... loading ...

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اسلام باد میں ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔ دونوں ممالک جموں و کشمیر، وولر بیراج، سیاچین اور سر کریک پر بات چیت کریں گے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاک بھارت جامع مذاکرات پر دونوں ممالک کا اتفاق ہو گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے عوامی رابطوں میں اضافے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔یوں تو کسی بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ معمول کی بات سمجھا جاتا رہا ہے لیکن اس بار سفارتی حلقے 63سالہ بھارتی وزیر خارجہ شریمتی سشما سوراج کے دورہ اسلام آباد کو کافی اہمیت دے رہے ہیں ۔اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ نریندر مودی سرکار نے روز اول سے ہی بھارت کے اندر مسلم کش اور پاکستان کے ساتھ مخاصمت کی پالیسی اپناکر،نواز شریف حکومت کو دوراہے پر کھڑا کردیاکیونکہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف ملک کے اندرمخالفت کے با وجود نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئے۔ان کی والدہ کیلئے تحفے بھیجے اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے کا بھر پور پیغام دیا۔لیکن اس کے جواب میں کنٹرول لائن اور ورکنگ با ونڈری پر بھارتی فورسز کی اشتعال انگیزیوں میں اضا فہ ہوا،مذاکرات کا سلسلہ روک دیا گیا اور بلو چستان اور کراچی میں پاکستان مخالف عناصر کی سرپرستی کرکے،پاکستان کی حصے بخرے کرنے کے منصوبوں پرکا فی انو یسٹمنٹ کی گئی۔
گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نریندر مودی ایک سخت گیرہندو ،مسلم دشمن اور پاکستان دشمن کے طور پر اپنی ایک پہچان قائم کرچکے تھے تاہم بعض لوگوں کا خیال تھا کہ وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالنے کے بعد ،اسے اپنے رویے پر ضرور نظر ثا نی کرنی پڑے گی۔لیکن وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد کسی بھی موقع پر نریندر مودی نے اپنے سخت گیر اور متشددانہ رویے میں تبدیلی کا کوئی تاثر نہیں دیا۔مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کیا گیا اور خود بھارت کے اندر سرکاری سرپرستی میں گھر واپسی کے نام پر مسلمانوں کو ہندو مت قبول کرنے پر مجبور کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا۔ان حالات میں آج اسلام آباد میں سشما سوراج کا آنا،وزیر اعظم پاکستان اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے ساتھ مصافحہ کرنا اور پھر جامع مذاکرات کی نوید سنانا بظا ہر با لکل ایک مکمل یو ٹرن کا معاملہ دکھائی دے رہا ہے ۔جہاں 22اگست 2015کو دہلی میں سیکرٹری خارجہ کی سطح کے مذاکرات اس بنیاد پر منسوخ کئے گئے کہ دہلی میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز،حریت کانفرنس کے رہنماوں سے ملنا چاہتے تھے اور دہشت گردی کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی بات کرنا چا ہتے تھے۔ سشما سوراج صاحبہ نے پریس کانفرنس میں کہاکہ اگر سر تاج عزیز حریت کا نفرنس کے رہنما ؤں سے سے نہیں ملیں گے اور صرف دہشت گردی پر بات کریں گے تو ان کا استقبال ہے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کو جواب دینے کے لئے رات 12 بجے تک کی ڈیڈ لائن بھی دے دی۔لیکن کیا آج کا ان کا یہ دورہ اچا نک ہورہا ہے اور یہ حالات معجزاتی طور پر بدل گئے ہیں ،بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں پچھلے کئی ما ہ سے ٹریک ٹوڈ پلومیسی کا ایک اہم کردار رہا ہے ۔ کسی تیسرے ملک میں پاک بھارت اعلیٰ عہدیداروں کی اہم ملاقاتیں اور مذاکرات ہوئے۔ اس سے پہلے ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے لوگ بنکاک یا دوبئی میں ملے ۔مبصرین کہتے ہیں کہ سرکاری سطح پر بنکاک میں آر پار کے ڈائیلاگ کا یہ پہلا واقعہ ہے جس میں بھارت کی طرف سے اجیت ڈول اور پاکستان کی طرف سے جنرل(ر) ناصر جنجوعہ شامل تھے۔ جنرل (ر)ناصر جنجوعہ کی شمولیت سے واضح ہورہا ہے کہ فیصلہ سازی میں سول ملٹری ایک ہی پیج پر ہے۔
حالات و واقعات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ عالمی طا قتوں کی ایماء پر اندرون خانہ دونوں حکو متیں مشرف اور من موہن کے درمیان ہوئے مذاکراتی عمل کو وہیں سے شروع کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں ،جہاں سے مشرف کے جانے کے بعد معاملات کھٹائی میں پڑ گئے تھے۔اکتوبر 2015میں سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کے دورہ بھارت اور پھر بھارت میں اس کی کتاب”Neither a Hawk Nor a Dove”کی تقریبِ اجراء اور پھر بھارتی میڈیا میں مشرف کے چار نکاتی فارمولے کی نہ صرف باز گشت بلکہ خورشید قصوری کا چار نکاتی فارمولے کو ہی قابل عمل حل ثا بت کرنے کی کوششیں،اس امر کی طرف اشارہ کررہی تھیں کہ اندرون خانہ اسی فارمولے پر کام ہورہا ہے۔ واضح رہے کہ خورشید قصوری کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔9اکتو بر 2015کو بھارت کے ایک معروف اخبار انڈین ایکسپریس کے انٹرویو میں قصوری نے کہا کہ کیا نریندر مودی اور نواز شریف آئن سٹائن ہیں کہ وہ کشمیر کے بارے میں کوئی ایسا حل دے سکیں ،جو ہم نہ دے سکے۔انہوں نے مزیدکہا دونوں کو اسی حل پر جانا ہوگا جہاں مشرف اور من موہن پہنچ چکے تھے ،بے شک وہ اس کا نیانام مودی نواز فارمولا دیدیں۔اسلام آباد میں بھارتی وزیر خارجہ کی آمد،اس کی باڑی لنگویج،مودی کا نواز شریف کے نام محبت نامہ اور نواز شریف اور سرتاج عزیز کے سشما سوراج صاحبہ کے ساتھ گر مجوشی کے ساتھ مصا فحے اور اسلام آباد میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقاتیں اور دیگر اہم مصروفیات سے یہ گمان کرنا شا یدغلط نہ ہو کہ سا بق وزیر خارجہ کی بات سچ ثابت ہورہی ہے ۔اب صرف یہ دیکھنا ہے کہ کشمیری قیادت کا کردار کیا رہے گا،کیا وہ مشرف دور کی طرح ہی تقسیم در تقسیم کے مراحل سے گزرے گی یا پھر اپنی کوئی بات بھی منوانے کے قابل رہے گی؟
ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...
صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...
وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...
عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...
مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...
پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...
محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...
شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...
چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...
عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...
سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...
رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...