وجود

... loading ...

وجود

کیا جہاز کا ایندھن اسٹیل کو پگھلا سکتا ہے؟ نائن الیون کا ایک معمہ

جمعه 25 دسمبر 2015 کیا جہاز کا ایندھن اسٹیل کو پگھلا سکتا ہے؟ نائن الیون کا ایک معمہ


15 دسمبر کو ٹرینٹن ٹائی نامی ایک لوہار نے دو منٹ کی ایک وڈیو پیش کی جس میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسٹیل پگھل سکتا ہے اور یوں اپنی دانست میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملے کے بارے میں حکومتی موقف کی مخالفت کرنے والے افراد کی “بولتی بند کرادی”، جو یہ کہتے ہیں کہ دراصل ورلڈ ٹریڈ سینٹر گرنے کی وجوہات کچھ اور تھیں۔ ان کی یہ وڈیو یوٹیوب پر7 ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھی جا چکی ہے اور اس کے پھیلتے ہی کارپوریٹ میڈیا اور حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے والی دیگر ویب سائٹوں نے اسے ثبوت کے طور پر مزید آگے پھیلانا شروع کردیا۔ واشنگٹن پوسٹ، ڈیلی مرر اور ہفنگٹن پوسٹ سب نے اس کے حق میں تحاریر پیش کی ہیں بلکہ ہفنگٹن پوسٹ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ “لوہار نے نائن الیون کا “سچ” بیان کرنے والوں کو اپنی چھنگلی سے چپ کرا دیا ہے۔”

ان تمام اداروں کے مضامین سے لگتا ہے کہ نائن الیون واقعے کی پس پردہ حقیقت کی چھان بین کرنے والوں کو اب خاموش ہو جانا چاہیے، انہیں بڑا ہو جانا چاہیے اور اصل کام کرنا چاہیے، لیکن کیا ٹرینٹن ٹائی کی وڈیو واقعی نائن الیون حملوں کی سرکاری کہانی کو حقیقت ثابت کرتی ہے؟

آرکی ٹیکٹس اینڈ انجینئرز فار نائن الیون ٹرتھ کے بانی رچرڈ گیج کہتے ہیں کہ فولاد کے نصف انچ ٹکڑے کو 1800 درجہ فارن ہائٹ تک گرم کرکے اسے باآسانی موڑ کر اس نظریے کو باطل ثابت کرنے کی کوشش بالکل غلط ہے۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری دلیل یہ ہے “آگ فولاد کو نہیں پگھلا سکتی، اس لیے آگ لگنے سے عمارات نہیں گر سکتیں۔” اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو وہ ان کی سوچ ہی غلط ہے۔ اصل میں پگھلتے فولاد کی دلیل صرف اس لیے پیش کی جاتی ہے کہ حکومتی عہدیداران، انجینئرز، امدادی کارکنوں اور مشاہدہ کرنے والے دیگر افراد نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاورز اور بلڈنگ نمبر سات میں پگھلے ہوئے فولاد کی بھاری مقدار دیکھی تھی۔ اتنی بڑی مقدار دفاتر میں لگنے والی آگ یا ٹکرانے والے جہاز کے جیٹ فیول سے نہیں آ سکتی۔ گیج اور اے اینڈ ای فار نائن الیون ٹرتھ کے مطابق قرین قیاس وضاحت تھرمائٹ ہوسکتی ہے، جو ایک آتش گیر ہے جو ایسے فولاد کو کاٹنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نائن الیون ٹرتھ کمیونٹی کے محققین طویل عرصے سے گراؤنڈ زیرو پر ملبے میں تھرمائٹ اور بلکہ اس سے کہیں زیادہ تیز نینو تھرمائٹ کی ممکنہ موجودگی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

پھر جیسا کہ بہت سارے لوگوں نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ ٹائی کا تجربہ اس لیے بھی ناکام ہے کیونکہ اس نے قبول کیا ہے کہ فولاد کے ٹکڑے کا نمونہ 1800 درجہ فارن ہائٹ پر گرم کیا گیا ہے، ایک ایسا درجہ حرارت جو اصل میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارات کے اندر نہیں تھا۔ گیگ کہتے ہیں کہ جیٹ فیول میں آگے لگنے کی صورت میں مخصوص صورتحال میں ہی 1500 درجہ فارن ہائٹ کے درجہ حرارت تک پہنچا جا سکتا ہے۔ لیکن کھلے مقامات، جیسا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارات میں یہ 600 درجہ فارن ہائٹ پر ہی جلا ہوگا۔ اگر حکومتی اداروں کی تحقیقات کو بھی دیکھا جائے تو اس امر کی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ اسٹیل اس درجہ حرارت پر جلا تھا اور اس لیے اپنی طاقت کھو بیٹھا۔ گیگ نے حوالہ دیا کہ مختلف اسٹیل ڈھانچوں پر مشتمل عمارات میں اس سے کہیں زیادہ دیر تک آگ لگی رہی ہے، لیکن کبھی کوئی عمارت اس طرح مکمل طور پر ڈھیر نہیں ہوئی، جس طرح ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تینوں عمارات ہوئیں۔

نائن الیون کے 14 سال مکمل ہونے پر بوسٹن گلوب میں ایک تحریر شائع ہوئی جو اسی سلسلے کا حصہ تھی کہ حکومتی ورژن پر سوال اٹھانے کی ہمت کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف مہم چلائی جائے۔ گیگ نے حال ہی میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعمیراتی ماہرین کی حیثیت سے ہم جدید تاریخ کی ان تین بدترین تعمیراتی ناکامیوں کی تحقیقات کر رہے ہیں، اور اس میں ہر گز اپنے ذاتی احساسات کو شامل نہیں رکھتے۔ اب تقریباً 2400 تعمیراتی ماہرین اور انجینئرز ہمارے ساتھ ہیں کیونکہ ہم سائنس پر یقین رکھتے ہیں۔

طبعی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ دفتروں میں مختلف مقامات پر لگنے والی آگ 47 منزلہ بلڈنگ نمبر 7 کے مکمل طور پر انہدام کا سبب نہیں ہو سکتی۔ تصور کیجیے کہ بوسٹن کا 52 منزلہ پروڈینشل ٹاور اس طرح آگ لگنے کے بعد محض سات سیکنڈوں میں مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن جائے۔ یہ یقین کرنا بہت مشکل ہے۔ شواہد بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز جہاز کے ٹکرانے اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ سے نہیں گرے۔ اس معاملے میں کافی الجھاؤ ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ہم لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ تمام شواہد کا مطالعہ کریں اور اس کے بعد ہی کسی نتیجے تک پہنچیں۔

کیا ٹرینٹن ٹائی کی وڈیو ثابت کرتی ہے کہ جیٹ فیول اسٹیل کے ستونوں کو پگھلا سکتا ہے؟ یا یہ بھی با اثر حلقوں کی جانب سے 11 ستمبر 2001ء کے واقعات کے حوالے سے امریکی عوام کو مسلسل اندھیرے میں رکھنے کی ایک کڑی ہے؟


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر