وجود

... loading ...

وجود

فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کا دورہ افغانستان: مودی کی جارحانہ سفارت کاری کے بعد کیسا ثابت ہوگا؟

پیر 28 دسمبر 2015 فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کا دورہ افغانستان: مودی کی جارحانہ سفارت کاری کے بعد کیسا ثابت ہوگا؟

Raheel-Sharif-Ashraf-Ghani

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اتوار 27دسمبر کو اپنے ایک روزہ دورہ افغانستان میں افغان سیاسی اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔ جن میں سرحدوں کے انتظامی امور اور افغانستان میں امن کی بحالی کے علاوہ بہت سے امور زیرِ غور آئے۔ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتوں کے دوران میں جن اہم ترین امور پر غور کیا گیا اُن میں مشترکہ سلامتی کے لیے ضروری اقدامات بشمول معلومات کا تبادلہ، انسداد دہشت گردی آپریشنز پر باہمی تعاون اور افغان امن عمل جیسے موضوعات شامل ہیں۔

مذکورہ ملاقاتوں کے بعد ٹھوس پیش رفت کے طور پر جو اہم ترین بات طے ہو سکی ہے ، وہ افغانستان میں امن کے لیے آئندہ ماہ چار فریقی اجلاس کا انعقاد ہے۔ مذکورہ اجلاس میں پاکستان ، افغانستان ، امریکا اور چین شامل ہوں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر دونوں ممالک میں بہتر روابط اوردونوں ممالک کی سرحدوں کو کسی گروپ یا فرد کی جانب سے عبور کرنے کے دو طرفہ خدشات کم کرنے کے حوالے سے ایک طریقہ کار وضع کرنے پر زور دیا۔ واضح رہے کہ اس نکتے پر عام طور پر افغانستان کی جانب سے پیش رفت میں دلچسپی دکھائی نہیں جاتی۔ ملاقاتوں میں اس نکتے پربھی اتفاق کیا گیا کہ ایک دوسرے کی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف پر تشدد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

دونوں ممالک کی طرف سے اتفاق کیا گیا کہ جو طالبان گروپ امن عمل میں شامل ہونا چاہتے ہیں ،ان سے بات چیت کی جائے گی جبکہ پرتشدد کارروائیاں جاری رکھنے والے عناصر کے خلاف مشترکہ حکمت عمل سے نمٹا جائے گا۔

فوجی سربراہ کی ملاقاتوں میں دونوں ممالک کی طرف سے اتفاق کیا گیا کہ جو طالبان گروپ امن عمل میں شامل ہونا چاہتے ہیں ،ان سے بات چیت کی جائے گی جبکہ پرتشدد کارروائیاں جاری رکھنے والے عناصر کے خلاف مشترکہ حکمت عمل سے نمٹا جائے گا۔ تاہم یہ نکتہ پوری طرح واضح نہیں ہو سکا،کہ یہ بات چیت کب کی جائے گی، اور کس سطح پر کی جائے گی؟ نیز بات چیت کے لیے مشروط طور پر تیار طالبان کی پہلے سے عائدکردہ شرائط کے حوالے سے افغان حکام نے کیا لائحہ عمل طے کیا ہے؟مگر پاکستان افغانستان کے درمیان حالیہ بات چیت میں یہ پہلی بار ہو ا ہے کہ یہ طے کیا گیا کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات بہتر بنانے کے لیے دونوں ڈی جی ایم اوز کے درمیان ایک ہاٹ لائن تشکیل دیں گے۔

جنرل راحیل شریف رواں برس مئی میں وزیر اعظم نواز شریف کے ہمراہ افغانستان کے دورے پر گئے تھے۔ اور باور یہی کیا جاتا ہے کہ ان دونوں رہنماوؤں کے مشترکہ دورے نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جس کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا پہلا دور 7 جولائی کو مری میں ہوا تھا اور دوسرا دور 31 جولائی کو طے پایا تھا مگر عین ملاقات کے روز افغان طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد طالبان نے مذاکرات منسوخ کردیے گئے تھے۔

اس دوران میں پاکستان افغانستان کے تعلقات میں بھی تناؤ پیدا ہو گیا تھا جس کے باعث خو د فوجی سربراہ کا یہی دورہ جو پہلے رواں ماہ کے اوائل میں طے شدہ تھا ، تاخیر سے ہو سکا۔ اس ضمن میں نمایاں پیش رفت افغان صدر اشرف غنی کے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں 9 دسمبر کو شرکت کے لیے پاکستان آمد سے ہوئی تھی۔ جس کے دوران میں افغان امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

پاک فوج کے سربراہ نے افغانستان کا دورہ مودی کے دورہ افغانستان اور دہلی جاتے ہوئے پاکستان کے کچھ دیر کے دورے کے بعد کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے افغان پارلیمنٹ سے خطاب میں پاکستان کے خلاف سخت لب ولہجہ اختیار کیا تھا تاہم وہ اس کے فوراً بعد لاہور کچھ دیر کے لیے نواز شریف سے ملنے کے لیے بھی آ گئے تھے۔ اس پورے عمل پر فوج کی اعلیٰ قیادت کو اعتماد میں لیا گیا تھا یا نہیں اس پر ملک میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اس پورے معاملے میں فوج کا کردار کہیں پر بھی دکھائی دینے والا نہیں تھا۔ فوجی سربراہ نے اس کے فوراً بعد اپنے افغانستان کے دورے میں بعض اہم اُمور پر افغان حکمرانوں سے بات چیت کی ہے جو اب واضح طور پر بھارت کی طرف رخ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کے حالیہ دورہ افغانستان سےپاکستان افغانستان کے مابین گرمجوشی پر مبنی تعلقات کے کسی نئے دور کا آغاز ہوتا ہے یا نہیں؟


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر