وجود

... loading ...

وجود

پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل، جیش محمد کے دفاتر سربمہر

جمعرات 14 جنوری 2016 پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل، جیش محمد کے دفاتر سربمہر

nawaz-sharif

بھارت میں پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے کے حوالے سے پاکستان میں اُٹھائے جانے والے اقدامات نہایت حیرت انگیز طور پر دیکھے جارہے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یوں لگتا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کو اس معاملے میں کسی سطح پر کوئی مسئلے کا سامنا نہیں اور وہ بھارت کے ساتھ اعتماد افزا اقدامات میں کوئی بھی قدم اُٹھانے کو تیار ہے۔

اس کا تازہ ترین مظاہرہ وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اپیکس کمیٹی کے 13 جنوری کے اجلاس میں بعض اہم فیصلوں سے ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان، وزیرخزانہ اسحاق ڈار، سربراہ پاک فوج جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، مشیرخارجہ سرتاج عزیز، قومی سلامتی کے مشیر ناصرجنجوعہ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران اہم ملکی امور، نیشنل ایکشن پلان، پٹھان کوٹ حملے اور سعودی عرب ایران کشیدگی کے علاوہ دیگر اہم امورپرتبادلہ خیال کیا گیا۔ مگر اس اجلاس میں سب سے اہم معاملہ پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے سے متعلق پاکستانی تحقیقات سے متعلق رہا۔ اطلاعات کے مطابق شرکا نے بھارتی ایئربیس پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات اورتفتیش میں پیش رفت پراطمینان کا اظہارکیا۔ مگر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کی تحقیقات میں پیشرفت پر اطمینان سے مراد کیا ہے؟ کیا یہ اطمینان دراصل پاکستانی رابطوں کے پکڑے جانے پر ہے یا پھر اس میں پاکستان کے ملوث نہ ہونے پر ہے؟ آخر پاکستان میں اس قدر اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں فوجی سربراہ کی شمولیت کے ساتھ انعقاد اور اس کی خبر دینے کا مطلب کیا ہے؟ اس ضمن میں نوازحکومت بھارت کو کیا تاثر دینا چاہتی ہے؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ گرفتاریاں محض بھارت کی جانب سے ہونے والی کسی نشاندہی کی بنیا د پر ہی ہوئی ہیں یا پاکستان نے کسی سطح پر اپنی تفتیش کے ذریعے یہ اطمینان بھی کیا ہے کہ آیا جن افراد کو گرفتار کیا جارہا ہے وہ اس معاملے میں قابلِ تفتیش حد تک بھارت کے مہیا کردہ ثبوتوں میں مشکوک بھی ہیں یا نہیں؟

مذکورہ تمام سوالات سے قطع نظر وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے اپیکس کمیٹی کے جاری اعلامیےمیں کہا گیا ہے کہ پٹھان کوٹ واقعے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور بھارت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور ابتدائی تفتیش کی روشنی میں حملے میں ملوث ملزمان کو گرفتارکیا جاچکا ہے جن کا تعلق کالعدم جیش محمد سے ہے جب کہ ابتدائی معلومات کے مطابق کالعدم جیش محمد کے متعدد ارکان کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے دفاترسیل کردیئے گئے ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کے تحت پاکستان بھارت سے رابطے میں ہے اور حکومت ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو بھارتی حکام سے مشاورت کے بعد پٹھان کوٹ بھیجا جائے گا جب کہ پاکستان نے بھارت سے مزید معلومات بھی مانگ لی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ان اقدامات کے اُٹھائے جانے کی اطلاع بدقسمتی سے پاکستانی ذرائع ابلاغ سے ایک روز قبل بھارتی ذرائع ابلاغ کو ہو چکی تھیں۔ چنانچہ بھارتی ذرائع ابلاغ یہ اطلاع دے چکے تھے کہ پٹھان کوٹ ائیربیس حملے کے حوالے سے پاکستان میں اہم گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ گرفتاریاں محض بھارت کی جانب سے ہونے والی کسی نشاندہی کی بنیا د پر ہی ہوئی ہیں یا پاکستان نے کسی سطح پر اپنی تفتیش کے ذریعے یہ اطمینان بھی کیا ہے کہ آیا جن افراد کو گرفتار کیا جارہا ہے وہ اس معاملے میں قابلِ تفتیش حد تک بھارت کے مہیا کردہ ثبوتوں میں مشکوک بھی ہیں یا نہیں؟مذکورہ تمام سوالات کے جواب کسی بھی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔

مگر اس کے باوجود وزیر اعظم کی جانب سے پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے کی تحقیقات کے لئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی کوتشکیل دے دیا گیا ہے۔ جس میں پولیس، ایف آئی اے، ایم آئی، آئی ایس آئی، ایف آئی اے اور سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ) کے افسران شامل ہیں۔ مذکورہ کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی پنجاب رائے طاہر ہوں گے جب کہ کمیٹی میں آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر نعمان سعید، ملٹری انٹیلی جنس کے لیفٹیننٹ کرنل عرفان مرزا، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو عظیم ارشد، ڈائریکٹر ایف آئی اے عثمان انور اور ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم کے پی کے صلاح الدین شامل ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے بنائی گئی یہ کمیٹی پٹھان کوٹ حملے میں بعض افراد کے ملوث ہونے کی تحقیقات کرے گی جبکہ کمیٹی کسی بھی ادارے اور صوبائی حکومت سے معلومات اور معاونت بھی حاصل کرسکے گی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کمیٹی کو ابھی تحقیقات ہی کرنا ہے تو گرفتاریاں کس بنیاد پر ہوئی ہیں۔ کیا اس کی واحد بنیاد بھارت کی جانب سے ہونے والی نشاندہی ہے؟ وجودڈاٹ کام کو اپنے ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہےکہ اب تک اس ضمن میں جتنی بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں، وہ تمام کی تمام بھارت کی جانب سے مہیا کی گئی معلومات کی روشنی میں ہیں۔ اور تاحال پاکستان سے کسی بھی معاملے کی ایک کھلی تفتیش کی کوئی قابلِ اعتبار پیشرفت اس ضمن میں نہیں ہوئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ مذکورہ کمیٹی کی جانب سے اگر یہ ثابت ہوا کہ جیشِ محمد کے گرفتار افراد میں سے کوئی بھی اس واقعے میں سرے سے ملوث ہی نہیں ہے تو پھر نواز حکومت اس معاملے میں اتنی بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں کا کیا جواز دے سکے گی؟ جن میں ایک خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مولانا مسعود اظہر، اُن کے بھائی اور اُن کے بہنوئی تک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

مضامین
چون بہنوں کا اکلوتا بھائی وجود جمعرات 05 مارچ 2026
چون بہنوں کا اکلوتا بھائی

Crime and Punishment وجود جمعرات 05 مارچ 2026
Crime and Punishment

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ وجود جمعرات 05 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ

تیسری جنگ عظیم کی بنیاد وجود بدھ 04 مارچ 2026
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید وجود بدھ 04 مارچ 2026
بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر