وجود

... loading ...

وجود

بنگلہ دیش وچین کی شراکت داری

اتوار 28 جون 2026 بنگلہ دیش وچین کی شراکت داری

حمیداللہ بھٹی

بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعدپہلے غیر ملکی دورے کا آغازملائیشیا اور چین سے کیا ہے، جس سے بنگلہ دیشی ترجیحات کی طرف اِشارہ ہوتا ہے۔ عام انتحابات میں جب اُن کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(بی این پی) نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تو عام قیاس تھاکہ بنگلہ دیش اپنی جغرافیائی مجبوریوں کے پیشِ نظر بھارت کو نظر انداز کرنے کی سوچ ترک کرسکتاہے، جس سے تعلقات اگر گرمجوشی پر مبنی نہیں تو اچھی ہمسائیگی والے ضرورہوجائیں گے ۔مگر نئی حکومت کوشش کے باوجود عبوری حکومت کی زیادہ تر پالیسیاں بدل نہیں سکی اورکوششوں سے محض اِتنا فرق آیا ہے کہ بھارت نے رواں ماہ 28 جون سے سیاحتی ویزوں کااجرا دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن سرحدی اور مہاجرت کے مسائل پرتنائو برقرارہے۔ طارق رحمان کا 24جون سے چین کا تین روزہ سرکاری دورہ ثابت کرتا ہے کہ بنگلہ دیش کا چین پر انحصارکم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے، حالانکہ اُس کی معیشت امریکی برآمدات پر زیادہ انحصار کرتی ہے مگر چین بھی بنگلہ دیش کاسب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں اہم اور غالب کردارکاحامل ہے۔ اسی لیے بنگلہ دیش اب چین کی طرف مائل ہے ۔یہ جھکائو خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو نمایاں کرتا ہے۔
بنگلہ دیش پرامریکہ ،چین اور بھارت کا دبائو ہے تینوں ہی جنوبی ایشیا کے اِس ملک پرغلبہ چاہتے ہیں عالمی سطح پرجاری چین اور امریکہ کی مسابقت بنگلہ دیش میں بھی نظرآتی ہے نئی حکومت کی کوشش ہے کہ دونوں اہم اقتصادی شراکت داروں میں توازن سے چلے تاکہ مزید پیچیدگیاں جنم نہ لیں ۔بنگلہ دیشی مصنوعات پر محصولات کے ا ضافہ کو دراصل ڈھاکہ کو بیجنگ سے دوررکھنے کی امریکی کوشش تھی لیکن بات نہیں بن سکی۔ بنگلہ دیش اب چین کی طرف جُھک رہا ہے جس کی کئی وجوہات ہیں جو بنگلہ دیش کی نئی قیادت کو چین کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔
امریکہ اتحادیوں کو مارکیٹ تک آسان رسائی دیتا ہے لیکن سرمائے کی منتقلی روکنے کی کوشش بھی کرتا ہے ۔دفاعی تعاون میں کئی طرح کی پابندیاں اور رکاوٹیں بھی لگاتا ہے جو امریکی ضرورت واہمیت کم کرتی ہیں لیکن چین دفاعی سامان کے ساتھ تکنیکی مہارت بھی دیتاہے ۔بنگلہ دیش کااپنے دفاع کے لیے چین سے 24 جدید ترین لڑاکا طیارے خریدنے یہی سہولت کارفرماہے ۔چین بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے لے کر صنعتوں کو رواں رکھنے میں مدددیتاہے ۔مزید یہ کہ اِس تعاون میں ڈالر کا عمل دخل نہیں ہوتا ۔یہ طریقہ کار زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دبائو میں کمی لاتاہے۔ علاوہ ازیں امریکی احکامات جاری کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ چین کا طرزِعمل دوستانہ اوربرابری کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اسی لیے چین اکثر ممالک کی ترجیح ہے ۔حالانکہ چین کا ترقی پزیر ممالک کوبے تحاشہ قرضے جاری کرنا اور اُن کی معیشت کے لیے ضروری عنصر بننا آزادانہ معیشت کی سوچ کو کمزور کرتا ہے۔ لیکن اکثر ترقی پذیر ممالک کی قیادت قرضوں سے معیشت چلانے کو آسان سمجھ کرچینی قرضوں میں پھنس رہی ہے، جس سے خود انحصاری کی راہ میں رخنہ آتا ہے۔ مگر ڈالر کا متبادل اور قرضوں کا سہل اجراچین کواہم کرتا ہے۔ یہی کچھ بنگلہ دیش کررہا ہے ۔
چینی وزیرِ اعظم لی کیانگ کی دعوت پر بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم طارق رحمان کاتین روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ جانا دونوں ممالک میں بڑھتی قربت کامظہر ہے ۔دورے میں چینی صدرشی اور وزیرِ اعظم لی کیانگ اور دیگر سے ملاقاتوں میں کئی معاہدے ہوئے۔ تین اطراف سے بھارت میں گھرے ملک کی یہ آزاد خارجہ پالیسی کیا نئی دہلی کو پسند آئے گی؟ اِس کا جواب ہاں میں نہیں کیونکہ چین سے مقابلے کا دعویدار بھارت ہرگزنہیں چاہے گاکہ ایسا ملک جوعشروں سے اُس کا محتاج رہا، اب اچانک برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی بات کرے اور بھارت مخالف کیمپ میں جائے۔ اسی بناپر بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں مزید سرد مہری یا کشیدگی کے امکان کو رَد نہیں کیا جاسکتا ۔ 2024میں عوامی بغاوت کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میںکشیدگی بڑھی تاہم رواں برس فروری میں طارق رحمان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی حد تک بہتری آئی۔ اگرچہ بعض معاملات میں اختلافات موجود ہیںعلاقائی کشمکش کے تناظر میں یہ دورہ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق طارق رحمان کے اولیں غیر ملکی دورے سے واضح ہوگیا کہ بنگلہ دیش کے لیے دفاعی اور اقتصادی حوالے سے بھارت سے چین زیادہ اہم ہے۔
بھارت نے بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم کے پہلے غیر ملکی دورے کو پسند نہیں کیا۔ شاید اُس کا خیال تھا کہ نئی حکومت بھارت کو اہمیت دے گی۔ بھارت ،بھوٹان جیسے ممالک نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم کو دورے کی باضابطہ دعوت بھی دے رکھی ہے ،مگر ابھی جزیات طے کرنے تک بات ہے۔ بیجنگ کے دورے کی خبروں پربنگلہ دیشی وزیر اعظم کے مشیر زاہدالرحمن کوبھارت نے داخلے سے روک دیا۔ سفارتی سطح پر پیشگی اطلاع کے باوجود بھارت کا یہ اقدام تشویشناک ہے ،بعدازاں اعلیٰ حکام کی مداخلت سے داخلے کی اجازت دیدی گئی لیکن مہمان نے دہلی ائیرپورٹ پراڑھائی گھنٹے کی پوچھ تاچھ سے دل گرفتہ ہو کر رِم ایسوسی ایشن کے اجلاس میں شرکت ہی نہ کی اور اجازت کے باوجود کو لمبوکے راستے واپس ڈھاکہ چلے گئے ،جہاں بھارتی رویے کے خلاف خوب غم وغصہ ظاہر کیا ۔یہ واقعہ مزید تنائوکاباعث بن سکتا ہے ۔بھارتی وزیر اعظم مودی اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس میں ملاقات ہوئی تھی جس میں اختلافی امور حل کرنے کے حوالہ سے تبادلہ خیال ہوالیکن زیادہ بہتری نہ آسکی۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ چین کے زیر اثر آکر بنگلہ دیش مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ خاص طورپر سلی گوڑی کوریڈور جسے چکن نِک(مرغ کی گردن)کہا جاتا ہے جو مرکزی بھارت کو سات شمال مشرقی ریاستوں سے ملاتا ہے ۔یہ مغربی بنگال کی اہم زمینی پٹی ہے جس کاتحفظ بھارت کے لیے اہم ہے۔ وگرنہ شمال مشرقی ساتوں ریاستیں ملک سے کٹ سکتی ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی حکومت کو اہم اقتصادی شراکت داروں میں جس پیچیدہ توازن کا سامنا ہے کیا وہ توازن لاتی ہے یا کسی ایک کو ترجیح دیتی ہے؟اِس کا درست جواب حاصل کرنے کے لیے کچھ عرصہ انتظار مناسب ہوگا۔
٭٭٭

 


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی وجود اتوار 28 جون 2026
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی

واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟ وجود اتوار 28 جون 2026
واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟

اپنے خوف پر حکومت نہیں کی جاسکتی! وجود اتوار 28 جون 2026
اپنے خوف پر حکومت نہیں کی جاسکتی!

بنگلہ دیش وچین کی شراکت داری وجود اتوار 28 جون 2026
بنگلہ دیش وچین کی شراکت داری

تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم وجود اتوار 28 جون 2026
تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر