وجود

... loading ...

وجود

واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟

اتوار 28 جون 2026 واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟

بے لگام / ستارچوہدری

کبھی آپ نے سوچا؟
کبھی آپ نے غورکیا کہ اس دنیا میں بہت سی حقیقتیں ہماری آنکھوں کے سامنے روزگزرتی ہیں، مگرہم انہیں دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے ، ہم پوری زندگی دوسروں کی غلطیاں تلاش کرتے رہتے ہیں، لیکن اپنی سوچ کے تضادات پرکبھی نظر نہیں ڈالتے ، شاید اسی لیے انسان نے ترقی تو بہت کر لی، مگر خود کو سمجھنے کا سفرابھی تک ادھورا ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
شراب بیچنے والے کو کبھی گھرگھر جا کر گاہک نہیں ڈھونڈنا پڑتا، لیکن دودھ بیچنے والا صبح سویرے گلی گلی آوازیں لگاتا پھرتا ہے ۔ پھر ہم دودھ والے سے پوچھتے ہیں، دودھ میں پانی کیوں ملایا؟ مگر شراب میں پانی اپنے ہاتھ سے ملا کر پیتے ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم میٹھی باتیں کرنے والوں کے گرویدہ ہو جاتے ہیں، اور سچ بات کہنے والے ہمیں سخت مزاج لگتے ہیں،حالانکہ نمک کڑوا ضرور ہے ، مگراس میں کبھی کیڑا نہیں لگتا، جبکہ مٹھائی کوجلد کیڑا لگ جاتا ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم تصویر کی خوبصورتی پرداد دیتے ہیں، فریم کی تعریف کرتے ہیں، رنگوں کی بات کرتے ہیں، مگر اس ایک چھوٹی سی کیل کو بھول جاتے ہیں جو خاموشی سے سارا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتی ہے ۔ شاید ہماری زندگی میں بھی بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے سہارے ہم کھڑے ہوتے ہیں، مگر تعریف ہمیشہ کسی اور کی ہوتی ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم موم بتی جلا کراپنے بچھڑ جانے والوں کو یاد کرتے ہیں، اور موم بتی بجھا کر کسی کی سالگرہ مناتے ہیں،ایک ہی شمع ہے ، مگرایک جگہ اس کی روشنی غم کی علامت بن جاتی ہے ، اور دوسری جگہ اس کا بجھ جانا خوشی کی رسم۔
کبھی آپ نے سوچا؟
پائل، جس کی قیمت ہزاروں میں ہوتی ہے ، وہ پیروں کی زینت بنتی ہے ، جبکہ معمولی قیمت کی بندی ماتھے پرسجتی ہے ۔ شاید انسان کی قدر ہمیشہ قیمت سے نہیں، بلکہ مقام سے ہوتی ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
قرآن اور انجیل نے کبھی ایک دوسرے سے جھگڑا نہیں کیا،اختلاف تو انسانوں نے پیدا کیا، جو اکثر اپنی اپنی کتابوں کے پیغام کو سمجھنے سے پہلے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو گئے ۔ کتابیں انسان کو جوڑنے کے لیے آئیں، مگر انسان نے انہیں بھی تقسیم کا ذریعہ بنا لیا۔
کبھی آپ نے سوچا؟
درخت خود کبھی اپنا پھل نہیں کھاتا، دریا اپنا پانی خود نہیں پیتا، سورج اپنی روشنی اپنے لیے نہیں بچاتا، اور پھول اپنی خوشبو خود محسوس نہیں کرتا،قدرت کی ہرخوبصورت چیزدوسروں کے لیے جیتی ہے ، مگر انسان اکثر صرف اپنے لیے جینے میں مصروف رہتا ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم مہنگی گھڑی خرید لیتے ہیں، مگروقت نہیں خرید سکتے ،نرم بسترخرید لیتے ہیں، مگر سکون کی نیند نہیں، بڑی بڑی کتابیں جمع کر لیتے ہیں، مگرحکمت کا ایک سبق نہیں سیکھتے ،دولت بڑھتی جاتی ہے ، مگر دل کا اطمینان کہیں پیچھے رہ جاتا ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم موبائل کی بیٹری ختم ہونے پر فوراً چارجر ڈھونڈ لیتے ہیں، مگرجب رشتوں کی محبت ختم ہونے لگتی ہے تو اسے چارج کرنے کی زحمت نہیں کرتے ۔ شاید اسی لیے آج گھروں میں سگنل تو پورے ہیں، مگردلوں کے درمیان رابطہ کمزورہوتا جا رہا ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم روزآئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنا چہرہ سنوارتے ہیں، مگر دل کے آئینے پر جمی ہوئی حسد، تکبراور نفرت کی گرد صاف کرنے کی فرصت نہیں نکالتے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم قلم خریدنے سے پہلے کئی دکانیں دیکھتے ہیں، مگر الفاظ بولنے سے پہلے ایک لمحہ بھی نہیں سوچتے ۔ حالانکہ ٹوٹی ہوئی نوک والا قلم بدلا جا سکتا ہے ، مگر زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ کبھی واپس نہیں آتا۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم دروازے پراچھا سا تالا لگاتے ہیں تاکہ چورگھر میں داخل نہ ہو سکے ، مگراپنے دل کا دروازہ لالچ، غروراور نفرت کے لیے ہروقت کھلا رکھتے ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا؟
جب جہاز اُڑتا ہے تو ہوا اس کے مخالف ہوتی ہے ، موافق نہیں۔ شاید اسی لیے کامیاب لوگ مخالفت سے گھبراتے نہیں، اسے اپنی پرواز کا سہارا بنا لیتے ہیں، جبکہ ہم معمولی سی تنقید پرہی ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم درخت کاٹنے والے کو مزدوری دیتے ہیں، مگردرخت لگانے والے کو اکثرپاگل سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایک کلہاڑی چند منٹ میں برسوں کی چھاؤں ختم کر دیتی ہے ، اور ایک پودا برسوں بعد کسی اجنبی کو سایہ دیتا ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم اپنی خوشیوں کی تصویریں دنیا کو فوراً دکھا دیتے ہیں، مگر اپنے والدین کی خاموش قربانیاں کبھی کسی تصویر میں قید نہیں کرتے ۔ حالانکہ ہماری ہرکامیابی کے پیچھے کسی نہ کسی کی بے آواز دعائیں کھڑی ہوتی ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم مرنے کے بعد قبر پرپھول رکھنے چلے جاتے ہیں، مگرزندہ لوگوں کی زندگی میں محبت کے دو پھول دینے میں کنجوسی کرتے ہیں۔ شاید ہمیں مرنے والوں کی خاموشی تو سنائی دیتی ہے ، مگرزندہ لوگوں کی خاموش تکلیف نہیں۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم دوسروں کی غلطیوں کو یاد رکھنے کے لیے حافظہ تیزرکھتے ہیں، مگردوسروں کے احسان یاد رکھنے میں ہماری یادداشت اکثرکمزور پڑجاتی ہے۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں تاکہ جسم پاک ہو جائے ، مگر دل کو نفرت، حسد اورتکبر سے پاک کرنے کی فکر کم ہی کرتے ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم ہرروز دنیا کی خبریں جاننے کے لیے بے چین رہتے ہیں، مگر اپنے ضمیر کی خبر لینے کے لیے چند لمحے بھی نہیں نکالتے ۔ ہمیں پوری دنیا کی فکر ہوتی ہے ، مگر اپنے اندر بستی دنیا اجڑتی رہے تو ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔
اورشاید۔۔ انسان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہ دوسروں کی زندگی کتاب کی طرح پڑھ لیتا ہے ، مگر اپنی زندگی کا ایک صفحہ بھی غور سے نہیں پڑھتا۔وہ چاند تک پہنچ گیا، سمندر کی تہہ ناپ لی، آسمان کی وسعتوں کو چیردیا، مصنوعی ذہانت بنا لی، حیرت انگیزمشینیں ایجاد کر لیں۔ مگر اپنے دل کی گہرائی میں چھپی خود غرضی، منافقت، لالچ اورانا پرآج تک قابو نہ پا سکا۔یہ دنیا تضادات سے نہیں، انسان کے تضاد سے بھری ہوئی ہے ۔ ہم سچ کی تعریف کرتے ہیں، مگرجھوٹ بولتے ہیں۔ انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، مگراپنے مفاد پرانصاف بھول جاتے ہیں۔ محبت چاہتے ہیں، مگر معاف کرنا نہیں چاہتے ۔ عزت مانگتے ہیں، مگر دوسروں کی عزت کا خیال نہیں رکھتے ۔
واہ انسان!!
کیسا ہے تو؟
کب سدھرے گا؟
یا شاید۔۔ سوال یہ نہیں کہ توکب سدھرے گا؟
سوال یہ ہے کہ تو سدھرنا بھی چاہتا ہے ؟
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی وجود اتوار 28 جون 2026
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی

واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟ وجود اتوار 28 جون 2026
واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟

اپنے خوف پر حکومت نہیں کی جاسکتی! وجود اتوار 28 جون 2026
اپنے خوف پر حکومت نہیں کی جاسکتی!

بنگلہ دیش وچین کی شراکت داری وجود اتوار 28 جون 2026
بنگلہ دیش وچین کی شراکت داری

تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم وجود اتوار 28 جون 2026
تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر