زعفرانی رنگ میں رنگنا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا’’جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بارے میں بھی ایسا ہی وطیرہ اختیار کیاجارہا ہے‘‘۔خان نے کہا’’طلبا اپنے ہی ملک اور آئین کے خلاف آواز نہیں اٹھاسکتے۔یہ بھاجپا کی جے این یو کو بند کرنے کی تیاری ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ طلبا کے خلاف کارروائی بھاجپا کی حکمت عملی کا حصہ تھا جس کے تحت انہوں نے اپنے ایجنٹ بھیجے تھے اور انہوں نے ہی وہاں نعرے بازی کی۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر