وجود

... loading ...

وجود

تاریخ کے بدترین پاپائے اعظم

منگل 29 ستمبر 2015 تاریخ کے بدترین پاپائے اعظم

پاپائے اعظم روم پوپ فرانسس اس وقت امریکا کے دورے پر ہیں۔ دارالحکومت واشنگٹن میں ان کے استقبال کے لیے سڑکیں بند پڑی ہیں، عقیدت مند ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب دکھائی دیتے ہیں یہاں تک کہ صدر براک اوباما بھی ان کے لیے استقبالیہ دے رہے ہیں۔ پوپ فرانسس ایک مقدس ترین مقام کے “آزاد خیال” نگہبان سمجھے جاتے ہیں اور دنیا کے کئی اہم سیاسی و سماجی مسائل میں ان کی رائے کو اہم اور مہذب سمجھا جاتا ہے لیکن ویٹیکن کی 2 ہزار سالہ تاریخ میں سارے پوپ اتنے نیک نہیں تھے۔ ان میں غاصب بھی رہے ہیں، لالچی، فضول خرچ، جنگوں کے دلدادہ بھی اور انتہا درجے کے ظالم بھی۔

صدیوں تک پاپائیت یورپ کی سیاسی قوت کا مرکز و محور رہی ہے۔ مذہب کا لبادہ اوڑھے یہ پوپ اتنے ہی سنگ دل ثابت ہوئے جتنے کہ کوئی بھی عام بادشاہ۔ آئیے آپ کو تاریخ کے چند بدترین پاپائے روم سے ملاتے ہیں:

پوپ الیگزینڈر ششم:

Pope-Alexander-VI

اسپین کے طاقتور بورگیا خاندان سے تعلق رکھنے والے الیگزینڈر حد درجہ آوارہ مزاج ، بدقماش اور اقربا پرور تھے۔ آخری بات اتنی زیادہ حیران کن بھی نہیں ہے کیونکہ پیشرو کالکسٹس سوئم ان کے قریبی عزیز تھے، اور الیگزینڈر کے اس منصب تک پہنچنے کی راہ بھی انہوں نےہی ہموار کی تھی۔ بہرحال، الیگزینڈر 1492ء سے 1503ء کے درمیان پوپ کے عہدے پر فائز رہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کے اپنی ہی بیٹی کے ساتھ بھی تعلقات تھے۔ جب مر گئے تو لاش بہت جلد گلنے اور پھولنے لگی، جس کی وجہ سے سمجھا جاتا ہے کہ پوپ الیگزینڈر کو زہر دیا گیا تھا۔

پوپ اسٹیفن ششم:

Pope-Stephen-VI

896ء میں پوپ کی حیثیت سے اپنے عہد کا آغاز ہی پوپ اسٹیفن ششم نے انتہائی بھیانک انداز میں کیا۔ انہوں نے اپنے پیشرو پوپ فارموسس کی قبر کھود کر ان کی لاش نکالی اور توہین کے ارتکاب پر ان کے خلاف مقدمہ چلایا۔ فارموسس کا اصل جرم یہ تھا کہ وہ اقتدار کے ایوانوں میں اس حصے کی جانب میلان رکھتے تھے جو اسٹیفن کا مخالف تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسٹیفن فارموسس کی لاش پر دیوانہ وار چیختے رہے اور پھر سابق پوپ کی لاش کو تمام مقدس پوشاکوں سے محروم کردیا گیا۔ ان کے دائیں ہاتھ کی تین انگلیاں کاٹ کر لاش کو روم کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور پھر دریا برد کردیا گیا۔ ویسے خود اسٹیفن بھی زیادہ عرصے نہ جی سکے، اسی سال کے آخر میں اپنے دشمنوں کے ہاتھوں مارے گئے۔

پوپ جان دوازدہم:

Pope-John-XII

955ء لے کر 964ء میں اپنی اچانک موت تک پوپ کے عہدے پر فائز رہے۔ کیتھولک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ایک بھدے و بد اخلاق آدمی تھے۔ جھوٹی قسموں اور اپنے منصب کے عین برخلاف املاک کی خرید و فروخت اور دیگر جرائم کے مرتکب رہے۔ عہدے سے ہٹائے بھی گئے لیکن ایک مرتبہ پھر پاپائے روم بنے۔ ان کی موت بھی عجیب و غریب انداز میں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں ایک ایسے شخص نے قتل کیا، جس نے انہیں اپنی بیوی کے ساتھ بستر میں پایا تھا، یعنی “غیرت کے نام پر قتل”۔

پوپ اربن ششم:

Pope-Urban-VI

رومن کیتھولک چرچ میں عظیم فساد کے دوران پوپ کے عہدے پر فائز رہے، جس کی وجہ سے تقریباً چار دہائیوں تک متوازی پاپائیت قائم رہی۔ اربن سخت غصیلی طبیعت کے حامل تھے اور جب انہوں نے بغاوت کی ایک سازش پکڑی تو اس میں ملوث چھ پادریوں کو سخت اذیت دینے کے بعد موت کے گھاٹ اتارا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ان پادریوں پر تشدد کرنے والوں سے کہا تھا کہ آخر باغی پادریوں کی چیخوں کی آوازیں اتنی زیادہ کیوں نہیں آ رہیں؟

پوپ بینیڈکٹ نہم:

Pope-Benedict-IX

گیارہويں صدی میں تین مختلف مواقع پر پوپ بننے والی ایک بدنام زمانہ شخصیت، یہاں تک کہ ایک بار عہدے سے استعفیٰ بھی دیا اس طرح کہ پاپائیت کو ایک دوسرے پادری کے ہاتھ بیچ دیا۔ اوباش طبیعت کی وجہ سے بینیڈکٹ کے بارے میں گیارہويں صدی کے ایک پوپ نے کہا تھا کہ “ان کی زندگی اتنی نفرت انگیز، غلیظ اور ناپاک تھی کہ میں سوچ کر ہی لرز اٹھتا ہوں۔”

پوپ لیو دہم:

Pope-Leo-X

فلورنس کے طاقتور میڈیکی خاندان کے فرزند لیو کے پاس صلاحیت بھی تھی اور وہ علوم و فنون کے دلدادہ بھی تھے لیکن وہ اپنے پرتعیش طرز زندگی اور فضول خرچی کی وجہ سے یاد کیے جاتے ہیں۔ 1513ء سے 1521ء کے دوران انہوں نے زیادہ سے زیادہ آمدنی کے حصول کے لیے ویٹیکن کے خزانے خالی کردیے تھے۔ انہوں نے پادریوں کے خاص حقوق بھی غصب کرلیے تھے اور یہی عمل تھا جس نے مارٹن لوتھر کو اشتعال دلایا اور یہیں سے پروٹسٹنٹ فرقے کی بنیاد پڑی۔

پوپ بونیفیس ہشتم:

Pope-Boniface-VIII

یہ تھے اپنی طرز کے پہلے اقتدار کے بھوکے پوپ، جنہوں نے 1302ء میں یہ فرمان جاری کیا تھا کہ “اخروی نجات کے لیے بہت ضروری ہے کہ ہر انسان کو پوپ کا مطیع بنایا جائے۔” جاہ و حشم کے دلدادہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ تاریخ میں کسی بھی پوپ کا سب سے جارحانہ بیان ہے۔ انہوں نے جنگوں کے اعلانات کیے، کئی شہروں کو برباد کیا اور آخر میں دشمن کی فوج کے ہاتھوں شکست کے ساتھ اپنے اقتدار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔


متعلقہ خبریں


قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

مضامین
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار وجود هفته 24 جنوری 2026
سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار

جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر