... loading ...

امریکا کا سعودی عرب کے ذریعے شام کے شمال مغربی علاقوں حماہ اور ادلب میں فراہم کردہ اسلحہ امریکا-روس کو ایک مرتبہ پھر 80ء کی دہائی کے حالات پر واپس لا رہا ہے۔ اس وقت افغانستان عالمی طاقتوں کی باہمی کشمکش کا میدان بنا ہوا تھا، اب شام ہے۔ لیکن یہ معاملہ افغانستان جتنا سیدھا سادا نہیں ہے۔ خاص طور پر گزشتہ چند دنوں میں ہونے والی پیشرفت نے حالات کو کافی تبدیل کردیا ہے۔
شمال مشرقی شام میں عرب اور کرد جنگجوؤں کا ایک اتحاد تشکیل پایا ہے جس میں کردوں کا عوامی حفاظت یونٹ (وائی پی جی) بھی شامل ہے۔ کیونکہ وائی پی جی تکنیکی طور پر کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے منسلک ہے، جو ترکی اور امریکا کی جانب سے ایک دہشت گرد تنظیم تسلیم کی گئی ہے، اس لیے ترکی اس اتحاد پر سخت تشویش میں مبتلا ہے۔
شام عرب اتحاد، جس کے 3200 عرب جنگجو شمال مشرقی شام میں موجود ہیں، یہ وائی پی جی کے ساتھ مل کر جمہوری شام افواج کے طور پر لڑ رہے ہیں۔
موجودہ تناظر میں ایک اہم حقیقت، جس سے صرف نظر کردیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ وائی پی جی بلاشبہ بہت اہم ہے، شام کی جمہوری قوتوں میں وہ بہت بڑا اور موثر عنصر ہے۔ 3200 عرب جنگجو اس کے محض چھوٹے ساتھی ہیں،وہ اپنے بل بوتے پر کبھی رقہ پر قبضہ نہیں کرسکتے۔یہ وائی پی جی ہی تھی جس نے موسم گرما میں داعش کو پیچھے دھکیلا اور نام نہاد خلافت کے اس دارالحکومت سےصرف 40 میل کے فاصلے تک پہنچی۔ اب وائی پی جی اور ان عربوں کو جمہوری شام افواج کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ رقہ پر عربوں کی فتح کو بائیں بازو کے کردوں کی کامیابی سے زیادہ قابل قبول سمجھا جائے گا۔
ایک ایسے وقت میں جب ایمنسٹی انٹرنیشنل وائی پی جی پر عرب اور ترکمان آبادی کے دیہات خالی کرانے اور ان کے گھر تباہ کرنے کا الزام لگا چکی ہے، شام عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ اسے امریکا کی جانب سے ہتھیاروں کی بڑی مقدار دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ داعش کے زیر انتظام شامی علاقوں کے دارالحکومت رقہ پر فیصلہ کن حملے میں مدد دے گا۔ امریکا نے 45 ٹن گولا بارود اور ہتھیار شامی عرب اتحاد کو دیے ہیں۔
جب موسم گرما میں ترک فوج نے شام اور عراق پر فضائی حملے کیے تھے تو انہوں نے وعدے کے مطابق داعش پر ضرب لگانے کے بجائے عراقی سرحد پر موجود کردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ شامی کردوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے وائی پی جی پر بھی حملے کیے، یعنی امریکا کے غیر اعلانیہ اتحادی پر۔
اس صورتحال پر ترک روزنامہ ینی شفق کے ابراہیم قرہ غول کہتے ہیں کہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا بیان کہ وائی پی جی امریکا کی دوست اور شراکت دار ہے اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کا بیان کہ ترکی کو اپنے فضائی حملے روکنے ہوں گے، ملا کر دیکھے جائیں تو ترکی کے لیے معاملہ خاصا نازک بن جاتا ہے۔ انقرہ کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ وائی پی جی گھر کا بھیدی ہے، جو لنکا ڈھائے گا اور اسے ترکی اور خطے کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر آپ غور سے دیکھیں تو نظر آئے گاکہ ترکی براہ راست ان کردوں کے حملے کی زد میں ہے۔ یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو شام میں روس اور ایران کی مداخلت کی اہم شریک ہے۔ اس پہلو سے دیکھیں تو خطرہ ہماری دہلیز پر کھڑا ہے اور ہمیں اس خطرے کو اپنی سرحدوں سے دور دھکیلنے کے لیے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
ترکی میں مسلم اور قوم پرست ذہنیت کےحامل دائیں بازو کی اس سوچ کے بارے میں امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن بھی جانتے ہیں اور انہوں نے اس کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی ہے۔ داعش پر فیصلہ کن ضرب لگانے میں انقرہ کے تساہل کے بعد امریکا نے کرد طاقتوں کے ساتھ قربتیں بڑھا لیں ہیں۔ وہ اب نہ صرف باغی عناصر کو ٹینک شکن اور دیگر اسلحہ دے رہا ہے بلکہ روس کے خلاف ایک اور پراکسی جنگ کا خطرہ بھی مول لے رہا ہے۔ وہ بھی ان کے ساتھ مل کر جو القاعدہ کے حامی عناصر ہیں۔
یوں شام میں جمہوری قوتوں کو امریکی اسلحے کی فراہمی سے نیٹو ساتھی امریکا اور ترکی کے درمیان نئی کشمکش کا آغاز ہوگا۔
امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...
ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...
ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...
فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...
جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...
امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...
ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...